ایس ایم منیرسونا درآمد پابندی کا معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھائیں گے
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو کا تاجروں کوزیورات کی ایکسپورٹ میں حائل رکاوٹیں ہٹانےکیلیے تعاون کی یقین دہانی
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو کا تاجروں کو زیورات کی ایکسپورٹ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے کیلیے تعاون کی یقین دہانی فوٹو: ایکسپریس/فائل
KARACHI:
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے سونے کی درآمد پر پابندی کا معاملہ وفاقی وزارت خزانہ کے سامنے اٹھانے اور سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ہرممکن سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ہے۔
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے چیئرمین حبیب الرحمٰن کی قیادت میں گزشتہ روز ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی سربراہی میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ادارہ زیادہ فعال ہوگا اور گولڈ جیولری کی برآمدات میں اضافے کے سلسلے میں بروقت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ایس ایم منیر نے وفد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ جائز مسائل کے حل اور برآمدات کے مواقع کے درمیان کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے سلسلے میں ہر برآمد کنندہ کیلیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، ایسوی ایشن کے عہدے داران نے ان سے درخواست کی کہ وہ سونے کی درآمد پر پابندی کے معاملے کو وزیر خزانہ کی سامنے پیش کریں جس کی وجہ سے زیورات کی برآمد بری طرح متاثر ہورہی ہے اور اب تک 70فیصد تک کمی آچکی ہے۔
ایس ایم منیر نے یقین دلایا کہ ٹی ڈی اے پی اس سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کریگی اور اس معاملے کو جلد ہی وزیر خزانہ کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ ٹی ڈی اے پی برآمد کنندگان کو سونے کے زیورات کی برآمد کے سلسلے میں ایف بی آر کی جانب سے ایئرپورٹ پر سہولتیں فراہم کرنے اور محفوظ جگہ یا علاقہ مخصوص کرنے اور جی ڈی فائل کرنے کیلیے دیگر معاملات میں بھی تعاون کیا جائیگا۔ ایس ایم منیر نے آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے عہدے داروں پر زور دیا کہ وہ ٹی ڈی اے پی میں خود کو رجسٹرڈ کرائیں جو ایس آر او 760کے تحت لازمی شرط ہے۔ انہوں نے ایسوسی ایشن سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی اے پی جلد ہی اس سلسلے میں ایک اطلاع عام بھی جاری کرے گا۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے سونے کی درآمد پر پابندی کا معاملہ وفاقی وزارت خزانہ کے سامنے اٹھانے اور سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ہرممکن سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ہے۔
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے چیئرمین حبیب الرحمٰن کی قیادت میں گزشتہ روز ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی سربراہی میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ادارہ زیادہ فعال ہوگا اور گولڈ جیولری کی برآمدات میں اضافے کے سلسلے میں بروقت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ایس ایم منیر نے وفد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ جائز مسائل کے حل اور برآمدات کے مواقع کے درمیان کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے سلسلے میں ہر برآمد کنندہ کیلیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، ایسوی ایشن کے عہدے داران نے ان سے درخواست کی کہ وہ سونے کی درآمد پر پابندی کے معاملے کو وزیر خزانہ کی سامنے پیش کریں جس کی وجہ سے زیورات کی برآمد بری طرح متاثر ہورہی ہے اور اب تک 70فیصد تک کمی آچکی ہے۔
ایس ایم منیر نے یقین دلایا کہ ٹی ڈی اے پی اس سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کریگی اور اس معاملے کو جلد ہی وزیر خزانہ کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ ٹی ڈی اے پی برآمد کنندگان کو سونے کے زیورات کی برآمد کے سلسلے میں ایف بی آر کی جانب سے ایئرپورٹ پر سہولتیں فراہم کرنے اور محفوظ جگہ یا علاقہ مخصوص کرنے اور جی ڈی فائل کرنے کیلیے دیگر معاملات میں بھی تعاون کیا جائیگا۔ ایس ایم منیر نے آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے عہدے داروں پر زور دیا کہ وہ ٹی ڈی اے پی میں خود کو رجسٹرڈ کرائیں جو ایس آر او 760کے تحت لازمی شرط ہے۔ انہوں نے ایسوسی ایشن سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی اے پی جلد ہی اس سلسلے میں ایک اطلاع عام بھی جاری کرے گا۔