شہری کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کا الزام 2 افسران اور کانسٹیبل کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

2ہفتے میں تفتیش مکمل اور چالان پیش کیا جائے، سندھ ہائیکورٹ کی ملزمان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت

ایس آئی فہیم، اے ایس آئی عبداللہ اور کانسٹیبل عامر نے کچھ افراد کے ساتھ ملکر میرے خلاف بھتہ خوری کا جھوٹا مقدمہ درج کیا۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے شہری کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کے الزام میں 3 پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔


ماڈل کالونی کے رہائشی محمد اطہر خان نے ہوم سیکریٹری سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ایس ایس پی شرقی کے علاوہ ماڈل کالونی پولیس اسٹیشن کے انچارج سب انسپکٹر فہیم فاروقی ، اے ایس آئی عبداللہ مداری اور کانسٹیبل چوہدر ی عامر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ ان پولیس افسران نے کچھ نجی افراد کے ساتھ مل کردرخواست گزار کے خلاف بھتہ خوری کا مقدمہ درج کیا جس کے نتیجے میں درخواست گزار کو گرفتار کرلیا گیا اور اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا درخواست گزار کے مطابق مدعا علیہان نے ایسی صورتحال پیدا کی کہ درخواست گزار کے اہل خانہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور مدعاعلیہان نے اس کے مکان پر قبضہ کرلیا۔

درخواست گزار کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ عدالت میں جھوٹا ثابت ہوا اور درخواست گزار باعزت بری ہوگیا، درخواست گزار کے مطابق یہ پولیس افسران عادی ملزم انھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک مدعاعلیہ چوہدری عامر مختلف الزامات میں پہلے ہی گرفتار ہے ، درخواست گزار نے ان پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا لیکن پولیس افسران اپنے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے مدعا علیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ درخواست گزار کے موقف پر مبنی مقدمہ درج کریں ، فاضل بینچ نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کریں اور2 ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کریں، فاضل بینچ نے ملزمان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے ۔
Load Next Story