شام کی خانہ جنگی میں شدت
شام میں گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آ سکی
شام میں خانہ جنگی کے باعث ہلاک اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ فوٹو؛ فائل
شام میں گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آ سکی اور نہ ہی متحارب فریقوں میں قیام امن کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔ دوسری طرف مغربی طاقتوں کا مفاد اسی میں نظر آتا ہے کہ عالم اسلام میں کہیں نہ کہیں انتشار و افتراق کی آگ مسلسل بھڑکتی رہے، ان کے اسلحہ سازی کے کارخانے آٹھ آٹھ گھنٹوں کی تین شفٹوں میں مسلسل چوبیس گھنٹے چلتے رہیں اور ان کا اسلحہ منہ مانگے داموں بکتا رہے۔ شامی دارالحکومت دمشق سے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ پیر کے دن شامی فوج نے ساحلی صوبہ لتاکیہ میں ایک کلیدی پوزیشن پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کے باعث ہلاک اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اندرونی ملک لڑائی کی شدت سے صورت حال دن بدن مزید خراب ہو رہی ہے۔
شام میں ہونے والی لڑائی کے بارے میں یہ خدشات بھی بے جا نہیں ہیں کہ یہ لڑائی مزید پھیل کر عالم اسلام میں نئی تقسیم پیدا کرنے کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ صورت حال کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ عالم عرب اور عالم اسلام کی معتبر تنظیمیں یعنی عرب لیگ اور او آئی سی کو اس موقعے پر غفلت کا مظاہرہ ترک کر کے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے، مبادا کہ حالات سب کے قابو سے باہر ہو جائیں۔ شامی فوج باغیوں کو دہشت گرد گروپوں کا نام دیتی ہے، جن کو یقینی طور پر بیرونی امداد بھی مل رہی ہے، بصورت دیگر وہ ملکی فوج کا اتنے طویل عرصے سے مقابلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ لتاکیہ میں باغیوں نے خلائی رسد گاہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر قائم اس رسدگاہ سے علوی کمیونٹی کی آبادی پر نظر رکھی جا سکتی تھی جس سے کہ صدر بشار الاسد کا اپنا تعلق ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر بہت سی لاشیں دکھائی گئیں جن کو ٹی وی اناؤنسر دہشت گرد قرار دے رہے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق جنگجو فورسز میں القاعدہ والے بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا دنیا بھر میں القاعدہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے مگر شام میں مبینہ طور پر وہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو بھی اسلحہ اور ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، عالم اسلام کو عالمی طاقتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ان تین ملکوں کی قیادت چاہے تو شام میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ اگر نظریں امریکا، مغربی یورپ یا روس و چین کی طرف رہیں تو شام میں خون ریزی مزید بڑھے گی جس سے پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہو گا۔
شام میں ہونے والی لڑائی کے بارے میں یہ خدشات بھی بے جا نہیں ہیں کہ یہ لڑائی مزید پھیل کر عالم اسلام میں نئی تقسیم پیدا کرنے کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ صورت حال کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ عالم عرب اور عالم اسلام کی معتبر تنظیمیں یعنی عرب لیگ اور او آئی سی کو اس موقعے پر غفلت کا مظاہرہ ترک کر کے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے، مبادا کہ حالات سب کے قابو سے باہر ہو جائیں۔ شامی فوج باغیوں کو دہشت گرد گروپوں کا نام دیتی ہے، جن کو یقینی طور پر بیرونی امداد بھی مل رہی ہے، بصورت دیگر وہ ملکی فوج کا اتنے طویل عرصے سے مقابلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ لتاکیہ میں باغیوں نے خلائی رسد گاہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر قائم اس رسدگاہ سے علوی کمیونٹی کی آبادی پر نظر رکھی جا سکتی تھی جس سے کہ صدر بشار الاسد کا اپنا تعلق ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر بہت سی لاشیں دکھائی گئیں جن کو ٹی وی اناؤنسر دہشت گرد قرار دے رہے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق جنگجو فورسز میں القاعدہ والے بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا دنیا بھر میں القاعدہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے مگر شام میں مبینہ طور پر وہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو بھی اسلحہ اور ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، عالم اسلام کو عالمی طاقتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ان تین ملکوں کی قیادت چاہے تو شام میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ اگر نظریں امریکا، مغربی یورپ یا روس و چین کی طرف رہیں تو شام میں خون ریزی مزید بڑھے گی جس سے پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہو گا۔