ایکسپریس پر حملہ… انتظامیہ بے بس

ایکسپریس میڈیا گروپ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن انتظامیہ اس میں محض تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن انتظامیہ اس میں محض تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ فوٹو:محمد نعمان/ایکسپریس

لاہور میں دہشت گردوں نے ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن رضا رومی کی گاڑی پر فائرنگ کی، خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے لیکن ان کا ڈرائیور شہید اور سیکیورٹی گارڈ زخمی ہو گیا۔ واقعات کے مطابق جمعہ کی شب وہ اپنا پروگرام ''خبر سے آگے'' ختم کر کے دفتر سے اپنے گھر مسلم ٹاؤن لاہور جا رہے تھے۔ ابھی انھوں نے دفتر سے تقریباً تین چار سو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہو گا کہ نامعلوم موٹرسائیکل سوار افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس صورتحال میں ڈرائیور نے گاڑی گارڈن ٹاؤن کے علاقے راجہ مارکیٹ کی طرف موڑ دی تاہم وہ زخمی حالت میں گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور کار بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی، فائرنگ سے ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا تھا جب کہ سیکیورٹی گارڈ اور رضا رومی معمولی زخمی تھے، اسپتال میں ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

دہشت گردی کی اس واردات کے بعد اعلیٰ پولیس افسر اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ایکسپریس نیوز کے اینکرپرسن پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ لاہور میں ہونے والے واقعے کے خلاف کراچی، لاہور، سکھر، ملتان، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت ملک بھر میں صحافتی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور حکومت سے مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ لاہور میں سیفما کے زیراہتمام احتجاجی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو گئے ہیں اور قانون شکن گروہوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں عرصہ دراز سے ہو رہی ہیں لیکن کوئی حکومت اس حوالے سے ایسی پالیسی تیار نہیں کر سکی جس پر عمل کرکے عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔ دہشت گردی کی واراتوں کے جو مجرمان گرفتار ہوئے ان کے مقدمات بھی اتنے کمزور تھے کہ وہ عدالتوں سے رہا ہو گئے۔ ملک میں دہشت گردی اور جرائم کے بڑھنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ ایکسپریس میڈیا گروپ پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ اسے چوتھی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایکسپریس کو نشانہ اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ وہ حقائق کو اس کے درست تناظر میں عوام کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ اس سے قبل تین حملے کراچی میں ہوئے ہیں۔ کراچی میں آخری حملے میں ایکسپریس نیوز کے تین کارکن شہید ہوئے تھے۔ چوتھا حملہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہوا ہے۔ یہ لاہور میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔


پنجاب خصوصاً لاہور کو خاصا محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں دہشت گردی کی وارداتیں خاصی کم ہوتی ہیں اور جرائم پیشہ افراد پر بھی خاصا دباؤ ہے لیکن اب شاید ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ لاہور میں ایکسپریس پر حملہ درحقیقت آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ سچ بات کہنے سے روکنے کی اور صحافیوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔ اس ملک میں کئی ایسے گروپ ہیں جو خود کو ہر قسم کی تنقید یا کارروائی سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے انتظامیہ بھی ان کے سامنے بے بس ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب یقینی طور پر اس ملک کی پالیسی بنانے والوں کے پاس ہو گا لیکن شاید ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ پالیسی سازوں کے اس رویے نے انتظامیہ کو مفلوج اور بے بس بنا دیا ہے۔ اس بے بسی کا نتیجہ ہے کہ قانون شکن گروہ آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کرتے ہیں اور اپنے ہدف کو بآسانی نشانہ بنا کر بحفاظت فرار ہو جاتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے کسی شہر کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان سطور کے لکھے جانے تک ایکسپریس نیوز چینل کے اینکر پرسن اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کرنے والوں کا کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ حکمرانوں کی جانب سے ہر سانحے یا واردات کے بعد یہ اعلانات سامنے آتے ہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے واقعے کا نوٹس لے لیا، مقدمہ درج کرنے کا حکم، تحقیقاتی کمیشن قائم، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، اس کے بعد معاملات جوں کے توں چلنے شروع ہو جاتے ہیں اور سب اعلانات کو بھلا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس روایت سے بھری پڑی ہے۔ کراچی میں ایکسپریس میڈیا گروپ کے کارکنوں کی شہادت کے بعد بھی مرکزی اور سندھ حکومت نے کئی اعلانات کیے اور ایک کمیٹی بھی بنائی تھی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن انتظامیہ اس میں محض تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

اعلیٰ حکومتی سطح پر بھی میڈیا ہاؤسز کی حفاظت کے لیے کوئی میکنزم بنایا گیا نہ ایسے صحافیوں کی حفاظت کے لیے کوئی اقدام کیا گیا جنھیں مختلف تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، اس لیے کسی کا نام لینا مناسب نہیں ہو گا لیکن اب لاہور میں ایکسپریس نیوز چینل کے اینکرپرسن پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ تو ہے ہی لیکن یہ پنجاب حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ اس واردات کے مجرموں کو ہر قیمت پر گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انتظامیہ اگر بے بس رہی تو پھر قانون شکن گروپ مزید دلیر ہو کر وارداتیں کریں گے۔
Load Next Story