کوئی بھی قانون سے بڑا نہیں ظالم سزا سے نہیں بچ سکیں گے چیف جسٹس

مظفرگڑھ میں خودسوزی کرنے والی طالبہ کے مقدمے میںملوث تمام افراد شامل تفتیش کرنے کاحکم،بچی کی والدہ کودلاسہ دیا

ڈی این اے رپورٹ ابھی نہیں ملی، وزیراعلیٰ کیس کوخود دیکھ رہے ہیں، اثراندازہونے والے کونہیں چھوڑا جائے گا،سرکاری وکیل۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے مظفر گڑھ میں خودسوزی کرنے والی طالبہ کے اہلخانہ کوتحفظ دینے اورطالبہ کے ساتھ زیادتی میں ملوث تمام افرادکو شامل تفتیش کرنے کاحکم دیا ہے۔


چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے ظلم کرنے والے سزا سے نہیں بچ سکیں گے،اللہ کی لاٹھی بے آوازہے، یہاں بھی انصاف ہوگا اورآخرت میں بھی۔ 3 رکنی بینچ نے خودسوزی کیس کی سماعت کی، قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مصطفی رمدے پیش ہوئے اورعبوری رپورٹ میں بتایا کہ آئی جی نے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی ہے،تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے تاہم پنجاب فارنسک سائنس لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ موصول نہیں ہوئی،فارنسک رپورٹ آنے کے بعد حتمی رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔سماعت ختم ہوئی تو طالبہ آمنہ کی والدہ نظام مائی روسٹرم پرآئی اور بتایا کہ ملزمان با اثر ہیں، انھیں اورگھر کے دیگر افرادکو ہراساںکیاجاتا ہے،پہلے مقدمہ خارج کرکے ان کی بیٹی کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور پھر ملزمان نے بری ہوکرپورے شہر میں مٹھائی بانٹی،ان کی بیٹی یہ بے عزتی برداشت نہ کرسکی۔

ان کا کہنا تھا نامزد ملزمان آزادپھر رہے ہیںاس پر عدالت نے فوری طور پر رپورٹ طلب کی۔قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل ایک بار پھر پیش ہوئے اور بتایا کہ وزیر اعلیٰ خود اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے متوفیہ کی والدہ سے سرائیکی میں کہاکہ اسے اوراہلخانہ کوکوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات کرے گا توعدالت انھیں بلائے گی،نظام بی بی نے کہا کہ بڑے لوگ ہیں پیسے والے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سے کوئی بڑا نہیں،قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ کوئی کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا تواسے بھی نہیں چھوڑاجائے گا۔عدالت نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔
Load Next Story