پرامن مستحکم اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتے ہیںصدر ممنون
پڑوسی ممالک سے برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں،کابل میں سربراہی اجلاس سے خطاب
کابل میں افغان صدرحامد کرزئی سے ان کے پاکستانی ہم منصب ممنون حسین ملاقات کررہے ہیں ۔ فوٹو : آن لائن
صدر ممنون حسین نے خطے کو درپیش انتہا پسندی، دہشت گردی، منشیات سمگلنگ اور منظم جرائم کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلیے دوطرفہ اور علاقائی سطح پر تعاون کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں بہتر اور تابناک مستقبل کی مستحق ہیں۔
ان کی توقعات اور امنگوں کو ایک پرامن ماحول اور استحکام کی فضاء میں ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان امن و استحکام کی جستجو کے حصول میں افغان عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو کابل میں پاکستان، افغانستان، ایران اور تاجکستان کے چہار جہتی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان، افغانستان، ایران اور تاجکستان مشترک تاریخ، ثقافت اور عقیدے کے دیرینہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
ہمارا مشترکہ ماضی ایک پرامید مستقبل کے مشترک وژن کی تشکیل کیلئے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس سے قبل ممنون حسین نے افغان صدر حامد کرزئی اور ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ ایرانی ہم منصب سے مغوی گارڈز کے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور روحانی سے دیگر مغویوں کے متعلق مزید معلومات دینے کی درخواست کی۔ بعدازاں جشن نو روز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون نے کہا ہے کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک سے برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
ان کی توقعات اور امنگوں کو ایک پرامن ماحول اور استحکام کی فضاء میں ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان امن و استحکام کی جستجو کے حصول میں افغان عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو کابل میں پاکستان، افغانستان، ایران اور تاجکستان کے چہار جہتی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان، افغانستان، ایران اور تاجکستان مشترک تاریخ، ثقافت اور عقیدے کے دیرینہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
ہمارا مشترکہ ماضی ایک پرامید مستقبل کے مشترک وژن کی تشکیل کیلئے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس سے قبل ممنون حسین نے افغان صدر حامد کرزئی اور ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ ایرانی ہم منصب سے مغوی گارڈز کے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور روحانی سے دیگر مغویوں کے متعلق مزید معلومات دینے کی درخواست کی۔ بعدازاں جشن نو روز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون نے کہا ہے کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک سے برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔