ملائیشین طیارے کی تلاش جاریجاپانی سیٹلائٹ نے بھی10ٹکڑوں کی نشاندہی کردی
نئی معلومات قابل بھروسہ ہیں،آخری وقت طیارے کی رفتار پہلے کی نسبت کہیں تیز تھی جس پر زیادہ دور نہیں جاسکتا، آسٹریلیا
نئی معلومات قابل بھروسہ ہیں،آخری وقت طیارے کی رفتار پہلے کی نسبت کہیں تیز تھی جس پر زیادہ دور نہیں جاسکتا، آسٹریلیا۔ فوٹو:فائل
لاہور:
آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش میں مصروف بحری جہازوں اور طیاروں نے جمعے کے دن جنوبی بحرہند میں ایک نئے مقام کا رخ کیا ہے جس کا تعین ملائیشیا سے ملنے والی نئی قابلِ بھروسہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
طیارے کے ممکنہ ملبے کے بارے میں مزید سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں اور تھائی لینڈ کے مصنوعی سیارے کی جانب سے300 ٹکڑوں کی نشاندہی کے بعد جاپانی سیٹلائٹ نے بھی10ٹکڑوں کی نشاندہی کی ہے۔ آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی (امسا) نے ایک بیان میں کہاکہ نئی معلومات اس طیارے کے بحیرہ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا کے درمیانی علاقے میں سفر کے دوران ریڈار سے حاصل شدہ معلومات کے جاری تجزیے کی بنیاد پر ملی ہیں، ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ ماضی کے اندازوں سے زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کا ایندھن کا استعمال بھی زیادہ تھا اور یوں اس کے بحرِہند میں جنوب کی جانب اتنی دور تک پہنچنے کے امکانات نہیں جتنے کہ پہلے تصور کیے جا رہے تھے۔
امسا کے مطابق انہی معلومات کی بنیاد پر جمعے کو طیارے کی تلاش کا عمل موجودہ علاقے سے شمال مشرق میں1100کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا علاقہ آسٹریلوی شہر پرتھ کے ساحل سے1850کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گزشتہ روز موسم میں بہتری کے بعد 6 فوجی اور 5 عام طیارے اور 5 بحری جہازوں نے دوبارہ سمندر میں ملبے کی تلاش شروع کی۔ ادھر153چینی مسافروں کے اہل خانہ نے مطالبہ کیاکہ چین طیارے کی گمشدگی کی تحقیقات اپنے طور پر کرائے، انکا کہنا تھا کہ کوالا لمپور کا رویہ غیر ذمے دارانہ ہے، اہلخانہ نے ملائیشین ایئر لائنز کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کیلیے وکلاسے مشاورت اور آپس میں رابطے شروع کر دیے ہیں۔
آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش میں مصروف بحری جہازوں اور طیاروں نے جمعے کے دن جنوبی بحرہند میں ایک نئے مقام کا رخ کیا ہے جس کا تعین ملائیشیا سے ملنے والی نئی قابلِ بھروسہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
طیارے کے ممکنہ ملبے کے بارے میں مزید سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں اور تھائی لینڈ کے مصنوعی سیارے کی جانب سے300 ٹکڑوں کی نشاندہی کے بعد جاپانی سیٹلائٹ نے بھی10ٹکڑوں کی نشاندہی کی ہے۔ آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی (امسا) نے ایک بیان میں کہاکہ نئی معلومات اس طیارے کے بحیرہ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا کے درمیانی علاقے میں سفر کے دوران ریڈار سے حاصل شدہ معلومات کے جاری تجزیے کی بنیاد پر ملی ہیں، ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ ماضی کے اندازوں سے زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کا ایندھن کا استعمال بھی زیادہ تھا اور یوں اس کے بحرِہند میں جنوب کی جانب اتنی دور تک پہنچنے کے امکانات نہیں جتنے کہ پہلے تصور کیے جا رہے تھے۔
امسا کے مطابق انہی معلومات کی بنیاد پر جمعے کو طیارے کی تلاش کا عمل موجودہ علاقے سے شمال مشرق میں1100کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا علاقہ آسٹریلوی شہر پرتھ کے ساحل سے1850کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گزشتہ روز موسم میں بہتری کے بعد 6 فوجی اور 5 عام طیارے اور 5 بحری جہازوں نے دوبارہ سمندر میں ملبے کی تلاش شروع کی۔ ادھر153چینی مسافروں کے اہل خانہ نے مطالبہ کیاکہ چین طیارے کی گمشدگی کی تحقیقات اپنے طور پر کرائے، انکا کہنا تھا کہ کوالا لمپور کا رویہ غیر ذمے دارانہ ہے، اہلخانہ نے ملائیشین ایئر لائنز کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کیلیے وکلاسے مشاورت اور آپس میں رابطے شروع کر دیے ہیں۔