کالعدم تنظیم کے دہشتگرد لاہور پہنچ گئے بڑے حملے کا خدشہ
مینار پاکستان، تاریخی مقامات، عوامی مراکز سمیت بڑے ہوٹلز نشانہ ہو سکتے ہیں، سیکیورٹی الرٹ
قائد اعظم ریذیڈنسی زیارت جیسا حملہ ہوسکتا ہے، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کا مراسلہ. فوٹو: فائل
حساس اداروں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور میں دہشت گردی کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کے علاوہ مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دیں۔
نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل نے لاہور میں قائداعظم ریذیڈنسی زیارت جیسے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ بدھ کو نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل نے پاک فوج، حساس اداروں اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیاکہ لاہور میں قائد ریذیڈنسی زیارت جیسے حملے کا خدشہ ہے، کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گرد لاہور پہنچ چکے ہیں۔
لاہور میں ممکنہ طور پر دہشت گردوں کا نشانہ مینار پاکستان، تاریخی مقامات، مختلف عوامی مراکز سمیت بڑے ہوٹلز ہو سکتے ہیں۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے انتباہ کے بعد حساس اداروں سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کی سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر کاررروائیاں شروع کر دیں۔ سی پی او آفس لاہور کے مطابق نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل کے مراسلے کے بعد لاہور کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل نے لاہور میں قائداعظم ریذیڈنسی زیارت جیسے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ بدھ کو نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل نے پاک فوج، حساس اداروں اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیاکہ لاہور میں قائد ریذیڈنسی زیارت جیسے حملے کا خدشہ ہے، کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گرد لاہور پہنچ چکے ہیں۔
لاہور میں ممکنہ طور پر دہشت گردوں کا نشانہ مینار پاکستان، تاریخی مقامات، مختلف عوامی مراکز سمیت بڑے ہوٹلز ہو سکتے ہیں۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے انتباہ کے بعد حساس اداروں سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کی سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر کاررروائیاں شروع کر دیں۔ سی پی او آفس لاہور کے مطابق نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل کے مراسلے کے بعد لاہور کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔