بیوریجز سیکٹر سے کپسیٹی ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی کا خدشہ

وصولیاں رک گئیں، نقصان کے خدشے پرمعاملہ نمٹانے کیلیے ایف بی آر نے لیگل ونگ متحرک کردیا،ذرائع

وصولیاں رک گئیں، نقصان کے خدشے پرمعاملہ نمٹانے کیلیے ایف بی آر نے لیگل ونگ متحرک کردیا،ذرائع،اسٹیک ہولڈرزکی مشاورت نہ کرنے کی شکایات فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مشروبات مینوفیکچررز پر عائد کردہ کپیسٹی ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے ماہانہ کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔


جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریونیو شارٹ فال میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر چند مشروبات مینوفیکچررزکی طرف سے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکس جمع کرانے کی یقین دہانی کی خوش فہمی میں 47 لاکھ روپے فی والو کے حساب سے کپیسٹی ٹیکس عائد کیا لیکن رواں مالی سال کے 8 ماہ گزرنے پر بھی بیوریجز سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی جس پر کچھ عرصے قبل ایف بی آر نے بیوریجز سیکٹر پر عائد کپیسٹی ٹیکس بڑھا کر 75 لاکھ روپے فی والو کردیا اور وہ بیوریجز کمپنیاں جنہوں نے 25فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکس جمع کرانے کا لالچ دے کر کپیسٹی ٹیکس لگوایا تھا ان ہی کمپنیوں نے ایف بی آر کی طرف سے کپیسٹی ٹیکس میں اضافے کے خلاف حکم امتناع حاصل کرلیا جس سے ایف بی آر کو ٹیکس وصولیاں رک گئیں۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ کپیسٹی ٹیکس کے ایشو پر پاکستان فروٹ جوس مینوفیکچرر کمپنی سمیت دیگر مشروبات مینوفیکچررز کی طرف سے درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں جس میں کپیسٹی ٹیکس کے نفاذ میں عدم مشاورت کی شکایت کی گئی اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کپیسٹی ٹیکس کے حوالے سے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)کی طرف سے بھی پالیسی نوٹ جاری کیا گیا جس میں اس ٹیکس کو غیرمنصفانہ اور مسابقت کے خلاف قرار دیا اور ایف بی آر کو کپیسٹی ٹیکس کے نفاذ کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لینے کی سفارش کی گئی تاکہ بیوریجز سیکٹر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع کی فراہمی اور مسابقت کو فروغ دیا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے بیوریجز سیکٹر پر عائد کپیسٹی ٹیکس کا مسئلہ فوری بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ اس سیکٹر سے 25 ارب روپے سالانہ سے زائد ٹیکس ملتا ہے اور اگر اس شعبے سے ٹیکس کی وصولی نہیں ہوتی تو اس صورت میں ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے اس ضمن میں لیگل ونگ کو بھی متحرک کردیا ہے۔
Load Next Story