سانحہ بلدیہسرور کے بچے اب تک بابا کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں

بھائی رحمت تاحال لاپتہ ہے اور اہل خانہ کو کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

بھائی رحمت تاحال لاپتہ ہے اور اہل خانہ کو کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں، فوٹو: اے ایف پی

PESHAWAR:
سانحہ بلدیہ ٹائون میں جاں بحق ہونے والے سرور کے بچے اب تک اپنے بابا کی یاد میں گھر کی دہلیز پر بیٹھے اس کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔


اس کا دوسرا بھائی رحمت تاحال لاپتہ ہے اور اس کے بارے میں اہل خانہ کو اب تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں ، سرور کی شناخت جمعہ کو ایدھی سرد خانے میں ورثا نے کی ، سرور کو شناخت کرنے والے سعید الرحمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ سرور کی عمر 32 برس اور 5 بچوں کا باپ تھا جبکہ مذکورہ فیکٹری میں وہ گزشتہ 6 ماہ سے اپنے بھائی رحمت علی کے ہمراہ کام کررہا تھا، سرور کے بچے اپنے بابا کی یاد میں گھر کی دہلیز پر بیٹھے اس کا انتظار کررہے ہیں، سعید نے مزید بتایا کہ رحمت کی شناخت اس کی جیب میں موجود کمپنی کے کارڈ کے ذریعے ممکن ہوسکی ، وہ بلدیہ ٹائون ساڑھے سات نمبر کے رہائشی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سرور کے چھوٹے بھائی رحمت علی کے بارے میں تاحال کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں جبکہ دونوں بھائی اسٹچنگ ڈپارٹمنٹ میں ایک ساتھ ہی کام کرتے تھے ، سعید نے کہا کہ سرور کے والدین انتقال کرچکے ہیں جبکہ ان کا ایک بھائی لاہور میں اور دوسرا بھائی کراچی میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔سانحہ میں مظفرگڑھ کے خاندان کے9افرادشعلوں کی نذر ہوئے، مرنیوالوں میں باپ بیٹا بھی شامل ہے،ایدھی سرد خانے پر موجود محمد اصغر نے بتایا کہ ان کے چچا اور تایا کے بیٹوں سمیت 9 افراد اس آگ کی نذر ہوگئے ، جمعے کو ان کے خاندان کے آخری شخص مجاہد حسین کی بھی ایدھی سرد خانے میں شناخت کرلی گئی ۔
Load Next Story