سراج الحق جماعت اسلامی کے نئے امیر منتخب
سینئر صوبائی وزیر خیبرپختونخوا سراج الحق آیندہ 5 سال کے لیے جماعت اسلامی کے پانچویں امیر منتخب ہوگئے ہیں
سید منور حسن کی مدت امارت اپریل میں ختم ہو رہی ہے۔ فوٹو:فائل
سینئر صوبائی وزیر خیبرپختونخوا سراج الحق آیندہ 5 سال کے لیے جماعت اسلامی کے پانچویں امیر منتخب ہوگئے ہیں ۔ سید منور حسن کی مدت امارت اپریل میں ختم ہو رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر متوقع نتیجہ ہے کیونکہ عمومی خیال یہی تھا کہ سید منور حسن کو ہی اگلے پانچ سال کے لیے امیر جماعت منتخب کیا جائے گا۔ جنوری 2014 میں منعقدہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ارکان کی سہولت کے لیے سراج الحق، لیاقت بلوچ اور سید منور حسن کے نام تجویز کیے تھے۔جماعت اسلامی کی روایت رہی ہے کہ امیر جب تک خود دستبردار نہ ہو ارکان عموماً انھیں ہی منتخب کرتے ہیں۔ لیکن اس بار یہ روایت بدل گئی ہے۔ سید منور حسن خود بھی کہہ چکے تھے کہ اس عمر میں جماعت اسلامی کی امارت کا بوجھ اٹھانا ان کے لیے خاصا کٹھن ہے۔ ممکن ہے ان کے اسی پہلو کو سامنے رکھ کر نسبتاً نوجوان سراج الحق کا انتخاب کیا گیا ہے۔ نتیجہ خواہ کوئی بھی سامنے آیا ہے اس سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ جماعت اسلامی ایک جمہوری کلچر کی حامی جماعت ہے اور وہاں اعلیٰ ترین عہدے پر نامزدگی نہیں بلکہ انتخاب ہوتا ہے۔جماعت اسلامی کے نئے امیر سراج الحق 5 دسمبر 1962 کو ثمر باغ ضلع دیر میں پیدا ہوئے۔
وہ 1988 سے 1991 تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے۔ 2003 میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر، 2009 میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر بنے۔ انھوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے ایم اے سیاسیات کیا۔ وہ 2002 میں صوبائی اسمبلی خیبر پی کے، کے ممبر منتخب ہوئے۔ انھوں نے ڈمہ ڈولہ مدرسہ پر ڈرون حملے کے خلاف احتجاجاً اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ 2013 میں وہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس وقت وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سینئر وزیر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کا وزیر خزانہ ہوتے ہوئے بھی وہ پشاور میں رنگ روڈ پر کرائے کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ ملک کی سیاسی قیادت نے جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر کو مبارک باد دی ہے۔ بہر حال جماعت اسلامی نے ملک کی دوسری جماعتوں کے برعکس تنظیمی سطح پر جس جمہوری طرز عمل کو اپنایا ہے وہ سب کے لیے ایک مثال ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ ن 'پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنظیمی سطح پر جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہوتی تو وہ لازمی طور پر ملکی سطح پر بھی جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کریں گی۔
وہ 1988 سے 1991 تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے۔ 2003 میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر، 2009 میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر بنے۔ انھوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے ایم اے سیاسیات کیا۔ وہ 2002 میں صوبائی اسمبلی خیبر پی کے، کے ممبر منتخب ہوئے۔ انھوں نے ڈمہ ڈولہ مدرسہ پر ڈرون حملے کے خلاف احتجاجاً اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ 2013 میں وہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس وقت وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سینئر وزیر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کا وزیر خزانہ ہوتے ہوئے بھی وہ پشاور میں رنگ روڈ پر کرائے کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ ملک کی سیاسی قیادت نے جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر کو مبارک باد دی ہے۔ بہر حال جماعت اسلامی نے ملک کی دوسری جماعتوں کے برعکس تنظیمی سطح پر جس جمہوری طرز عمل کو اپنایا ہے وہ سب کے لیے ایک مثال ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ ن 'پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنظیمی سطح پر جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہوتی تو وہ لازمی طور پر ملکی سطح پر بھی جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کریں گی۔