گندگی و غلاظت کے ڈھیر مختلف بیماریوں نے شہر کو لپیٹ میں لے لیا

شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے مچھروں، مکھیوں اور مختلف حشرت الارض کی افزائش نسل میں بھی اضافہ ہوگیا

شہر میں جگہ جگہ گندگی وغلاظت اور کوڑے دانوں میں جمع کچرے سے تعفن پھیل رہا ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
شہر میں بارش اور گندگی و غلاظت کی وجہ سے تعفن پھیل رہا ہے۔

شہر میں بارش اور گندگی و غلاظت کی وجہ سے تعفن پھیل رہا ہے، بارش کے جمع ہونے والے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے مچھروں، مکھیوں اور مختلف حشرت الارض کی افزائش نسل بھی تیزی سے ہورہی ہے جبکہ جگہ جگہ گندگی وغلاظت اور کوڑے دانوں میں جمع کچرے سے تعفن پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے مختلف وائرل نے شہرکو اپنی لیپٹ میں لے لیا جس نے شہر میں بخارکی وبا پھیلادی ہے۔

متاثرہ مریض گلے کی خرابی، شدید زکام، الرجی، جسم میں شدید درد کی شکایتوںکے ساتھ مختلف اسپتالوں میں رپورٹ ہورہے ہیں، ماہرین طب نے کہا کہ شہر میںگندگی وغلاظت سے اٹھنے والا تعفن مختلف امراض کا سبب بن رہا ہے جن سے بچے اور کم قوت مدافعت رکھنے والے افراد متاثر ہورہے ہیں، دوسری جانب ملیریا اور ڈنگی وائرس کی علامات میں بھی یومیہ درجنوں افراد اسپتالوں میں رپورٹ ہورہے ہیں۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مکھیوں، مچھروںکی بہتات سے خوف زدہ شہریوں نے اپنی مددآپ کے تحت احتیاطی تدابیر شروع کردی ہیں، بارشوں کے موسم میں غیر معیاری کھانے پینے اور گلی سٹری اشیا کے استعمال سے ڈائریا کا مرض جنم لیتا ہے جبکہ آلود پانی کے استعمال سے ہیضہ، ہیپاٹائٹس اے ،گیسٹرو اور پیٹ کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

ان ماہرین نے بتایا کہ بارش کے جمع گندے پانی میں بچوں کو نہانے یا اس گندے پانی میں کھیلنے سے منع کریں کیونکہ گندہ پانی میں موجود مختلف جراثیم بچوںکے جسم میں لگ جاتے ہیں اور گھروں میں پہنچ جاتے ہیں، ماہرین نے بتایا کہ ان وبائی امراض سے بچنے کیلیے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی ضروری ہیں۔


پانی کو اچھی طرح ابال کر استعمال کریں، باسی کھانوں سے اجتناب کریں، بازار کے غیر معیاری کھانے پینے سے پرہیز کریں،گھر میں سبزیوںکے استعمال مفید ہوتا ہے، ادھر ڈنگی سیل کے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق مزید2 مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد ان مریضوں کی تعداد 191ہوگئی۔

بارش کے جمع ہونے والے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے مچھروں، مکھیوں اور مختلف حشرت الارض کی افزائش نسل بھی تیزی سے ہورہی ہے جبکہ جگہ جگہ گندگی وغلاظت اور کوڑے دانوں میں جمع کچرے سے تعفن پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے مختلف وائرل نے شہرکو اپنی لیپٹ میں لے لیا جس نے شہر میں بخارکی وبا پھیلادی ہے۔

متاثرہ مریض گلے کی خرابی، شدید زکام، الرجی، جسم میں شدید درد کی شکایتوںکے ساتھ مختلف اسپتالوں میں رپورٹ ہورہے ہیں، ماہرین طب نے کہا کہ شہر میںگندگی وغلاظت سے اٹھنے والا تعفن مختلف امراض کا سبب بن رہا ہے جن سے بچے اور کم قوت مدافعت رکھنے والے افراد متاثر ہورہے ہیں، دوسری جانب ملیریا اور ڈنگی وائرس کی علامات میں بھی یومیہ درجنوں افراد اسپتالوں میں رپورٹ ہورہے ہیں۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مکھیوں، مچھروںکی بہتات سے خوف زدہ شہریوں نے اپنی مددآپ کے تحت احتیاطی تدابیر شروع کردی ہیں، بارشوں کے موسم میں غیر معیاری کھانے پینے اور گلی سٹری اشیا کے استعمال سے ڈائریا کا مرض جنم لیتا ہے جبکہ آلود پانی کے استعمال سے ہیضہ، ہیپاٹائٹس اے ،گیسٹرو اور پیٹ کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

ان ماہرین نے بتایا کہ بارش کے جمع گندے پانی میں بچوں کو نہانے یا اس گندے پانی میں کھیلنے سے منع کریں کیونکہ گندہ پانی میں موجود مختلف جراثیم بچوںکے جسم میں لگ جاتے ہیں اور گھروں میں پہنچ جاتے ہیں، ماہرین نے بتایا کہ ان وبائی امراض سے بچنے کیلیے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی ضروری ہیں، پانی کو اچھی طرح ابال کر استعمال کریں۔

باسی کھانوں سے اجتناب کریں، بازار کے غیر معیاری کھانے پینے سے پرہیز کریں،گھر میں سبزیوںکے استعمال مفید ہوتا ہے، ادھر ڈنگی سیل کے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق مزید2 مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد ان مریضوں کی تعداد 191ہوگئی۔
Load Next Story