ذکر ایک سفر کا
سیدھی سادی اور صاف بات تو صرف اتنی سی ہے کہ صوابی کے ایک مشہور قصبے ’’زیدہ‘‘ جانا چاہتے تھے
barq@email.com
سیدھی سادی اور صاف بات تو صرف اتنی سی ہے کہ صوابی کے ایک مشہور قصبے ''زیدہ'' جانا چاہتے تھے جہاں ایک تعلیمی ادارے فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں ایک تقریب تھی لیکن اگر ہر کہانی اور سفر نامے کو سیدھا سیدھا بیان کیا جائے تو پھرتو رام چندر نے اپنی بیوی کو اغوا کرنے والے راون کا خاتمہ کر لیا اور ہم زیدہ گئے اور آئے ۔۔۔ ہر کہانی کا اپنا شان نزول ہوتا ہے' سیاق و سباق ہوتا ہے اپنے اپنے موڑ ہوتے ہیں اور کردار ہوتے ہیں، داستان حمزہ میں پھر نہ تو عمرو عیار کی ضرورت تھی نہ بزرجمہر کی اور نہ بختک وزیر کی، ابن بطوطہ کا سفرنامہ صرف اتنا ہے کہ وہ آیا رہا اور گیا اور قلوپطرہ کی کہانی تو سب کو معلوم ہے کہ آئی دیکھا اور فتح کیا
لیجیے سنیے اب افسانہ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
یہ اندازہ تو ہمیں تھا کہ ان دنوں انسانوں کی طرح شہروں، قصبوں اور دیہات کو بھی کچھ ناگفتہ قسم کے امراض لاحق ہو رہے ہیں کیوں کہ لوگ شہروں میں بہت آتے جاتے رہتے ہیں اور وہاں سے طرح طرح کے جراثیم اور وائرس اپنے ہاتھوں، جوتوں اور لباس میں چمٹا کر لے آتے ہیں اور پھر وہی امراض ان قصبوں اور دیہات کو بھی لاحق ہو جاتے ہیں جو دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں اور بے چارے قصبے اور گاؤں بھی ''سٹی فلو'' میں مبتلا ہو جاتے ہیں، حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہے چنانچہ دیہات سے شہر جانے والوں کی سختی سے جانچ پڑتال ہوتی ہے ہر سڑک پر باقاعدہ ان کی جھاڑ پونچھ ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ان کا دھول اڑاتے ہیں اور ''قرنطینہ'' میں رکھتے ہیں تاکہ کوئی کسی طرح کا کوئی مرض شہر میں درآمد نہ کر سکے، لیکن افسوس کہ شہر سے باہر جانے کو اس ہفت خوان یا قرنطینہ سے نہیں گزارا جاتا اور وہ طرح طرح کی بیماریاں شہر سے برآمد کر کے دیہات اور قصبوں میں پھیلا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دور دراز کے دیہات میں بھی شہروں کے سارے امراض پھیل چکے ہیں اور تقریباً ہر گاؤں اور قصبہ شہری امراض میں مبتلا ہو چکا ہے، لیکن ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس گاؤں زیدہ کو ہم جارہے ہیں۔ اس بے چارے کی حالت اتنی نازک ہو گئی ہو گی' کئی سال پہلے بھی ہم نے زیدہ کو دیکھا تھا اچھا خاصا تندرست درست چست اور ہٹا کٹا تھا لیکن اب کے جو دیکھا تو زیدہ کہیں تھا ہی نہیں صرف امراض ہی امراض دکھائی دے رہے تھے
ہم تو سمجھے تھے کہ ہوں گے یہی دو چار ہی زخم
تیرے دل میں تو بڑا کام رفو کا نکلا
زیدہ کو رفوگری کی گئی ہے لیکن کسی ماہر رفوگر نے نہیں بلکہ کسی اناڑی رفوگر سے یہ کام کرایا گیا ہے، ارے ہاں ہم یہ تو بھول گئے کہ کہانی میں پہلے جغرافیہ بتانا پڑتا ہے زیدہ ضلع صوابی میں واقع ہے اور جب صوابی بلکہ مردان تک بھی ''ضلعے'' نہیں بنے تھے اسی وقت بھی یہاں زیدہ موجود تھا جس طرح پشاور اس وقت پشاور تھا جب پاکستان نہیں بنا تھا اور اس وقت بھی جب یہاں نہ مغل تھے نہ سکھ اور نہ انگریز، ایک دن پشاور سے کسی نے اس کی عمر پوچھی بھی تھی لیکن اس کا جواب بڑا مجمل تھا کہ
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
زیدہ کے ایک طرف وہ ٹوپی ہے جس میں نہ جانے لوگ کیا کیا کرتے رہتے ہیں۔ اس میں کھاتے ہیں پیتے ہیں بلکہ سوتے بھی ہیں یعنی وہ تمام کام اس ''ٹوپی'' میں کیے جاتے ہیں جو عام طور پر ٹوپی میں نہیں کیے جاتے ۔۔۔ لیکن اس میں کوئی کچھ کہہ بھی نہیں سکتا، اگر کوئی کہے کہ ٹوپی تو صرف پہننے کی چیز ہوتی ہے اور تم اپنی ٹوپی کو پہننے کے بجائے اسے طرح طرح کے کاموں کے لیے ''یوز'' کرتے ہو' بھلا ٹوپی میں کوئی کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے یا نہاتا دھوتا ہے بلکہ ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ لوگ یہاں لڑتے بھی ہیں اور شادیاں تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں، لیکن کسی کے پوچھنے پر ٹوپی والے پھٹ سے جواب دے سکتے ہیں کہ تم کون ہوتے ہو ہماری اپنی ٹوپی ہے ہم اس میں جو چاہیں کریں تمہیں اس سے کیا؟ ۔۔۔ تو اس کی کیا عزت رہ جائے گی اس لیے ہم نے بھی کبھی ٹوپی والوں سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ تم ٹوپی میں اتنے سارے کام کیوں کرتے ہو، زیدہ کے دوسری طرف صوابی ہے جو غالباً پہلے ثوابی ہوتا ہوگا لیکن جب سے یہاں پر صوابدیدی فنڈز کی ریل پیل ہوئی ہے تب سے اس کے تلفظ کو بھی درست کرکے ''صوابی'' کر دیا گیا ہے، چنانچہ آج کل یہاں پر ہمارے دیرینہ دوست عثمان خان ترکئی جو کبھی ہمارے ساتھ ٹی وی میں انجینئر ہوا کرتے تھے لیکن آج کل اتنے اونچے ایم این اے ہیں کہ اسفندیار ولی کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں کیوں کہ عثمان خان قطر اور الجزیرہ سے جو تجربہ لائے ہیں' وہ اسفندیار ولی کے پاس کہاں جو صرف اسلام آباد تک پڑھے ہوئے ہیں، پھر ان کے بھتیجے شہرام خان ترکئی تو اتنی تیزی سے روبہ ترقی ہیں اور اتنی زیادہ لیاقت رکھتے ہیں کہ جی چاہتاہے کہ ان کا نام شہرام خان ترکئی کے بجائے شہرام خان ترقی رکھ دیں، اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی تیز رفتار ترقی ۔۔۔۔ خدا کسی کو نظر بد سے بچائے رکھے اور ہمارے مہربان قدر دان اسد قیصر بھی تو ہیں ۔۔۔۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ صوابی کا نام بجا طور پر صوابی ہے کیوں کہ یہاں صواب اور صوابدیدی فنڈز ہی نظر آتے ہیں، ان حالات میں بے چارے زیدہ کو امراض لاحق نہ ہوں تو کیا ہو، ہمیں بتایا گیا کہ ہماری منزل یعنی FEF بائی پاس روڈ پر ہے لیکن بائی پاس کی تلاش میں اتنے بائی پاس سے گزرے کہ آنکھوں میں بائی پاس ہی بائی پاس رچ بس گئے۔ فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن یعنی (FEF) کا ذکر تو بعد میں کریں گے کیونکہ ابھی بائی پاسوں کا سلسلہ ختم کہاں ہوا، FEF والوں سے فون پر ہمارا رابطہ قائم تھا اور وہ جو بھی بائی پاس بتاتے ہم اس پر ہو لیتے۔
دراصل یہ ادھر ادھر کی ہم نے اس لیے ہانکی کہ اصل بات وہی چھوٹی سی ہے یعنی ہم فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیش گئے اور واپس آگئے لیکن کالم کا پیٹ بھی تو بھرنا پڑتا ہے۔ فرنٹیئر فاؤنڈیشن میں ہمیں اسناد اور انعامات کو تقسیم کرنا تھا۔ تقیسم تو پہلے سے ہوئی تھی ان کو متعلقہ حق داروں تک پہنچانا تھا اس بات کی داد نہ دینا بے انصافی ہو گی کہ اس فاؤنڈیشن نے صوابی اور زیدہ میں اچھے خاصے ذہن کو اکٹھا کر کے رکھا ہوا ہے، ادارے کی پرنسپل بڑی لائق اور محنتی خاتون ہیں جن کا نام تو ہمیں یاد نہیں رہا لیکن کام مدتوں یاد رہے گا خاص طور پر وہ ایک لڑکی جس نے ہمیں آئینہ دکھا دیا تھا۔ اب تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ صرف ہمیں ہی مختلف علوم و فنون پر یدطولیٰ حاصل ہے لیکن اس لڑکی ''حنا مستان'' نے ثابت کر دیا کہ ہم جو کچھ اتنے لمبے عرصے میں حاصل کر پائے ہیں وہ اس نے اس چھوٹی سی عمر میں حاصل کر لیا، ایسا کوئی موضوع نہ تھا ایسا کوئی شعبہ کوئی فن نہیں تھا جس میں اس نے اول پوزیشن حاصل نہ کی ہو نہ جانے آگے چل کر کیا ''بلا'' بنے گی اسے ایک زبردست ایڈوانٹیج یہ بھی حاصل ہے کہ شکل و صورت کی طرف سے کسی کی بری نظر یا برے اداروں کا بھی خطرہ نہیں ہے اپنی ذہانت لیاقت اور صلاحیتوں نے اسے ایسا چمکا دیا ہے کہ شکل و صورت کی طرف کسی کی نگاہ جائے گی ہی نہیں۔
لیجیے سنیے اب افسانہ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
یہ اندازہ تو ہمیں تھا کہ ان دنوں انسانوں کی طرح شہروں، قصبوں اور دیہات کو بھی کچھ ناگفتہ قسم کے امراض لاحق ہو رہے ہیں کیوں کہ لوگ شہروں میں بہت آتے جاتے رہتے ہیں اور وہاں سے طرح طرح کے جراثیم اور وائرس اپنے ہاتھوں، جوتوں اور لباس میں چمٹا کر لے آتے ہیں اور پھر وہی امراض ان قصبوں اور دیہات کو بھی لاحق ہو جاتے ہیں جو دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں اور بے چارے قصبے اور گاؤں بھی ''سٹی فلو'' میں مبتلا ہو جاتے ہیں، حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہے چنانچہ دیہات سے شہر جانے والوں کی سختی سے جانچ پڑتال ہوتی ہے ہر سڑک پر باقاعدہ ان کی جھاڑ پونچھ ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ان کا دھول اڑاتے ہیں اور ''قرنطینہ'' میں رکھتے ہیں تاکہ کوئی کسی طرح کا کوئی مرض شہر میں درآمد نہ کر سکے، لیکن افسوس کہ شہر سے باہر جانے کو اس ہفت خوان یا قرنطینہ سے نہیں گزارا جاتا اور وہ طرح طرح کی بیماریاں شہر سے برآمد کر کے دیہات اور قصبوں میں پھیلا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دور دراز کے دیہات میں بھی شہروں کے سارے امراض پھیل چکے ہیں اور تقریباً ہر گاؤں اور قصبہ شہری امراض میں مبتلا ہو چکا ہے، لیکن ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس گاؤں زیدہ کو ہم جارہے ہیں۔ اس بے چارے کی حالت اتنی نازک ہو گئی ہو گی' کئی سال پہلے بھی ہم نے زیدہ کو دیکھا تھا اچھا خاصا تندرست درست چست اور ہٹا کٹا تھا لیکن اب کے جو دیکھا تو زیدہ کہیں تھا ہی نہیں صرف امراض ہی امراض دکھائی دے رہے تھے
ہم تو سمجھے تھے کہ ہوں گے یہی دو چار ہی زخم
تیرے دل میں تو بڑا کام رفو کا نکلا
زیدہ کو رفوگری کی گئی ہے لیکن کسی ماہر رفوگر نے نہیں بلکہ کسی اناڑی رفوگر سے یہ کام کرایا گیا ہے، ارے ہاں ہم یہ تو بھول گئے کہ کہانی میں پہلے جغرافیہ بتانا پڑتا ہے زیدہ ضلع صوابی میں واقع ہے اور جب صوابی بلکہ مردان تک بھی ''ضلعے'' نہیں بنے تھے اسی وقت بھی یہاں زیدہ موجود تھا جس طرح پشاور اس وقت پشاور تھا جب پاکستان نہیں بنا تھا اور اس وقت بھی جب یہاں نہ مغل تھے نہ سکھ اور نہ انگریز، ایک دن پشاور سے کسی نے اس کی عمر پوچھی بھی تھی لیکن اس کا جواب بڑا مجمل تھا کہ
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
زیدہ کے ایک طرف وہ ٹوپی ہے جس میں نہ جانے لوگ کیا کیا کرتے رہتے ہیں۔ اس میں کھاتے ہیں پیتے ہیں بلکہ سوتے بھی ہیں یعنی وہ تمام کام اس ''ٹوپی'' میں کیے جاتے ہیں جو عام طور پر ٹوپی میں نہیں کیے جاتے ۔۔۔ لیکن اس میں کوئی کچھ کہہ بھی نہیں سکتا، اگر کوئی کہے کہ ٹوپی تو صرف پہننے کی چیز ہوتی ہے اور تم اپنی ٹوپی کو پہننے کے بجائے اسے طرح طرح کے کاموں کے لیے ''یوز'' کرتے ہو' بھلا ٹوپی میں کوئی کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے یا نہاتا دھوتا ہے بلکہ ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ لوگ یہاں لڑتے بھی ہیں اور شادیاں تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں، لیکن کسی کے پوچھنے پر ٹوپی والے پھٹ سے جواب دے سکتے ہیں کہ تم کون ہوتے ہو ہماری اپنی ٹوپی ہے ہم اس میں جو چاہیں کریں تمہیں اس سے کیا؟ ۔۔۔ تو اس کی کیا عزت رہ جائے گی اس لیے ہم نے بھی کبھی ٹوپی والوں سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ تم ٹوپی میں اتنے سارے کام کیوں کرتے ہو، زیدہ کے دوسری طرف صوابی ہے جو غالباً پہلے ثوابی ہوتا ہوگا لیکن جب سے یہاں پر صوابدیدی فنڈز کی ریل پیل ہوئی ہے تب سے اس کے تلفظ کو بھی درست کرکے ''صوابی'' کر دیا گیا ہے، چنانچہ آج کل یہاں پر ہمارے دیرینہ دوست عثمان خان ترکئی جو کبھی ہمارے ساتھ ٹی وی میں انجینئر ہوا کرتے تھے لیکن آج کل اتنے اونچے ایم این اے ہیں کہ اسفندیار ولی کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں کیوں کہ عثمان خان قطر اور الجزیرہ سے جو تجربہ لائے ہیں' وہ اسفندیار ولی کے پاس کہاں جو صرف اسلام آباد تک پڑھے ہوئے ہیں، پھر ان کے بھتیجے شہرام خان ترکئی تو اتنی تیزی سے روبہ ترقی ہیں اور اتنی زیادہ لیاقت رکھتے ہیں کہ جی چاہتاہے کہ ان کا نام شہرام خان ترکئی کے بجائے شہرام خان ترقی رکھ دیں، اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی تیز رفتار ترقی ۔۔۔۔ خدا کسی کو نظر بد سے بچائے رکھے اور ہمارے مہربان قدر دان اسد قیصر بھی تو ہیں ۔۔۔۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ صوابی کا نام بجا طور پر صوابی ہے کیوں کہ یہاں صواب اور صوابدیدی فنڈز ہی نظر آتے ہیں، ان حالات میں بے چارے زیدہ کو امراض لاحق نہ ہوں تو کیا ہو، ہمیں بتایا گیا کہ ہماری منزل یعنی FEF بائی پاس روڈ پر ہے لیکن بائی پاس کی تلاش میں اتنے بائی پاس سے گزرے کہ آنکھوں میں بائی پاس ہی بائی پاس رچ بس گئے۔ فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن یعنی (FEF) کا ذکر تو بعد میں کریں گے کیونکہ ابھی بائی پاسوں کا سلسلہ ختم کہاں ہوا، FEF والوں سے فون پر ہمارا رابطہ قائم تھا اور وہ جو بھی بائی پاس بتاتے ہم اس پر ہو لیتے۔
دراصل یہ ادھر ادھر کی ہم نے اس لیے ہانکی کہ اصل بات وہی چھوٹی سی ہے یعنی ہم فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیش گئے اور واپس آگئے لیکن کالم کا پیٹ بھی تو بھرنا پڑتا ہے۔ فرنٹیئر فاؤنڈیشن میں ہمیں اسناد اور انعامات کو تقسیم کرنا تھا۔ تقیسم تو پہلے سے ہوئی تھی ان کو متعلقہ حق داروں تک پہنچانا تھا اس بات کی داد نہ دینا بے انصافی ہو گی کہ اس فاؤنڈیشن نے صوابی اور زیدہ میں اچھے خاصے ذہن کو اکٹھا کر کے رکھا ہوا ہے، ادارے کی پرنسپل بڑی لائق اور محنتی خاتون ہیں جن کا نام تو ہمیں یاد نہیں رہا لیکن کام مدتوں یاد رہے گا خاص طور پر وہ ایک لڑکی جس نے ہمیں آئینہ دکھا دیا تھا۔ اب تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ صرف ہمیں ہی مختلف علوم و فنون پر یدطولیٰ حاصل ہے لیکن اس لڑکی ''حنا مستان'' نے ثابت کر دیا کہ ہم جو کچھ اتنے لمبے عرصے میں حاصل کر پائے ہیں وہ اس نے اس چھوٹی سی عمر میں حاصل کر لیا، ایسا کوئی موضوع نہ تھا ایسا کوئی شعبہ کوئی فن نہیں تھا جس میں اس نے اول پوزیشن حاصل نہ کی ہو نہ جانے آگے چل کر کیا ''بلا'' بنے گی اسے ایک زبردست ایڈوانٹیج یہ بھی حاصل ہے کہ شکل و صورت کی طرف سے کسی کی بری نظر یا برے اداروں کا بھی خطرہ نہیں ہے اپنی ذہانت لیاقت اور صلاحیتوں نے اسے ایسا چمکا دیا ہے کہ شکل و صورت کی طرف کسی کی نگاہ جائے گی ہی نہیں۔