تھر میں خصوصی پیکیج کی تیاری کیلیے کمیٹیاں قائم ایک بھی موت غذائی قلت سے نہیں ہوئی وزیراعلیٰ
خصوصی صحت پیکیج تھرکے تمام اسٹیک ہولڈرزکی باہمی مشاورت سے تیارکیاجائے،تمام تراقدامات بروئے کارلارہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ
کراچی: وزیراعلیٰ قائم علی شاہ امتحانی مراکز میں سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
ISLAMABAD:
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے پھرکہاہے کہ تھرپارکرمیں ایک بھی موت غذا کی قلت کے باعث نہیں ہوئی، انھوں نے ضلع تھرپارکر کیلیے خصو صی پیکیج فراہم کرنے کے لیے2مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں اور انھیں حکم دیاہے کہ وہ اس سلسلے میں انھیں ایک ہفتے کے اندرفزیبلٹی رپورٹ پیش کریں۔
انھوں نے محکمہ صحت کے افسران کوہدایت کی کہ وہ بنیادی صحت کے مراکزکی تعداد کو 31سے بڑھاکر 48 کردیں تاکہ ضلع کی ہریونین کونسل میں لوگوں کواپنی دہلیزپریہ سہولت میسر ہوسکے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ ہدایات وزیراعلیٰ ہائوس میں ضلع تھرپارکرمیں امدادی کاموں اور صحت کے مسائل کاجائزہ لینے کیلیے منعقدہ وڈیوکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ڈی جی صحت سندھ دیگرسرکاری افسران اورضلع تھرپارکرکے اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت کے ذریعے لوگوں کے لیے خصوصی صحت کا پیکیج کیلیے فزیبلٹی رپورٹ تیارکریں اورسیکریٹری صحت سے کہاکہ وہ بھی اسی مقصد کیلیے ماہرین صحت کے ساتھ مل کررپورٹ تیارکریں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ضلع تھرپارکر میں غیر معیاری اورجمع شدہ باسی اورآلودہ پانی بھی بیماریوں کااہم سبب ہے لہذا سندہ حکومت نے تمام دستیاب83آر او پلانٹس کو کار آمدبنادیاہے اورضلع تھرپارکر میں سابق صدرآصف زرداری کی ہدایت پر ہنگامی بنیادوں پر مزید 150سولر انرجی سے چلنے والی آر او پلانٹس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ،محکمہ صحت کی اتھارٹیزاور ماہرین نے میڈیاکی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کی نفی کی کہ ضلع تھرپارکر میں اموات کاسبب خشک سالی ہے۔انھوں نے کہاکہ ضلع تھرپارکرمیں ایک بھی موت غذا کی قلت کے باعث نہیںہوئی۔ سیکریٹری صحت اقبال درانی نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ میڈیا نے26 مارچ کو ضلعی اسپتال مٹھی میں ایک موت اور تعلقہ اسپتال چھاچھرو میں دو اموات کو وجہ خشک سالی رپورٹ کیا مگر اصل میں ایک بچہ مصری سول اسپتال مٹھی میں ڈلیوری کے آدھے گھنٹے کے بعد انتقال کرگیا، اس طرح 35 سالہ جنتابائی زوجہ دیوان دماغی بیماری کی وجہ سے جبکہ 60 سالا حکیم آنتوں کے آپریشن کے دوران تعلقہ اسپتال چھاچھرو میں انتقال کرگئے۔
اس کے علاوہ ڈی جی ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق 2اموات حادثات اوردیگر2اموات حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث ہوئیں جبکہ ایک بجلی کے کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی۔کانفرنس میں تاج حیدراورریلیف کمشنرنے بتایا کہ 131,721گندم کی بوریوں میں سے 1,18,697 بوریاں لوگوں میں تقسیم کی گئیں جبکہ باقی ماندہ گندم کی بوریاں 2دن کے اندر تقسیم کی جائیںگی،تمام امدادی کارروایاں بلاتفریق کے شفاف انداز میںجا ری ہیں۔دریں تعلیمی بورڈاورمحکمہ تعلیم کے افسران کے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنروں کو آئندہ ماہ دو اپریل سے شروع ہونیوالے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات کی صاف شفاف اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلیے موثر اور جامع حکمت عملی تشکیل دینے کے احکامات دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے پھرکہاہے کہ تھرپارکرمیں ایک بھی موت غذا کی قلت کے باعث نہیں ہوئی، انھوں نے ضلع تھرپارکر کیلیے خصو صی پیکیج فراہم کرنے کے لیے2مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں اور انھیں حکم دیاہے کہ وہ اس سلسلے میں انھیں ایک ہفتے کے اندرفزیبلٹی رپورٹ پیش کریں۔
انھوں نے محکمہ صحت کے افسران کوہدایت کی کہ وہ بنیادی صحت کے مراکزکی تعداد کو 31سے بڑھاکر 48 کردیں تاکہ ضلع کی ہریونین کونسل میں لوگوں کواپنی دہلیزپریہ سہولت میسر ہوسکے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ ہدایات وزیراعلیٰ ہائوس میں ضلع تھرپارکرمیں امدادی کاموں اور صحت کے مسائل کاجائزہ لینے کیلیے منعقدہ وڈیوکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ڈی جی صحت سندھ دیگرسرکاری افسران اورضلع تھرپارکرکے اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت کے ذریعے لوگوں کے لیے خصوصی صحت کا پیکیج کیلیے فزیبلٹی رپورٹ تیارکریں اورسیکریٹری صحت سے کہاکہ وہ بھی اسی مقصد کیلیے ماہرین صحت کے ساتھ مل کررپورٹ تیارکریں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ضلع تھرپارکر میں غیر معیاری اورجمع شدہ باسی اورآلودہ پانی بھی بیماریوں کااہم سبب ہے لہذا سندہ حکومت نے تمام دستیاب83آر او پلانٹس کو کار آمدبنادیاہے اورضلع تھرپارکر میں سابق صدرآصف زرداری کی ہدایت پر ہنگامی بنیادوں پر مزید 150سولر انرجی سے چلنے والی آر او پلانٹس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ،محکمہ صحت کی اتھارٹیزاور ماہرین نے میڈیاکی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کی نفی کی کہ ضلع تھرپارکر میں اموات کاسبب خشک سالی ہے۔انھوں نے کہاکہ ضلع تھرپارکرمیں ایک بھی موت غذا کی قلت کے باعث نہیںہوئی۔ سیکریٹری صحت اقبال درانی نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ میڈیا نے26 مارچ کو ضلعی اسپتال مٹھی میں ایک موت اور تعلقہ اسپتال چھاچھرو میں دو اموات کو وجہ خشک سالی رپورٹ کیا مگر اصل میں ایک بچہ مصری سول اسپتال مٹھی میں ڈلیوری کے آدھے گھنٹے کے بعد انتقال کرگیا، اس طرح 35 سالہ جنتابائی زوجہ دیوان دماغی بیماری کی وجہ سے جبکہ 60 سالا حکیم آنتوں کے آپریشن کے دوران تعلقہ اسپتال چھاچھرو میں انتقال کرگئے۔
اس کے علاوہ ڈی جی ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق 2اموات حادثات اوردیگر2اموات حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث ہوئیں جبکہ ایک بجلی کے کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی۔کانفرنس میں تاج حیدراورریلیف کمشنرنے بتایا کہ 131,721گندم کی بوریوں میں سے 1,18,697 بوریاں لوگوں میں تقسیم کی گئیں جبکہ باقی ماندہ گندم کی بوریاں 2دن کے اندر تقسیم کی جائیںگی،تمام امدادی کارروایاں بلاتفریق کے شفاف انداز میںجا ری ہیں۔دریں تعلیمی بورڈاورمحکمہ تعلیم کے افسران کے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنروں کو آئندہ ماہ دو اپریل سے شروع ہونیوالے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات کی صاف شفاف اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلیے موثر اور جامع حکمت عملی تشکیل دینے کے احکامات دیے ہیں۔