زمین کی تپش کم کرنے کیلیے عالمی ارتھ آور آج منایا جائے گا

ارتھ آورکی مرکزی تقریب سندھ اسمبلی میں ہوگی،عمارتوں کی روشنیاں رات ساڑھے8بجے سے ساڑھے9بجے تک بندرکھی جائینگی

ارتھ آور کا عزم نامہ دستخطوں کیلیے سندھ اسمبلی میں آویزاں،موم بتیوں کی روشنی میں واک اور آج رات 8 بجے آگہی تقریب ہوگی۔ فوٹو: فائل

زمین کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے کا شعور بیدار کرنے کے لیے دنیا بھر کی طرح صوبہ سندھ میں بھی آج ارتھ آور منایا جائے گا،صوبہ سندھ میں ارتھ آور سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔


تفصیلات کے مطابق سندھ میں امسال ارتھ آور کی مرکزی تقریب مزار قائد کے بجائے سندھ اسمبلی میں ہوگی، ارتھ آور کے موقع پر صوبائی و ضلعی حکومتوں کے دفاتر کی اہم عمارتوں کی روشنیاں (لائٹیں) رات ساڑھے 8 بجے سے ساڑھے 9 بجے تک بند رکھی جائیں گی اور اس ضمن میں تمام اداروں کو ہدایت کردی گئی ہے، شہر کے اہم مقامات پر ارتھ آور کے بارے میں سائن بورڈ اور بینرز آویزاں کردیے گئے ہیں، ارتھ آور کا عزم نامہ سندھ اسمبلی میں اراکین اسمبلی کے دستخطوں کے لیے آویزاں کردیا گیا ہے، ارتھ آور پر 29 مارچ کو ہفتہ کے دن رات 8 بجے عوامی شعور کی بیداری کے لیے تقریب منعقد کی جارہی ہے جس کے شرکا ساڑھے 8 بجے موم بتیوں اور دیوں کی روشنی میں واک کرتے ہوئے زمین کی تپش (گلوبل وارمنگ) کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے اس موقع پر پاکستان میں ارتھ آور کی سفیر اور معروف فنکارہ عمیمہ ملک بھی موجود ہوں گی۔

ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کے علاقائی دفاتر نے حیدرآباد اور سکھر میں بھی ارتھ آور کے موقع پر آگہی تقریبات کا اہتمام کیا ہے، گزشتہ سال منایا جانے ارتھ آور دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ تھا جس میںایشیا، یورپ، امریکا اور افریقہ کے 121ممالک کے 4 ہزار شہروں، قصبوں اور دیہاتوں نے موسمیاتی بچائو کے لیے آواز بلند کی اور روشنیاں (لائٹس) ایک گھنٹے کے لیے بند رکھیں، تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے اپنے گھروں ، دفاتر، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی روشنیاں بند کرکے کرہ ارض سے اپنے لگائو اور محبت کا اظہار کیا، اس سال دنیا کے 144 ممالک میں ارتھ آور منایا جائے گا جس کا مقصد توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ اس وقت کے اہم ترین ماحولیاتی مسئلے زمین کی تپش (گلوبل وارمنگ) کو کم کرنے اور تیزی سے بدلتی ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنا ہے جو کہ قدرتی ماحولیاتی توازن کو تیزی سے متاثر کررہی ہے جن سے جانداروں باالخصوص انسانوں اور قدرتی وسائل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
Load Next Story