کپاس کی پیداوار 38 فیصد بڑھ کر 1338 کروڑ بیلز ہوگئی
31مارچ تک پنجاب میں فصل1.50فیصد بہتر،سندھ کی پیداوار10.47فیصد زائد رہی،پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن
1.23کروڑگانٹھ روئی ملک میں فروخت،3.8لاکھ برآمد،7لاکھ بیلز ذخائر موجودہیں،جنرز۔ فوٹو: فائل
کپاس کی پیداوار31 مارچ تک 3.86 فیصد کے اضافے سے 1 کروڑ33 لاکھ 85 ہزار835 گانٹھ تک پہنچ گئی۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2014 تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار کے حامل علاقوں کی جننگ فیکٹریوں میں 1.50 فیصد کے اضافے سے96 لاکھ 25 ہزار 703 گانٹھ روئی کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 10.47 فیصد بڑھ کر 37 لاکھ60 ہزار 132گانٹھ روئی کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 31 مارچ تک مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں سے 1کروڑ 23لاکھ 7ہزار 266 گانٹھ روئی خریدی گئی جبکہ اس عرصے میں مختلف ممالک کو 3 لاکھ 82 ہزار گانٹھ روئی برآمد کی گئی، زیرتبصرہ مدت تک جننگ فیکٹریوں کے پاس 6 لاکھ 96 ہزارہ 563 گانٹھ روئی کے ذخائر فروخت کیلیے دستیاب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب میں 19اور سندھ میں2 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2014 تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار کے حامل علاقوں کی جننگ فیکٹریوں میں 1.50 فیصد کے اضافے سے96 لاکھ 25 ہزار 703 گانٹھ روئی کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 10.47 فیصد بڑھ کر 37 لاکھ60 ہزار 132گانٹھ روئی کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 31 مارچ تک مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں سے 1کروڑ 23لاکھ 7ہزار 266 گانٹھ روئی خریدی گئی جبکہ اس عرصے میں مختلف ممالک کو 3 لاکھ 82 ہزار گانٹھ روئی برآمد کی گئی، زیرتبصرہ مدت تک جننگ فیکٹریوں کے پاس 6 لاکھ 96 ہزارہ 563 گانٹھ روئی کے ذخائر فروخت کیلیے دستیاب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب میں 19اور سندھ میں2 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔