معاشی صورتحال بہتر مہنگائی کا دباؤ کم ہو رہا ہے اسٹیٹ بینک

شرح نمو3.5سے 4.5فیصد،افراط زر8.5سے9.5رہے گا، برآمدات26سے 26.5، درآمدات 42 سے 43ارب ڈالررہیں گی

خلیجی ملک سے 1.5ارب ڈالرکی غیرمتوقع رقم ملنے پرمارکیٹ نے مثبت ردعمل ظاہرکیا،روپے کی قدرمیں اضافہ ہوا،دوسری سہ ماہی رپورٹ ۔ فوٹو: فائل

معاشی اظہاریے بہتر ہوگئے، نومبرکے بعدسے مہنگائی کادباؤ کم ہورہا ہے۔

دوسری سہ ماہی میں حکومت نے کمرشل بینکوں سے 188.1ارب روپے کے قرضے لیے۔ مالیاتی اوربیرونی حسابات میں بہتری کاانحصار تھری جی کی نیلامی اوراتحادی سپورٹ فنڈکی آمد پرہے۔ خلیج تعاون کونسل کے ایک ملک سے 1.5ارب ڈالرکی غیرمتوقع رقم ملنے سے روپے کی قدرمیں اضافہ ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق رواںمالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5فیصد سے 4.5 فیصد تک رہے گی۔ افراط زرسنگل ڈیجٹ (8.5سے 9.5 فیصد) تک محدودرہے گا۔ زرکے پھیلاؤکی شرح 13 سے 14فیصد رہے گی۔ ترسیلات کی مدمیں 14.5سے 15.5 ارب ڈالرتک آنے کی توقع ہے۔ برآمدات 26سے 26.5ا رب ڈالر جبکہ درآمدات 42سے 43ارب ڈالر رہیںگی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.5ارب ڈالرسے نیچے رہے گا۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 6سے 7فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔ جمعے کوجاری کردہ دوسری سہ ماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کادباؤ کم ہواہے تاہم مالیاتی کفایت شعاری کااثر وفاقی اورصوبائی سطح دونوں کے ترقیاتی اخراجات پرپڑا ہے جس کی اہم وجہ بیرونی رقوم کافقدان ہے۔ اس لیے مالیاتی استحکام کے اس پہلوپر معیشت کے طویل مدتی امکانات کے تناظرمیں ازسرنو غورکرنے کی ضرورت باقی ہے۔


دوسری جانب کمرشل بینکوں سے حکومتی قرض گیری بھی دوسری سہ ماہی میں بڑھی۔ حکومت نے مالی سال14 کی دوسری سہ ماہی کے دوران کمرشل بینکوںسے 188.1ارب روپے حاصل کیے جبکہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 179.1ارب روپے کی خالص واپسی ہوئی تھی۔ مالی سال14 کی پہلی ششماہی کے آخرتک ملک کے معاشی اظہاریوں میں واضح بہتری پیدا ہوگئی تھی۔ نومبر کے بعدگرانی کادباؤ گھٹ گیاہے۔ زرمبادلہ کے ذخائراور دسمبر2013 میں پاکستانی روپے کی مساوات پردباؤ کم ہوگیاہے۔ بڑے پیمانے کی اشیاسازی میں بہتری دکھائی دے رہی ہے جسے نجی شعبے کے قرض سے مزید سہارا مل رہا ہے۔ اورجیسا کہ وزارت خزانہ نے بتایا، جی ڈی پی کی فیصدکے لحاظ سے مالیاتی خسارہ مالی سال14 کی پہلی ششماہی میں کم ہو گیاہے۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مالی سال14 کی دوسری ششماہی میں مالیاتی اوربیرونی حسابات میں بہتری کاانحصار تھری جی لائسنس کی نیلامی کی متوقع آمدنی اوراتحادی سپورٹ فنڈکی رقوم کی آمدپر ہے۔ تاہم اگر متوقع سرکاری بیرونی رقوم مالی سال14 کی دوسری ششماہی میں آگئیں تواسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرکا پورے سال کے ابتدائی تخمینے سے متجاوزہونے کاامکان ہے۔ رپورٹ میں بیرونی حوالے سے حاصل ہونے والے حالیہ فائدے کواسٹیٹ بینک کے ذخائرمیں 1.5ارب ڈالرکی غیرمتوقع آمدسے منسوب کیاگیا جس سے منڈی میں توقعات پیداہوئی ہوںگی کہ پاکستان کو مالی سال14 کی چوتھی سہ ماہی میں تیل کی ادائیگیاںمؤخر کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے مالی سال14 کی بقیہ مدت میں گرانی کی توقعات کی شدت کم ہونے کے ساتھ بازارمیں شرح سودکا منظرنامہ بھی بدل گیاہے۔ اسٹیٹ بینک کاتخمینہ ہے کہ مالی سال14 میں اوسط گرانی 8.5سے 9.5فیصد کے درمیان رہے گی۔
Load Next Story