تھر 4 ماہ میں201 اموات بھوک سے نہیں بیماریوں سے ہوئیںحکومت سندھ

13لاکھ افرادکومفت گندم کی تقسیم کا80فیصدکام مکمل کرلیا،ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے کیلیےمزید150ڈاکٹرزبھرتی کرینگے

70کروڑ روپے کی لاگت سے جدید اسپتال قائم کرنے کے علاوہ مزید47ہزارراشن بیگز د تقسیم کیے جائیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب ۔ فوٹو : عرفان علی/ ایکسپریس

وزیرا علیٰ سندھ کے کوآرڈی نیٹر اور تھرمیں ریلیف سرگرمیوں کے انچارج تاج حیدر نے کہا ہے کہ تھر میں یکم دسمبر 2013سے 28مارچ 2014تک 201اموات ہوئی ہیں،ان میں 51مرد،34خواتین اور 116بچے شامل ہیں۔

اموات کی وجہ بھوک نہیں بلکہ شدید سردی،نمونیہ اور دیگر بیماریاں ہیں اور بچوں میں اموات کی بڑی وجہ قوت مدافعت کی کمی اورقبل ازوقت پیدائش ہے جبکہ خواتین کی اموات زیادہ تر وجہ زچگی کے پیچیدہ مراحل کی ہیں،تھرمیں 13لاکھ افراد کومفت گندم کی تقسیم کا 80 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے،اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 150ڈاکٹرزمزید بھرتی کیے جائیں گے جبکہ 70کروڑ روپے کی لاگت سے تھرمیں جدید اسپتال قائم کرنے کے علاوہ 47ہزار راشن بیگز مزید تقسیم کیے جائیں گے،وزیر اعلیٰ سندھ تھرکی ترقی کے لیے ایک بڑے پیکج کا اعلان جلدکریں گے،تھرمیں ترقیاتی کاموں کے آغاز کے لیے تھر ڈیولپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کررہی ہے ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے سندھ سیکریٹریٹ میں ہفتے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ریلیف کمشنر سندھ علم الدین بلو،سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹرذوالفقارشلوانی ،اسپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹرسریش کمار،پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے سیکریٹری اطلاعات لطیف مغل اوردیگربھی موجود تھے، تاج حیدر نے کہاکہ تھر میں 1998کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ 75ہزار خاندان رجسٹرڈ تھے۔


تاہم 2011-12کے ریکارڈ کے مطابق اب ان خاندانوں کی تعداد 2لاکھ 60 ہزار ہوگئی ہے، اوسطاً ایک خاندان میں 5 سے زائد افراد شامل ہیں، تھر کی آبادی اس وقت 16لاکھ سے زائد ہے ،2لاکھ 60ہزار خاندانوں میں 80فیصد گندم کی تقسیم کاکام مکمل کرلیا گیا ہے، ایک لاکھ 71ہزار 50کلو گرام گندم کے بیگز تقسیم کیے گئے ہیں، نگرپارکر ،اسلام کوٹ اور چھاچھرو میں 7ہزار سے زائد گندم کے 50کلو بیگز مزید تقسیم کیے جارہے ہیں جبکہ صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی 27ہزار راش کے بیگز تقسیم کیے ہیں، جس میں 14غذائی اشیاء شامل ہیں ،انھوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 12ہزار سے زائد راشن بیگز بھجوائے ہیں جبکہ انہوں نے 5موبائل یونٹس اسپتال اور 38ڈاکٹرز بھی تھر بھجوائے ہیں ،جو خدمات انجام دے رہے ہیں،مٹھی اسپتال میں مزید 60بستروں کا اضافہ کردیا گیا ہے ،ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 52نئے ڈاکٹرز کو بھرتی کیا گیا ہے ۔

مزید 150ڈاکٹرز بھرتی کیے جائیں گے ،تھرمیں اس وقت 31پرائمری ہیلتھ یونٹس اور 33ڈسپنسریوں کو مزید فعال کردیا گیا ہے ،پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید آر او پلانٹس لگائے جائیں گے ،86میں سے 51آر او پلانٹس کام کررہے ہیں ،جو خراب ہیں ان کو آئندہ چند روز میں ٹھیک کرلیا جائے گا ،انھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تھر کے رجسٹرڈ خاندانوں میں نقد امداد کی تقسیم کا کام شروع کردیا گیا ہے ،یہ تمام رقم اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے براہ راست جاری کی جارہی ہے ،انھوں نے کہا کہ تھر کی زمین کے اندر اربوں روپے کی دولت ہے اور اوپر غربت ہے ،حکومت سندھ تھر میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پیکج تیار کررہی ہے ،جس کا اعلان وزیر اعلیٰ سندھ کریں گے،انھوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر دیگر صوبائی حکومتوں اور امدادی اداروں کا حکومت کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا۔
Load Next Story