بلدیاتی انتخابات ابہام دور کریں
کے پی کے کی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن نے کرائیں تو پھر نومبر میں ایک ہی روز تین صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ناممکن ہونگے
کے پی کے کی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن نے کرائیں تو پھر نومبر میں ایک ہی روز تین صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ناممکن ہونگے. فوٹو فائل
پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی نگرانی میں ہونے والی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے جس کے باعث صوبے میں جون میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ پھر لٹک جانے کا اندیشہ ہے، ادھر عدالت نے الیکشن کمیشن سے وضاحت مانگی ہے کہ صوبے میں الیکشن موجودہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہو یا پھر نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں ۔ واضح رہے پنجاب اور سندھ میں حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن کو دینے کے عدالتی فیصلے سے پیدا شدہ ابہام کو دور کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی تھی۔ بلدیاتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا بھی نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کے پی کے کی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن نے کرائیں تو پھر نومبر میں ایک ہی روز تین صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ناممکن ہونگے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ انتخابات کے لیے صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں حلقہ بندیاں شفافیت پر مبنی نہیں ہو سکتیں لہذا حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کرائے ۔
تاہم تحریک انصاف کی کور کمیٹی میں وزیر اعلیٰ خیبرپختون خوا پرویز خٹک کا بیان خوش آیند ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 30 اپریل کو انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر کی وجہ الیکشن کمیشن ہے کیونکہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے الیکشن کمیشن اور نادرا سے رجوع کر چکی ہے۔ بہر حال بلدیاتی الیکشن کی آئینی ضرورت کی تکمیل کے لیے تینوں صوبوں کو بلوچستان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے جس نے انتہائی مخدوش حالات میں بلدیاتی انتخابات کا چیلنج قبول کیا اور وہاں الیکشن کا انعقاد بغیر کسی خون خرابے کے ہوا۔ امید ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے انتظامی معاملات میں بہتری لائیں گے اور گراس روٹ سیاسی نشو و نما کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں عوام کو مایوس نہیں کریں گے ۔
تاہم تحریک انصاف کی کور کمیٹی میں وزیر اعلیٰ خیبرپختون خوا پرویز خٹک کا بیان خوش آیند ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 30 اپریل کو انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر کی وجہ الیکشن کمیشن ہے کیونکہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے الیکشن کمیشن اور نادرا سے رجوع کر چکی ہے۔ بہر حال بلدیاتی الیکشن کی آئینی ضرورت کی تکمیل کے لیے تینوں صوبوں کو بلوچستان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے جس نے انتہائی مخدوش حالات میں بلدیاتی انتخابات کا چیلنج قبول کیا اور وہاں الیکشن کا انعقاد بغیر کسی خون خرابے کے ہوا۔ امید ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے انتظامی معاملات میں بہتری لائیں گے اور گراس روٹ سیاسی نشو و نما کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں عوام کو مایوس نہیں کریں گے ۔