تازہ دم شاہین نڈھال ٹائیگرز پر جھپٹنے کیلیے پر تولنے لگے
قومی ٹیم کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، سیمی فائنل میں جگہ کیلیے باقی دونوں گروپ میچز میں لازمی فتح درکار ہے،
ہماری توجہ رن ریٹ نہیں بلکہ کامیابی پر مرکوز ہوگی،محمد حفیظ ۔ فوٹو : اے ایف پی
آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20 کے اہم میچ میں اتوار کو پاکستان کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہو گا،تازہ دم شاہین نڈھال ٹائیگرز پرجھپٹنے کیلیے پرتولنے لگے۔
ٹیم کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، سیمی فائنل میں جگہ کیلیے باقی دونوں گروپ میچز میں لازمی فتح درکار ہے، عمر اکمل نے ہیمسٹرنگ انجری سے نجات حاصل کرلی،کپتان محمد حفیظ نے کہاکہ ایک ہفتے کے وقفے میں خامیوں پر قابو پالیا، توجہ رن ریٹ نہیں بلکہ کامیابی پر مرکوز ہوگی، صرف سیمی فائنل میں جگہ بنانا ہی مقصد نہیں ایک بار پھر ٹرافی اپنے ہاتھوں میں اٹھائیں گے۔ دوسری جانب پے درپے ناکامیوں نے میزبان سائیڈکے حوصلے پست کردیے، آل راؤنڈر شکیب الحسن نے تسلیم کیاکہ ان کیلیے صورتحال اچھی نہیں ہے،کپتان مشفیق الرحیم بدستورٹیم کو فتح کے سہانے خواب دکھانے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گروپ2 سے بھارت اپنے ابتدائی تینوں میچز جیت کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرچکا،اب دوسری جگہ کیلیے پاکستان کو اتوار کے روز بنگلہ دیش اور پھر منگل کو ویسٹ انڈیز کیخلاف فتح حاصل کرنا ہوگی۔
سفر قدرے کٹھن مگر پلیئرزکے حوصلے کافی بلند ہیں۔ ایک ہفتے کے وقفے سے کھلاڑی دوبارہ ایکشن میں آئیں گے،اس کا ٹیم کو دگنا فائدہ ہوا، ایک تو غلطیاں سدھارنے کا موقع ملا دوسرا کھلاڑیوں کو معمولی انجریز سے بھی نجات مل گئی، خاص طور پر آسٹریلیا پر فتح کے مرکزی کردار عمر اکمل ہیمسٹرنگ انجری سے چھٹکارہ پا چکے اور دوبارہ میدان میں اترنے کیلیے تیار ہیں۔ کپتان حفیظ کو بھی اس بات کا مکمل احساس ہے کہ اب ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہی ہارنے کو کچھ باقی بچا، باقی تمام میچز میں کامیابی ہی ٹرافی تک لے جائیگی، انھوں نے کہاکہ صورتحال اب بالکل واضح ہوچکی، ہمیں سیمی فائنل میں جگہ بنانے کیلیے باقی دونوں میچز جیتنا ہیں، ہماری توجہ رن ریٹ نہیں بلکہ صرف کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے، ہم نے اپنے میچز کے دوران وقفے سے کافی فائدہ اٹھایا، مینجمنٹ اور کوچز نے خامیوں پر توجہ اور اگلے مرحلے کیلیے تیار کرنے میں مدد فراہم کی۔ حفیظ نے سیمی فائنل میں سب سے پہلے رسائی پر بھارتی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہاکہ دھونی الیون اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک اچھی کرکٹ کھیلنے میں کامیاب رہی۔
اچھا ہی ہوا کہ وہ پہلے فائنل 4 میں پہنچ گئے، اس سے باقی ٹیموں پر صورتحال واضح ہوگئی کہ اب کیا کرنا ہے۔ کپتان نے کہا کہ توقعات ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ ہوتی ہیں، مختصر ترین فارمیٹ میں کوئی بھی ٹیم آسان نہیں، ہر میچ میں بنیادیں چیزوں پر توجہ دینا ہوتی ہے ، ہم بنگلہ دیش کا بھی احترام کرتے اور اس کیخلاف بھی اپنا بہترین کھیل پیش کرینگے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 2009 میں یونس خان کی قیادت میں ٹی 20 چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اسے چاروں ورلڈ ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ محمد حفیظ نے عمر اکمل کے حوالے سے کہا کہ میچز کے درمیان کا وقفہ نوجوان بیٹسمین کیلیے بھی اچھا ثابت ہوا، انھیں ہیمسٹرنگ کی تکلیف سے نجات مل گئی ہے، واضح رہے کہ پاکستان کی پلیئنگ الیون میں بظاہر کسی تبدیلی کا امکان نہیں تاہم بلاول بھٹی کی جگہ سہیل تنویر کو کھلانے کا آپشن موجود ہو گا۔دوسری جانب بنگلہ دیش کو سپر 10 راؤنڈ میں ویسٹ انڈیز کے بعد بھارت سے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس سے قبل ابتدائی راؤنڈ میں ہانگ کانگ جیسی ٹیم نے بھی اسے پچھاڑا جس سے پلیئرز کے حوصلے کافی پست دکھائی دیتے ہیں۔
ٹیم میں اختلافات کی خبریں بھی تسلسل کے ساتھ میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، شکیب الحسن نے پہلے ہی واضح کردیاکہ ان ناکامیوں نے بنگال ٹائیگرز کے اعصاب پر بُرا اثر ڈالا ہے، انھوں نے کہا کہ حساب کتاب سے شائد ہمارا سیمی فائنل میں رسائی کا امکان موجود ہو لیکن اگر بات حقیقت کی کریں تو پاکستان اور آسٹریلیا کو شکست دینا ہمارے لیے کافی مشکل ہوگا۔ دوسری جانب کپتان مشفیق الرحیم نے کہاکہ ہم اس ٹورنامنٹ کی شروعات اچھی کرنا چاہتے تھے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا، ہم سے غلطیاں ہوئیں جن سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے، اب ہم باقی دونوں میچز میں بہترین کارکردگی کیلیے پُرعزم ہیں۔ بنگلہ دیش بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرسکتا ہے، اس صورت میں شکیب اور مشفیق تیسرے اور چوتھے نمبر پر کھیلیںگے، سوہاگ غازی کی جگہ عبدالرزاق کو کھلانے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
ٹیم کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، سیمی فائنل میں جگہ کیلیے باقی دونوں گروپ میچز میں لازمی فتح درکار ہے، عمر اکمل نے ہیمسٹرنگ انجری سے نجات حاصل کرلی،کپتان محمد حفیظ نے کہاکہ ایک ہفتے کے وقفے میں خامیوں پر قابو پالیا، توجہ رن ریٹ نہیں بلکہ کامیابی پر مرکوز ہوگی، صرف سیمی فائنل میں جگہ بنانا ہی مقصد نہیں ایک بار پھر ٹرافی اپنے ہاتھوں میں اٹھائیں گے۔ دوسری جانب پے درپے ناکامیوں نے میزبان سائیڈکے حوصلے پست کردیے، آل راؤنڈر شکیب الحسن نے تسلیم کیاکہ ان کیلیے صورتحال اچھی نہیں ہے،کپتان مشفیق الرحیم بدستورٹیم کو فتح کے سہانے خواب دکھانے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گروپ2 سے بھارت اپنے ابتدائی تینوں میچز جیت کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرچکا،اب دوسری جگہ کیلیے پاکستان کو اتوار کے روز بنگلہ دیش اور پھر منگل کو ویسٹ انڈیز کیخلاف فتح حاصل کرنا ہوگی۔
سفر قدرے کٹھن مگر پلیئرزکے حوصلے کافی بلند ہیں۔ ایک ہفتے کے وقفے سے کھلاڑی دوبارہ ایکشن میں آئیں گے،اس کا ٹیم کو دگنا فائدہ ہوا، ایک تو غلطیاں سدھارنے کا موقع ملا دوسرا کھلاڑیوں کو معمولی انجریز سے بھی نجات مل گئی، خاص طور پر آسٹریلیا پر فتح کے مرکزی کردار عمر اکمل ہیمسٹرنگ انجری سے چھٹکارہ پا چکے اور دوبارہ میدان میں اترنے کیلیے تیار ہیں۔ کپتان حفیظ کو بھی اس بات کا مکمل احساس ہے کہ اب ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہی ہارنے کو کچھ باقی بچا، باقی تمام میچز میں کامیابی ہی ٹرافی تک لے جائیگی، انھوں نے کہاکہ صورتحال اب بالکل واضح ہوچکی، ہمیں سیمی فائنل میں جگہ بنانے کیلیے باقی دونوں میچز جیتنا ہیں، ہماری توجہ رن ریٹ نہیں بلکہ صرف کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے، ہم نے اپنے میچز کے دوران وقفے سے کافی فائدہ اٹھایا، مینجمنٹ اور کوچز نے خامیوں پر توجہ اور اگلے مرحلے کیلیے تیار کرنے میں مدد فراہم کی۔ حفیظ نے سیمی فائنل میں سب سے پہلے رسائی پر بھارتی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہاکہ دھونی الیون اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک اچھی کرکٹ کھیلنے میں کامیاب رہی۔
اچھا ہی ہوا کہ وہ پہلے فائنل 4 میں پہنچ گئے، اس سے باقی ٹیموں پر صورتحال واضح ہوگئی کہ اب کیا کرنا ہے۔ کپتان نے کہا کہ توقعات ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ ہوتی ہیں، مختصر ترین فارمیٹ میں کوئی بھی ٹیم آسان نہیں، ہر میچ میں بنیادیں چیزوں پر توجہ دینا ہوتی ہے ، ہم بنگلہ دیش کا بھی احترام کرتے اور اس کیخلاف بھی اپنا بہترین کھیل پیش کرینگے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 2009 میں یونس خان کی قیادت میں ٹی 20 چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اسے چاروں ورلڈ ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ محمد حفیظ نے عمر اکمل کے حوالے سے کہا کہ میچز کے درمیان کا وقفہ نوجوان بیٹسمین کیلیے بھی اچھا ثابت ہوا، انھیں ہیمسٹرنگ کی تکلیف سے نجات مل گئی ہے، واضح رہے کہ پاکستان کی پلیئنگ الیون میں بظاہر کسی تبدیلی کا امکان نہیں تاہم بلاول بھٹی کی جگہ سہیل تنویر کو کھلانے کا آپشن موجود ہو گا۔دوسری جانب بنگلہ دیش کو سپر 10 راؤنڈ میں ویسٹ انڈیز کے بعد بھارت سے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس سے قبل ابتدائی راؤنڈ میں ہانگ کانگ جیسی ٹیم نے بھی اسے پچھاڑا جس سے پلیئرز کے حوصلے کافی پست دکھائی دیتے ہیں۔
ٹیم میں اختلافات کی خبریں بھی تسلسل کے ساتھ میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، شکیب الحسن نے پہلے ہی واضح کردیاکہ ان ناکامیوں نے بنگال ٹائیگرز کے اعصاب پر بُرا اثر ڈالا ہے، انھوں نے کہا کہ حساب کتاب سے شائد ہمارا سیمی فائنل میں رسائی کا امکان موجود ہو لیکن اگر بات حقیقت کی کریں تو پاکستان اور آسٹریلیا کو شکست دینا ہمارے لیے کافی مشکل ہوگا۔ دوسری جانب کپتان مشفیق الرحیم نے کہاکہ ہم اس ٹورنامنٹ کی شروعات اچھی کرنا چاہتے تھے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا، ہم سے غلطیاں ہوئیں جن سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے، اب ہم باقی دونوں میچز میں بہترین کارکردگی کیلیے پُرعزم ہیں۔ بنگلہ دیش بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرسکتا ہے، اس صورت میں شکیب اور مشفیق تیسرے اور چوتھے نمبر پر کھیلیںگے، سوہاگ غازی کی جگہ عبدالرزاق کو کھلانے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔