3 روز گزرگئے مومن آباد پولیس عامل کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگاسکی

محمد افضل6 بچوں کا اور 15سال سے تعویذ گنڈے اور عملیات کا کام کرتا تھا

مقتول عامل محمد افضل۔ فوٹو: فائل

مومن آباد انویسٹی گیشن پولیس3 روز گزر جانے کے باوجود عامل کے قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی، مقتول6 بچوں کا باپ تھا اور گزشتہ 15سال سے تعویذ گنڈے اور عملیات کا کام کرتا تھا جبکہ اس سے قبل چوڑیاں فروخت کرتا تھا۔


تفتیشی پولیس نے مقتول عامل کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کر کے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کردی، تفصیلات کے مطابق25 مارچ کو مومن آباد تھانے کی حدود اورنگی ٹائون سیکٹر10 صدف کالونی مکان نمبر E112 کے گرائونڈ فلور میں قائم آستانے میں داخل ہو کر نامعلوم مسلح ملزمان نے48 سالہ عامل محمد افضل ولد عبدالشکور کو تیز دھار آلہ کے وار کر کے قتل کردیا اور فرار ہوتے ہوئے مقتول کا موبائل فون، نقد رقم اور دیگر ضروری سامان بھی ہمراہ لے گئے تھے،پولیس نے مقتول عامل کے بھتیجے عبدالغفار کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ الزام نمبر77/014 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش کردی تھی، قتل کے واقعے کو3 روز گزر جانے کے باوجود تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی،تفتیشی پولیس نے مقتول کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کر کے قتل کی واردات کی مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کردی ہے۔

تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات مکمل منصوبہ بندی کے تحت کی گئی جس وقت واردات ہوئی اس وقت عموماً مقتول آستانے پر موجود نہیں ہوتا تھا، شبہ ہے قتل میں کوئی قریبی شخص ملوث ہے اور اسی وجہ سے قتل کے لیے خاموش ہتھیاروں کا استعمال کیا، علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتول چند ماہ سے اپنے آستانے میں نہیں بیٹھ رہے تھے اور لوگوں کا آنا جانا بھی انتہائی کم تھا،جس وقت قتل کی واردات ہوئی علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے باعث بجلی کی سپلائی معطل تھی، مقتول کے اہلخانہ نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق لاڑکانہ سے ہے، مقتول15سال سے تعویز گنڈے اور عملیات کا کام کرتے تھے، مقتول کے سوگواران میں 6 بچے چھوڑے جن میں 4 بیٹے اور2 بیٹیاں شامل ہیں،9 ماہ قبل مقتول کی اہلیہ بھی شدید علالت کے باعث انتقال کر گئی تھیں، انھوں نے بتایا کہ مقتول پیشے کے اعتبار سے چوڑیوں کی فروخت کا کاروبار کرتا تھا، مقتول کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کا جلد از جلد سراغ لگایا جائے۔
Load Next Story