مہنگی ایل این جی کا یوریا کی تیاری میں استعمال قابل عمل نہیں
گیس ملی نہ منافع بڑھا، کھاد سیکٹر کیلیے گزشتہ 5 سال مشکل، کسانوں کو 374 ارب فائدہ دیا گیا
3یوریا دام بڑھانے سے 70 ارب نقصان، گیس بندش سے درآمد اور سبسڈی پر زیادہ خرچ ہو گا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان میں یوریا کی پیداواری صلاحیت طلب سے زیادہ ہونے اورگیس کی قلت کے باعث کیمیائی کھاد کے نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس نہیں لگ سکتے، حکومت انڈسٹری کوگیس کی مطلوبہ مقدارفراہم کرے توزرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ٹیکس ریونیو میں اربوں روپے کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
یہ بات کیمیائی کھاد کے زراعت پر اثرات کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ سے فرٹیلائزر انڈسٹری کے نمائندوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کی پیداواری صلاحیت 69 لاکھ ٹن جبکہ طلب59 لاکھ ٹن ہے، اس طرح پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد 10 لاکھ ٹن یوریا برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال پرانھوں نے کہا کہ گیس بحران میں فرٹیلائزر انڈسٹری میں ایل این جی کومتبادل ذرائع کے طور پراستعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایل این جی کی لاگت بہت زیادہ ہے اور ایل این جی کے ذریعے کھاد بنانا انتہائی مہنگا عمل ہے اور اتنی مہنگی یوریا دنیا میں کوئی بھی نہیں خریدے گا۔
فرٹیلائزر مینوفیکچررز پاکستان ایڈوائزری کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرشہاب خواجہ نے بتایا کہ فرٹیلائزر انڈسٹری کیلیے گزشتہ 5سال مشکل ترین ثابت ہوئے کیونکہ گیس کی عدم فراہمی سے پیداواری سرگرمیوں میں کمی ہوئی اور کھاد ساز اداروں کے منافع میں بھی قابل ذکر اضافہ نہ ہوسکا، اس عرصے میں انڈسٹری نے مقامی یوریا عالمی قیمت سے کم پر فروخت کرکے کسانوں کو 374ارب روپے کا فائدہ پہنچایا، اگر یوریا کے بیگ کی قیمت میں 150سے 200روپے کا اضافہ کیا جاتا ہے توایک اندازے کے مطابق اس کے استعمال میں 8تا 10فیصد اور زرعی پیداوار میں 8فیصدکمی جبکہ معیشت کو 70ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے، اگر انڈسٹری کی گیس مکمل بند کی جاتی ہے تو یوریا کی درآمد پر سالانہ 2.3ارب ڈالر خرچ اور 96ارب روپے کی سبسڈی دینا ہو گی اور اگر حکومت درآمدی یوریا کوعالمی قیمت پر فروخت کرتی ہے تو کسانوںپر 100ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ورکشاپ سے روحیل محمد اور ڈاکٹر ندیم طارق نے بھی خطاب کیا۔
پاکستان میں یوریا کی پیداواری صلاحیت طلب سے زیادہ ہونے اورگیس کی قلت کے باعث کیمیائی کھاد کے نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس نہیں لگ سکتے، حکومت انڈسٹری کوگیس کی مطلوبہ مقدارفراہم کرے توزرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ٹیکس ریونیو میں اربوں روپے کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
یہ بات کیمیائی کھاد کے زراعت پر اثرات کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ سے فرٹیلائزر انڈسٹری کے نمائندوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کی پیداواری صلاحیت 69 لاکھ ٹن جبکہ طلب59 لاکھ ٹن ہے، اس طرح پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد 10 لاکھ ٹن یوریا برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال پرانھوں نے کہا کہ گیس بحران میں فرٹیلائزر انڈسٹری میں ایل این جی کومتبادل ذرائع کے طور پراستعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایل این جی کی لاگت بہت زیادہ ہے اور ایل این جی کے ذریعے کھاد بنانا انتہائی مہنگا عمل ہے اور اتنی مہنگی یوریا دنیا میں کوئی بھی نہیں خریدے گا۔
فرٹیلائزر مینوفیکچررز پاکستان ایڈوائزری کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرشہاب خواجہ نے بتایا کہ فرٹیلائزر انڈسٹری کیلیے گزشتہ 5سال مشکل ترین ثابت ہوئے کیونکہ گیس کی عدم فراہمی سے پیداواری سرگرمیوں میں کمی ہوئی اور کھاد ساز اداروں کے منافع میں بھی قابل ذکر اضافہ نہ ہوسکا، اس عرصے میں انڈسٹری نے مقامی یوریا عالمی قیمت سے کم پر فروخت کرکے کسانوں کو 374ارب روپے کا فائدہ پہنچایا، اگر یوریا کے بیگ کی قیمت میں 150سے 200روپے کا اضافہ کیا جاتا ہے توایک اندازے کے مطابق اس کے استعمال میں 8تا 10فیصد اور زرعی پیداوار میں 8فیصدکمی جبکہ معیشت کو 70ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے، اگر انڈسٹری کی گیس مکمل بند کی جاتی ہے تو یوریا کی درآمد پر سالانہ 2.3ارب ڈالر خرچ اور 96ارب روپے کی سبسڈی دینا ہو گی اور اگر حکومت درآمدی یوریا کوعالمی قیمت پر فروخت کرتی ہے تو کسانوںپر 100ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ورکشاپ سے روحیل محمد اور ڈاکٹر ندیم طارق نے بھی خطاب کیا۔