پاکستانی سفیر کی طلبی
ایران نے مغوی ایرانی سرحدی گارڈ کی ہلاکت کی رپورٹ پر پاکستان کو وارننگ جاری کی ہے
حکومت کو چاہیے کہ وہ ایرانی مغوی فوجی کے قتل کی تحقیقات کرائے اور برادر اسلامی ملک ایران کی شکایات کو دور کرے۔ فوٹو:فائل
ایران نے مغوی ایرانی سرحدی گارڈ کی ہلاکت کی رپورٹ پر پاکستان کو وارننگ جاری کی ہے اور پاکستانی سفیر کو طلب کر کے واقعہ پر وضاحت مانگی ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلیفون کر کے ایرانی سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی دفتر خارجہ نے پاکستانی سفیر نور محمد جادمانی کو طلب کر کے وضاحت طلب کی کہ پاکستان بتائے کہ وہ مغوی ایرانی فوجی کے قتل کے واقعہ سے کیسے لاعلم ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت پاکستان دہشتگردو ں کی شناخت، اغواکاروں کی گرفتاری اور دیگر مغویوں کی بازیابی کے لیے اقدامات اٹھائے۔ پاکستان اغواکاروں کو گرفتار کر کے ایران کے حوالے کرے۔ ایرانی فوجی کا پاکستانی علاقے میں قتل ایک سنگین واقعہ ہے۔ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ ایک آزمودہ دوست اور برادر مسلم ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے باشندے صدیوں پرانے ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ملک کی جانب سے پاکستان کو وارننگ ملنا یا پاکستانی سفیر کی طلبی یقینی طور پر قابل توجہ واقعہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان سے بات کی ہے۔ پاکستان میں کسی ایسے جنگجو گروہ کو اتنی جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات متاثر ہوں۔ بلوچستان خاصے عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔ یہاں کئی قسم کے گروہ کام کر رہے ہیں۔ یہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی کلنگ ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ نسلی بنیادوں پر بھی لوگوں کو مارا گیا ہے۔ اسی علاقے میں کئی افراد کو لاپتہ بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ بھی کچھ نہ خوشگوار واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اتنے کثیر الجہتی معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی تنظیمیں طاقتور ہوتی گئیں جو گروہی مقاصد کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ایجنسیوں کے پروردہ افراد نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان معاملات نے یکجا ہو کر حالات کو زیادہ سنگین بنایا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایرانی مغوی فوجی کے قتل کی تحقیقات کرائے اور برادر اسلامی ملک ایران کی شکایات کو دور کرے۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ ایک آزمودہ دوست اور برادر مسلم ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے باشندے صدیوں پرانے ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ملک کی جانب سے پاکستان کو وارننگ ملنا یا پاکستانی سفیر کی طلبی یقینی طور پر قابل توجہ واقعہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان سے بات کی ہے۔ پاکستان میں کسی ایسے جنگجو گروہ کو اتنی جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات متاثر ہوں۔ بلوچستان خاصے عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔ یہاں کئی قسم کے گروہ کام کر رہے ہیں۔ یہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی کلنگ ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ نسلی بنیادوں پر بھی لوگوں کو مارا گیا ہے۔ اسی علاقے میں کئی افراد کو لاپتہ بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ بھی کچھ نہ خوشگوار واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اتنے کثیر الجہتی معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی تنظیمیں طاقتور ہوتی گئیں جو گروہی مقاصد کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ایجنسیوں کے پروردہ افراد نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان معاملات نے یکجا ہو کر حالات کو زیادہ سنگین بنایا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایرانی مغوی فوجی کے قتل کی تحقیقات کرائے اور برادر اسلامی ملک ایران کی شکایات کو دور کرے۔