سینیٹ کمیٹی ڈی جی آئی ایس آئی ایم آئی کی عدم شرکت پر برہم آرمی چیف کو بھی بلا سکتے ہیں چیئرمین

آئندہ اجلاس میں پھر طلبی، صرف رپورٹس پرطلب نہیں کرنا چاہیے،ایڈیشنل سیکریٹری دفاع، میڈیا خدمت کررہا ہے، مشہدی

وزیراعظم نے ارکان کے فون ٹیپ کرنے سے منع کردیا،وزیرخزانہ اورداخلہ میںغلط فہمی پیداکرنے کی کوشش نہیں کی،ڈی جی آئی بی کی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدوضوابط واستحقاق کوڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے بتایاہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے ارکان پارلیمنٹ اوروزرا کے فون ٹیپ کرنے سے منع کررکھا ہے۔

سینیٹرحاجی عدیل نے کہاکہ فون ٹیپنگ سے لگتاہے کہ شایدہم ہٹلریااسٹالن کے دورمیںرہ رہے ہیں،چیئرمین قائمہ کمیٹی کرنل(ر)طاہرمشہدی نے ارکان پارلیمنٹ کے فون ٹیپ کیے جانے کومنظرعام پرلانے پر میڈیا کو سراہتے ہوئے کہاکہ میڈیایہ انکشافات کرکے قوم کی خدمت کررہا ہے، سینیٹرلالہ عبدالرئوف نے کہاکہ قومی سلامتی کاتعلق ملکی بقا سے ہوتاہے،حکومتی بقا سے نہیں،جوائنٹ سیکریٹری وزارت داخلہ نے کمیٹی کوبتایاکہ وزارت داخلہ کے ماتحت اس وقت کوئی انٹیلی جنس ایجنسی نہیں،کمیٹی نے طلب کیے جانے کے باوجود ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے پیش نہ ہونے پرسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی پارلیمنٹ سے ماورانہیں۔


ایڈیشنل سیکریٹری دفاع نے کہاکہ صرف اخباری رپورٹس کی بنیادپرڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی ایم آئی کوطلب نہیں کرناچاہیے، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کوکمیٹی کے سامنے پیش ہوناپڑے گا،انھوں نے انھیںآئندہ اجلاس میںدوبارہ طلب کر لیا ۔بدھ کوکمیٹی کااجلاس چیئرمین طاہرمشہدی کی زیرصدارت ہواجس کوبریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل انٹیلی جنس بیوروآفتاب سلطان نے بتایاکہ ان کا ادارہ ارکان پارلیمنٹ،وزرا،وزیراعظم اور صدر کے فون ٹیپ نہیںکرتاالبتہ قومی سلامتی کے حوالے سے عام شہریوں کے فون ضرورٹیپ کیے جاتے ہیں،وزیرخزانہ اور وزیرداخلہ میں غلط فہمیاں پیداکرنے کیلیے آئی بی نے کوئی کوشش نہیںکی یہ تاثرغلط ہے،چیئرمین کرنل(ر)طاہرمشہدی نے کہاکہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف کوبھی طلب کرسکتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کودوبارہ نوٹس بھجوا رہے ہیں، انھیں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آناپڑے گا۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوںکے مسائل کے چیئرمین سینیٹریوسف بادینی نے گزشتہ3 سال میں چاروں صوبوں کی نسبت بلوچستان کوسب سے کم رقوم کے اجرا پر شدید تحفظات کااظہارکیا۔آن لائن کی مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی جانب سے اضافی تنخواہ اورمراعات لینے کے حوالے سے تمام کارروائی مکمل کرلی،کمیٹی نے آڈیٹرجنرل پرلگے الزامات کا جواب دینے کیلیے پیرکوآڈیٹرجنرل اختر بلند راناکوطلب کرلیا، کمیٹی کاان کیمرہ اجلاس پیرکوکنوینر جنید انوارکی زیرصدارت ہوگا۔
Load Next Story