آج پہلا سیمی فائنل اسپنرز نے آستینیں چڑھالیں بیٹسمینوں کا امتحان
مزید مہلک وکٹ ہوش اڑانے کیلیے تیار، سری لنکا گذشتہ شکست کا انتقام لینے کیلیے پُرعزم، ویسٹ انڈیز کے بھی حوصلے بلند
شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹریننگ سیشن کے دوران سری لنکن کرکٹرز ایکسر سائز کررہے ہیں، ان کی ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20کے پہلے سیمی فائنل میں آج ویسٹ انڈیز سے ٹکرائے گی، یکساں معیار کی سائیڈز کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا پہلا سیمی فائنل جمعرات کو سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جارہا ہے، ورلڈ کلاس اسپنرز نے آستینیں چڑھالیں۔
بیٹسمینوں کی صلاحیتیں دائو پر لگ گئیں، ڈھاکا میں مزید مہلک وکٹ ہوش اڑانے کیلیے تیار ہے، گیند رکے گی اور ٹرن بھی ہوگی، آئی لینڈرزکیریبیئن سائیڈ سے گذشتہ فائنل میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے پرعزم ہیں، رنگانا ہیراتھ اہم ہتھیار ہوں گے، سینئر بیٹسمینوں سے وابستہ توقعات مزید بڑھ گئیں۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم کو زیر کرنے والی دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز کا جوش آسمان کو چھونے لگا، سموئل بدری اور سنیل نارائن اپنا جادو جگانے کے لیے بیتاب ہیں۔ تفصیلات کے مطابق2 برس قبل کولمبو میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے سری لنکا کے منہ سے فتح کا نوالہ چھین لیا تھا، اس کا غصہ ابھی تک آئی لینڈرز نہیں بھول پائے، قسمت نے انھیں اس کا بدلہ لینے کا موقع اس بار سیمی فائنل کی صورت میں فراہم کردیا ہے۔ دونوں ہی ٹیموں کی سیمی فائنل میں سیٹ اسپنرز نے بک کرائی۔
چٹاگانگ میں کیویز کے پرکترنے والے رنگانا ہیراتھ اب کرس گیل اور ڈیوائن براوو جیسے ویسٹ انڈین ہارڈ ہٹر کو حیران کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں،دوسری جانب تلکارتنے دلشان، کمارسنگاکارا اور مہیلاجے وردنے کو اسپن ماسٹرز سنیل نارائن اور سموئل بدری کے خطرے کا سامنا رہے گا۔ ویسٹ انڈیز کو ایک ایڈوانٹیج یہ حاصل ہے کہ اس نے اپنے تمام گروپ میچز شیربنگلہ اسٹیڈیم میںکھیلے،آئی لینڈرز یونٹ میں اب تک چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم میں ایکشن میں نظر آئے، مگر ان کی بھی شیر بنگلہ اسٹیڈیم سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔
ایک ماہ قبل یہیں پر سری لنکا نے پاکستان ٹیم کو شکست دے کر ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ سیمی فائنل ایک تازہ پچ پر کھیلا جائے گا جس میں زیادہ گرپ اور ٹرن کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے اسپنرز یہاں مزید مہلک روپ دھار لیں گے جبکہ بیٹسمینوں پر عرصہ حیات تنگ ہوجائے گا۔ ویسٹ انڈیز کو اس ایونٹ میں انجرڈ کیرون پولارڈ کی خدمات حاصل نہیں جبکہ پاکستان سے میچ میں کرس گیل بھی فیل ہوگئے تھے، اس کے باوجود دیگر بیٹسمینوں نے کوئی اثر نہیں لیا اور چوکوں چھکوں کی برسات میں ٹیم کا ٹوٹل مستحکم کیا۔ دوسری جانب سری لنکا کی بیٹنگ لائن اس وقت زیادہ قابل بھروسہ نہیں ہیں، اس کا انحصار بدستور تینوں سینئرز یعنی دلشان، جے وردنے اور سنگاکارا پر ہی ہوگا۔
بیٹسمینوں کی صلاحیتیں دائو پر لگ گئیں، ڈھاکا میں مزید مہلک وکٹ ہوش اڑانے کیلیے تیار ہے، گیند رکے گی اور ٹرن بھی ہوگی، آئی لینڈرزکیریبیئن سائیڈ سے گذشتہ فائنل میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے پرعزم ہیں، رنگانا ہیراتھ اہم ہتھیار ہوں گے، سینئر بیٹسمینوں سے وابستہ توقعات مزید بڑھ گئیں۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم کو زیر کرنے والی دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز کا جوش آسمان کو چھونے لگا، سموئل بدری اور سنیل نارائن اپنا جادو جگانے کے لیے بیتاب ہیں۔ تفصیلات کے مطابق2 برس قبل کولمبو میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے سری لنکا کے منہ سے فتح کا نوالہ چھین لیا تھا، اس کا غصہ ابھی تک آئی لینڈرز نہیں بھول پائے، قسمت نے انھیں اس کا بدلہ لینے کا موقع اس بار سیمی فائنل کی صورت میں فراہم کردیا ہے۔ دونوں ہی ٹیموں کی سیمی فائنل میں سیٹ اسپنرز نے بک کرائی۔
چٹاگانگ میں کیویز کے پرکترنے والے رنگانا ہیراتھ اب کرس گیل اور ڈیوائن براوو جیسے ویسٹ انڈین ہارڈ ہٹر کو حیران کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں،دوسری جانب تلکارتنے دلشان، کمارسنگاکارا اور مہیلاجے وردنے کو اسپن ماسٹرز سنیل نارائن اور سموئل بدری کے خطرے کا سامنا رہے گا۔ ویسٹ انڈیز کو ایک ایڈوانٹیج یہ حاصل ہے کہ اس نے اپنے تمام گروپ میچز شیربنگلہ اسٹیڈیم میںکھیلے،آئی لینڈرز یونٹ میں اب تک چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم میں ایکشن میں نظر آئے، مگر ان کی بھی شیر بنگلہ اسٹیڈیم سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔
ایک ماہ قبل یہیں پر سری لنکا نے پاکستان ٹیم کو شکست دے کر ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ سیمی فائنل ایک تازہ پچ پر کھیلا جائے گا جس میں زیادہ گرپ اور ٹرن کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے اسپنرز یہاں مزید مہلک روپ دھار لیں گے جبکہ بیٹسمینوں پر عرصہ حیات تنگ ہوجائے گا۔ ویسٹ انڈیز کو اس ایونٹ میں انجرڈ کیرون پولارڈ کی خدمات حاصل نہیں جبکہ پاکستان سے میچ میں کرس گیل بھی فیل ہوگئے تھے، اس کے باوجود دیگر بیٹسمینوں نے کوئی اثر نہیں لیا اور چوکوں چھکوں کی برسات میں ٹیم کا ٹوٹل مستحکم کیا۔ دوسری جانب سری لنکا کی بیٹنگ لائن اس وقت زیادہ قابل بھروسہ نہیں ہیں، اس کا انحصار بدستور تینوں سینئرز یعنی دلشان، جے وردنے اور سنگاکارا پر ہی ہوگا۔