مسلم امہ اختلافات کے بھنور سے نکلے
اسلامی ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم نے امت مسلمہ کے اتحاد پرکاری ضرب لگا کر اسے کمزورکردیا ہے ۔۔۔
اسلامی ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم نے امت مسلمہ کے اتحاد پرکاری ضرب لگا کر اسے کمزورکردیا ہے. فوٹو:فائل
اقوام عالم سے ربط و تعلق میں کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ خارجہ پالیسی کے خدوخال ہی کسی بھی ملک کو ترقی وکامیابی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں ، پاکستان کی خطے میں جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سے جہاں انکار ممکن نہیں،وہیں بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیارکرچکا ہے، ایک جانب تو رواں برس نیٹو اور امریکی افواج افغانستان سے انخلا کا عمل شروع کر رہی ہیں مگر افغانستان کے حکمران پاکستان پر الزام تراشی کی عادت ترک کرنے پر تیار نہیں۔دوسری جانب اسلامی ممالک میں باہم اتحاد واتفاق کی کمی کے باعث متعدد مسائل جنم لے چکے ہیں ۔
اسی پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امورِ خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان...سعودی عرب اورایران کے درمیان تعلقات میں توازن لانا چاہتا ہے جوگزشتہ پانچ برسوں سے خرابی کا شکار ہیں۔ درحقیقت اسلامی ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم نے امت مسلمہ کے اتحاد پرکاری ضرب لگا کر اسے کمزورکردیا ہے،ایران اورسعودی عرب کے تعلقات جب تک بہتر نہیں ہوںگے اس وقت تک شام کی صورتحال میں بہتری بھی ممکن نظر نہیں آتی،ایسی نازک صورتحال میں حکومت پاکستان اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہتی ہے، وہیں اس پر سعودی عرب کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کو شام کی صورتحال سے نتھی کرنے کا الزام لگایا گیا،جس کی تردید وزیراعظم اور مشیرخارجہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کی عملی کاوشوں سے اگر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات معمول پر آجاتے ہیں تو اس سے بہتر بھلا اورکیا ہوگا،ہاں تینوں ممالک کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بڑی نازک ہے،بہرحال یہی امتحان ہے ہماری خارجہ پالیسی کا۔اپوزیشن کو شک وشبہے کی روش ترک کر کے حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں خارجی محاذ پر بھارت اور افغانستان سے بھی تعلقات کو بہتربنانے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور پاکستان کو بھی تلخ ماضی بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت پاکستان کی نیت اورخلوص پر شک کی گنجائش باقی نہیں ہے، بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ خارجہ امور کے ماہر ان سب معاملات کو کس طرح حل کرتے ہیں ۔ اسلامی ممالک میں باہمی اختلافات کے خاتمے سے امت مسلمہ مضبوط ہوگی اور پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات کے نتیجے میں پاکستان میں امن وخوشحالی کا نیا سورج طلوع ہوگا۔
اسی پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امورِ خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان...سعودی عرب اورایران کے درمیان تعلقات میں توازن لانا چاہتا ہے جوگزشتہ پانچ برسوں سے خرابی کا شکار ہیں۔ درحقیقت اسلامی ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم نے امت مسلمہ کے اتحاد پرکاری ضرب لگا کر اسے کمزورکردیا ہے،ایران اورسعودی عرب کے تعلقات جب تک بہتر نہیں ہوںگے اس وقت تک شام کی صورتحال میں بہتری بھی ممکن نظر نہیں آتی،ایسی نازک صورتحال میں حکومت پاکستان اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہتی ہے، وہیں اس پر سعودی عرب کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کو شام کی صورتحال سے نتھی کرنے کا الزام لگایا گیا،جس کی تردید وزیراعظم اور مشیرخارجہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کی عملی کاوشوں سے اگر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات معمول پر آجاتے ہیں تو اس سے بہتر بھلا اورکیا ہوگا،ہاں تینوں ممالک کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بڑی نازک ہے،بہرحال یہی امتحان ہے ہماری خارجہ پالیسی کا۔اپوزیشن کو شک وشبہے کی روش ترک کر کے حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں خارجی محاذ پر بھارت اور افغانستان سے بھی تعلقات کو بہتربنانے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور پاکستان کو بھی تلخ ماضی بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت پاکستان کی نیت اورخلوص پر شک کی گنجائش باقی نہیں ہے، بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ خارجہ امور کے ماہر ان سب معاملات کو کس طرح حل کرتے ہیں ۔ اسلامی ممالک میں باہمی اختلافات کے خاتمے سے امت مسلمہ مضبوط ہوگی اور پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات کے نتیجے میں پاکستان میں امن وخوشحالی کا نیا سورج طلوع ہوگا۔