حکمران بتادیں کونسے ایک شعبے میں بہتری کی ہےاحسن اقبال
مسلم لیگ ن تنہائی کا شکارہے:امتیازصفدر’’ٹودی پوائنٹ‘‘میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو۔
مسلم لیگ ن تنہائی کا شکارہے:امتیازصفدر’’ٹودی پوائنٹ‘‘میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو، فوٹو: فائل
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے خائف قوتیں پاکستان کی معیشت کو بالکل اسی طرح تباہ کرنا چاہتی ہیں۔
جس طرح سویت یونین کی معیشت کو گورباچوف کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ ان قوتوں نے پاکستان میںگورباچوفوں کا ٹولہ مسلط کر رکھا ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساڑھے چار سال میں پاکستان کے قرضے پانچ کھرب سے بڑھ کر ساڑھے بارہ کھرب ہو گئے ہیں۔ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ 65 ہزار روپے کا مقروض ہوتا ہے۔
انہوں نے کس شعبے میں بہتری کی ہے۔ لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی بڑھی ہے یا کم ہوئی ہے؟ ریلوے اور پی آئی اے کی حالت کیا 2008 سے بہتر ہے؟معیشت تباہ کرنے میں پیپلزپارٹی تنہا نہیں۔اس کے ساتھ ایم کیو ایم ، اے این پی اور مسلم لیگ ق بھی شامل ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسیاں ملک کو تباہ کرنے والی پالیسیاں ہیں اور کسی کو فکر نہیں ہے۔ ا س بات کی تو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ ہم نے دوبارہ بر سراقتدار کیسے آنا ہے۔غریب آدمی پر کیا گزر رہی ہے کسی کو اس کی فکر نہیں۔ میاں نواز شریف نے ہوا میں تلواریں تو بہت چلائی ہیںمگر ملکی بہتری کے لیے کوئی دستاویزی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال میں بہت ابتری آئی ہے۔ سکولوں میں طلبا کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی ہے۔
زراعت کی حالت بھی خراب ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ ہم نے صحافیوں کو خریدنا ہوتا تو ساڑھے چار سال پہلے ہی خرید لیتے۔ ہمارے بارے میں یہی کہا گیا کہ حکومت آج جا رہی ہے کل جا رہی ہے۔مسلم لیگ ن تنہائی کا شکارہے ۔ یہ دوڈویژنوں کی پارٹی رہ گئی ہے۔کرپشن کی باتیں کرنے والے بتائیں کہ کیا پنجاب میںتعلیم کا نظام ٹھیک ہو گیا ہے۔ 19 ہزار کا لیپ ٹاپ 33 ہزار میں خریدا جا رہا ہے۔
جس طرح سویت یونین کی معیشت کو گورباچوف کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ ان قوتوں نے پاکستان میںگورباچوفوں کا ٹولہ مسلط کر رکھا ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساڑھے چار سال میں پاکستان کے قرضے پانچ کھرب سے بڑھ کر ساڑھے بارہ کھرب ہو گئے ہیں۔ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ 65 ہزار روپے کا مقروض ہوتا ہے۔
انہوں نے کس شعبے میں بہتری کی ہے۔ لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی بڑھی ہے یا کم ہوئی ہے؟ ریلوے اور پی آئی اے کی حالت کیا 2008 سے بہتر ہے؟معیشت تباہ کرنے میں پیپلزپارٹی تنہا نہیں۔اس کے ساتھ ایم کیو ایم ، اے این پی اور مسلم لیگ ق بھی شامل ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسیاں ملک کو تباہ کرنے والی پالیسیاں ہیں اور کسی کو فکر نہیں ہے۔ ا س بات کی تو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ ہم نے دوبارہ بر سراقتدار کیسے آنا ہے۔غریب آدمی پر کیا گزر رہی ہے کسی کو اس کی فکر نہیں۔ میاں نواز شریف نے ہوا میں تلواریں تو بہت چلائی ہیںمگر ملکی بہتری کے لیے کوئی دستاویزی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال میں بہت ابتری آئی ہے۔ سکولوں میں طلبا کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی ہے۔
زراعت کی حالت بھی خراب ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ ہم نے صحافیوں کو خریدنا ہوتا تو ساڑھے چار سال پہلے ہی خرید لیتے۔ ہمارے بارے میں یہی کہا گیا کہ حکومت آج جا رہی ہے کل جا رہی ہے۔مسلم لیگ ن تنہائی کا شکارہے ۔ یہ دوڈویژنوں کی پارٹی رہ گئی ہے۔کرپشن کی باتیں کرنے والے بتائیں کہ کیا پنجاب میںتعلیم کا نظام ٹھیک ہو گیا ہے۔ 19 ہزار کا لیپ ٹاپ 33 ہزار میں خریدا جا رہا ہے۔