سندھ ہائیکورٹ نے عمارتوں میں سہولتوں سے متعلق معاونت طلب کرلی
راہ راست ٹرسٹ کی درخواست پر چیف سیکریٹری و دیگر سے قواعد کی تفصیلات طلب۔
راہ راست ٹرسٹ کی درخواست پر چیف سیکریٹری و دیگر سے قواعد کی تفصیلات طلب، فوٹو: ایکسپریس
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بلدیہ ٹائون کی فیکٹری سمیت شہر میں تجارتی وصنعتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات سے متعلق راہ راست ٹرسٹ کی آئینی درخواست پر متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی سمیت بڑے پیمانے پر سول سوسائٹی سے فنی معاونت طلب کرلی ہے۔
فاضل بینچ نے متعلقہ سرکاری اداروں کو بلدیہ ٹاون میں واقع فیکٹری میں سیکڑوں ورکرز کی ہلاکت کے متعلق تحقیقات کی رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، فاضل بینچ نے سول سوسائٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کثیر المنزلہ تجارتی و صنعتی عمارتوں کی تعمیر، ان میں آگ لگنے سمیت ہنگامی حالات میں وہاں موجود افراد کے بحفاظت نکلنے ، صحتمندانہ ماحول برقرار رکھنے سے متعلق قوانین ، ان کے نفاذ کے طریقہ کار، طریقہ کار پرعملدرآمد میں مشکلات کی تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ ان قوانین کے جزوی یا کلی طور پر نفاذ میں ناکامی کی وجوہات سے بھی عدالت کو آگاہ کریں ، فاضل عدالت نے اس سلسلے میں سائٹ ، کراچی میں واقع تمام کنٹونمنٹس بورڈ ، کے پی ٹی ، کے ایم سی ، سول ڈیفنس اتھارٹی ، ڈائریکٹر وزارت محنت وصنعت ، پاکستان انجینئرنگ کونسل ،پاکستان اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ/اتھارٹی ،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، سیکریٹری ہیلتھ سندھ،ہوم ڈپارٹمنٹ ،آئی جی سندھ ، اے آئی جی کراچی ، کمشنر اور کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنرزکے علاوہ بزرگ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی ،پاکستان فشرمین فورم،پائلر،انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس ،ڈاک لیبر بورڈ، سیسی ،ای او بی آئی ، این جی او شہری کے ساتھ ساتھ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی 10اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے سوالات کے متعلق اپنے تفصیلی کمنٹس، جوابات اور رپورٹس پیش کریں۔
فاضل بینچ نے مدعاعلیہان چیف سیکریٹری ، سیکریٹری ماحولیات، سیکریٹری صنعت ،سیکریٹری لیبراورچیف کنٹرولر بلڈنگ کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظت اور حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنی ذمے داریوں اور فرائض،جانوں کے بچانے کے لیے اقدامات اور کوششوں ، مختلف قواعد وضوابط اور کوڈ کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور بتائیں کہ وہ کن قوانین کے تحت انکے نفاذ کا اختیار رکھتے ہیں۔
فاضل بینچ نے متعلقہ سرکاری اداروں کو بلدیہ ٹاون میں واقع فیکٹری میں سیکڑوں ورکرز کی ہلاکت کے متعلق تحقیقات کی رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، فاضل بینچ نے سول سوسائٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کثیر المنزلہ تجارتی و صنعتی عمارتوں کی تعمیر، ان میں آگ لگنے سمیت ہنگامی حالات میں وہاں موجود افراد کے بحفاظت نکلنے ، صحتمندانہ ماحول برقرار رکھنے سے متعلق قوانین ، ان کے نفاذ کے طریقہ کار، طریقہ کار پرعملدرآمد میں مشکلات کی تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ ان قوانین کے جزوی یا کلی طور پر نفاذ میں ناکامی کی وجوہات سے بھی عدالت کو آگاہ کریں ، فاضل عدالت نے اس سلسلے میں سائٹ ، کراچی میں واقع تمام کنٹونمنٹس بورڈ ، کے پی ٹی ، کے ایم سی ، سول ڈیفنس اتھارٹی ، ڈائریکٹر وزارت محنت وصنعت ، پاکستان انجینئرنگ کونسل ،پاکستان اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ/اتھارٹی ،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، سیکریٹری ہیلتھ سندھ،ہوم ڈپارٹمنٹ ،آئی جی سندھ ، اے آئی جی کراچی ، کمشنر اور کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنرزکے علاوہ بزرگ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی ،پاکستان فشرمین فورم،پائلر،انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس ،ڈاک لیبر بورڈ، سیسی ،ای او بی آئی ، این جی او شہری کے ساتھ ساتھ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی 10اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے سوالات کے متعلق اپنے تفصیلی کمنٹس، جوابات اور رپورٹس پیش کریں۔
فاضل بینچ نے مدعاعلیہان چیف سیکریٹری ، سیکریٹری ماحولیات، سیکریٹری صنعت ،سیکریٹری لیبراورچیف کنٹرولر بلڈنگ کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظت اور حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنی ذمے داریوں اور فرائض،جانوں کے بچانے کے لیے اقدامات اور کوششوں ، مختلف قواعد وضوابط اور کوڈ کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور بتائیں کہ وہ کن قوانین کے تحت انکے نفاذ کا اختیار رکھتے ہیں۔