چیف سلیکٹر نے شکست کی وجہ سینئرز کو قرار دے دیا
پرانے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا فیصلہ گلے پڑگیا، آسٹریلیا جیسا حشر ہوا، راشد لطیف
پرانے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا فیصلہ گلے پڑگیا، آسٹریلیا جیسا حشر ہوا، راشد لطیف۔ فوٹو: فائل
نئے چیف سلیکٹر راشد لطیف نے ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں شکست کی وجہ سینئرز کو قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ پرانے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا فیصلہ گلے پڑگیا، گرین شرٹس کا حشر بھی آسٹریلیا جیسا ہوا۔
آخری گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز کو غیرمعمولی بیٹنگ نے جتوایا اور ہمیں بیٹسمینوں نے شکست سے دوچار کردیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کیا۔ راشد لطیف نے جب نئے چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اسی روز ڈھاکا میں قومی ٹیم ویسٹ انڈیز سے بُری طرح ہار گئی۔ انھوں نے اس شکست کی وجہ نوجوانوں کے بجائے سینئرز کو منتخب کرنے کو قرار دیا، راشد لطیف نے کہا کہ آسٹریلیا نے بھی سینئر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جس کا نتیجہ شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا، یہی ہمارے ساتھ ہوا ہم بھی اسی وجہ سے اس بار سیمی فائنل میں بھی جگہ نہیں بنا پائے۔
اگرچہ راشد لطیف نے کسی کا نام نہیں لیا مگر اس وقت خاص طور پر کامران اکمل اور شعیب ملک پر تنقید ہورہی ہے، دونوں ہی 32 برس کے ہیں اور کافی عرصہ ٹیم سے باہر رکھنے کے بعد انھیں اس ٹورنامنٹ کیلیے واپس طلب کیا گیا تھا، کامران اکمل نے 4 اننگز میں صرف 48 رنز بنائے اور وکٹوں کے عقب میں بھی ان کی کارکردگی واجبی سی رہی، شعیب ملک نے ٹورنامنٹ میں 52 رنز بنائے اور انھیں ایک گیند کرنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ پاکستانی ٹیم آخری گروپ میچ میں 167 رنزکے تعاقب میں 82 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ راشد لطیف نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ غیرمعمولی رہی، جواب میں ہم بیٹسمینوں کے ناقص کھیل کی وجہ سے ہار گئے۔
آخری گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز کو غیرمعمولی بیٹنگ نے جتوایا اور ہمیں بیٹسمینوں نے شکست سے دوچار کردیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کیا۔ راشد لطیف نے جب نئے چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اسی روز ڈھاکا میں قومی ٹیم ویسٹ انڈیز سے بُری طرح ہار گئی۔ انھوں نے اس شکست کی وجہ نوجوانوں کے بجائے سینئرز کو منتخب کرنے کو قرار دیا، راشد لطیف نے کہا کہ آسٹریلیا نے بھی سینئر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جس کا نتیجہ شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا، یہی ہمارے ساتھ ہوا ہم بھی اسی وجہ سے اس بار سیمی فائنل میں بھی جگہ نہیں بنا پائے۔
اگرچہ راشد لطیف نے کسی کا نام نہیں لیا مگر اس وقت خاص طور پر کامران اکمل اور شعیب ملک پر تنقید ہورہی ہے، دونوں ہی 32 برس کے ہیں اور کافی عرصہ ٹیم سے باہر رکھنے کے بعد انھیں اس ٹورنامنٹ کیلیے واپس طلب کیا گیا تھا، کامران اکمل نے 4 اننگز میں صرف 48 رنز بنائے اور وکٹوں کے عقب میں بھی ان کی کارکردگی واجبی سی رہی، شعیب ملک نے ٹورنامنٹ میں 52 رنز بنائے اور انھیں ایک گیند کرنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ پاکستانی ٹیم آخری گروپ میچ میں 167 رنزکے تعاقب میں 82 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ راشد لطیف نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ غیرمعمولی رہی، جواب میں ہم بیٹسمینوں کے ناقص کھیل کی وجہ سے ہار گئے۔