سگنل فری کوریڈورز بے مقصد ہوگئے اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں سے روزانہ ٹریفک جام

اداروں کے تحت سروس روڈز پر دیواروں کی تعمیر اوریوٹرن پر پولیس کے ناکوں نے شہریوں کاجینا بھی دوبھر کردیا

ایم اے جناح روڈ پرسیکیورٹی اقدامات کے تحت لائے گئے کنکریٹ بلاک رکھے ہوئے ہیں جس سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی میں دہشت گردی کے خوف سے اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں کی تنصیب و بندش، ٹریفک پولیس کی جانب سے سگنلز کی بندش ، اہم اداروں کی جانب سے سروس سڑکوں پر دیواروں کی تعمیر اوریوٹرن پر پولیس کے ناکوں نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔

اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے، اربوں روپے سے تعمیر ہونے والے سگنل فری کوریڈورز کا مقصد بھی فوت ہوگیا ہے، تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس کی جانب سے اہم ترین چوراہوں نمائش،گرومندر کریم آباد اور صدر ایریاز کے سگنلز آپریشن بند کردیے گئے ہیں جس کے باعث مصروف اوقات میں یہاں شدید ٹریفک جام رہتا ہے، مزار قائد پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر نیو پریڈی اسٹریٹ،شاہراہ قائدین اور پیپلز سیکریٹریٹ چورنگی تا گرومندر سڑکوں کے کچھ حصوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ایک ٹریک بند کردیا گیا ہے،ان اقدامات کے باعث یہاں ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ٹرانسپورٹ کمیونیکیشن نے ٹریفک پولیس کو متعدد بار خطوط ارسال کیے کہ نمائش،گرومندر اور صدر ایریاز کے سگنل بند نہ کیے جائیں کیونکہ یہاں ٹریفک جام کے بدترین اثرات ایم اے جناح روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر پڑتے ہے۔


ایم اے جناح روڈ اور صدر شہر کا مصروف ترین علاقہ ہے، یہاں ٹریفک جام سے شہرکی اہم ترین شاہرائیں متاثر ہوتی ہیں، ٹریفک پولیس نے جواباً خط لکھا کہ متعلقہ محکمہ زمینی حقائق سے آگاہ نہیں، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر منصوبندی کرنا آسان کام ہے ،ہمیں سڑک پر کھڑے ہوکر ٹریفک کنٹرول کرنا ہوتا ہے،گزشتہ سالوں کے مقابلے میں گاڑیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے،ٹریفک سگنلز اور ٹریفک حجم ٹائمنگ سے ہم آہنگ نہیں اس لیے ٹریفک پولیس مجبوراً سگنل بند کرکے مینوئل ٹریفک کنٹرول کرتی ہے،ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کے تحت ٹریفک سگنلز میں جدید نظام نصب ہے جس میں ٹریفک والیوم کے پیش نظر اوقات کی تبدیلی کی جاسکتی ہے،ٹریفک پولیس کو بھیجے گئے مکتوب میں التماس کی گئی تھی کہ ٹریفک حجم کا ڈیٹا محکمہ ٹی سی ڈی کو فراہم کردیا جائے تاکہ سگنلز کے اوقات درست کرکے ان سڑکوں پر ٹریفک کی روانی قائم کردی جائے تاہم متعلقہ ٹریفک پولیس افسر نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔

ٹریفک ماہرین کے مطابق اس وقت شہر میں 5 سگنل فری کوریڈور ہیں جن میں شارع فیصل، کارساز تا سائٹ، شاہراہ پاکستان، یونیورسٹی روڈ اور راشد منہاس روڈ شامل ہیں، اربوں روپے سے تعمیر ہونے والے ان کوریڈورز کے ثمرات سے عوام ابھی تک محروم ہیں،کراچی میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کارساز روڈ، شاہراہ فیصل کی سروس سڑکوں پر دیواریں تعمیر کرکے تشہیری اداروں کو نیلام کردی گئی ہیں جبکہ ڈرگ روڈ فلائی اوور پر گیٹ تک نصب کیا جاچکا ہے ،یونیورسٹی روڈ پر سینٹرل جیل کی حفاظت کیلیے روزانہ رات10 بجے سڑک بند کردی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں اس سڑک پر رکاوٹیں بھی نصب کردی گئی ہیں،ٹریفک ماہرین کے مطابق سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی تنصیب عوام کے بنیادی حقوق پامال کرنے کے مترادف ہے، دنیا میں کہیں بھی سیکیورٹی کے نام پر شاہراہیں بند نہیں کی جاتیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فول پروف انتظامات کیے جاتے ہیں، شہریوں کے مطابق شہر کی اہم شاہراہوں اوریوٹرن پر پولیس ناکوں نے مسائل کو مزید گھمبیر کردیا، ناکوں پر علاقہ پولیس بلاجواز گاڑیاں روک کر تلاشی لیتی ہے اورکاغذات طلب کرتی ہے اور معاملہ بلاآخر رشوت لیکر نمٹا دیا جاتا ہے،پولیس کے ان غیرقانونی اقدام سے شہری بالخصوص نوجوانوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے، وہ ان ناکوں سے بچنے کیلیے رانگ سائیڈ سے گاڑی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر جاں لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں اور ٹریفک جام بھی سبب بنتا ہے۔
Load Next Story