افغانستان کاصدارتی الیکشن
افغانستان میں آج (ہفتے کو) صدارتی انتخاب ہو رہا ہے۔ اس دوڑ میں آٹھ امیدوار شامل ہیں جن میں سے تین خاصے نمایاں ہیں۔
2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں امریکا نے صدر حامد کرزئی کو کامیاب کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا فوٹو؛فائل
افغانستان میں آج (ہفتے کو) صدارتی انتخاب ہو رہا ہے۔ اس دوڑ میں آٹھ امیدوار شامل ہیں جن میں سے تین خاصے نمایاں ہیں۔ ان میں سے جیتنے والا اس جنگ زدہ ملک کے صدر حامد کرزئی کے بعد حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گا اور ملک کو نیٹو کے جنگجو دستوں کی مدد کے بغیر طالبان سے مقابلے کے قابل بنانے کی کوشش کرے گا۔ نمایاں امیدواروں میں عبداللہ عبداللہ' اشرف غنی اور زلمے رسول شامل ہیں۔ افغانستان کے صدارتی انتخاب میں نسلی اور لسانی تعصبات کا بہت زیادہ اثر رسوخ نظر آ رہا ہے۔ عبداللہ عبداللہ افغانستان پر طالبان حکومت سے پہلے برہان الدین ربانی کے دور میں وزیر خارجہ تھے اور بیرونی ممالک میں اپنی شُستہ اور رواں دواں انگریزی زبان کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ انھیں تاجکوں کی حمایت حاصل تھی۔ 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے پر بھی کرزئی حکومت نے انھی کو وزیر خارجہ بنایا جو 2006ء تک اپنے منصب پر رہے بعد ازاں صدر حامد کرزئی نے انھیں برطرف کر دیا۔
دوسرے امیدوار 69 سالہ اشرف غنی ہیں جو ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور ہیں۔ افغانستان پر روسی قبضے کے بعد وہ امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں میں بھی پڑھاتے رہے۔ گیارہ سال انھوں نے ورلڈ بینک میں بھی کام کیا اور کابل میں اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر براہیمی کے مشیر بھی رہے۔ وہ نسلاً پشتون ہیں۔ تیسرے امیدوار زلمے رسول ہیں جو اپنی نرم زبان کی شہرت رکھتے ہیں۔ 70سالہ زلمے پیشہ ور ڈاکٹر ہیں۔وہ بھی افغان پشتون ہیں۔ یاد رہے 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں امریکا نے صدر حامد کرزئی کو کامیاب کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا تاہم آج ہونے والے انتخاب میں امریکی فوج کو کسی قسم کی مداخلت کرنے سے صدر اوباما نے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج غیر جانبدار رہے۔ امریکی حکمران اب اپنی تمام تر توجہ افغانستان سے ہٹا کر شام پر مرکوز کر رہے ہیں جہاں امریکا باغیوں کی مدد سے بشار الاسد حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید برآں یوکرائن کے بحران کی طرف بھی امریکی پالیسی سازوں کا کافی زیادہ دھیان ہے۔ اب امریکا چونکہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے فوجی انخلا کا اعلان کر چکا ہے لہذا وہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا البتہ زلمے رسول کو کرزئی کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان افغان انتخاب میں کسی قسم کی مداخلت کا قائل نہیں تاہم اس کی خواہش ہے کہ انتخابات کے نتیجے میںایسی شخصیت برسراقتدار آئے جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہو۔ بہر حال فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کا صدر کون ہو گا لیکن پاکستان کے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس کے نتیجے میں کوئی بھی افغانستان کا صدر بنے'وہ پاکستان کے ساتھ پرامن بقا ئے باہمی کے اصول پر معاملات طے کرے۔
دوسرے امیدوار 69 سالہ اشرف غنی ہیں جو ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور ہیں۔ افغانستان پر روسی قبضے کے بعد وہ امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں میں بھی پڑھاتے رہے۔ گیارہ سال انھوں نے ورلڈ بینک میں بھی کام کیا اور کابل میں اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر براہیمی کے مشیر بھی رہے۔ وہ نسلاً پشتون ہیں۔ تیسرے امیدوار زلمے رسول ہیں جو اپنی نرم زبان کی شہرت رکھتے ہیں۔ 70سالہ زلمے پیشہ ور ڈاکٹر ہیں۔وہ بھی افغان پشتون ہیں۔ یاد رہے 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں امریکا نے صدر حامد کرزئی کو کامیاب کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا تاہم آج ہونے والے انتخاب میں امریکی فوج کو کسی قسم کی مداخلت کرنے سے صدر اوباما نے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج غیر جانبدار رہے۔ امریکی حکمران اب اپنی تمام تر توجہ افغانستان سے ہٹا کر شام پر مرکوز کر رہے ہیں جہاں امریکا باغیوں کی مدد سے بشار الاسد حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید برآں یوکرائن کے بحران کی طرف بھی امریکی پالیسی سازوں کا کافی زیادہ دھیان ہے۔ اب امریکا چونکہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے فوجی انخلا کا اعلان کر چکا ہے لہذا وہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا البتہ زلمے رسول کو کرزئی کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان افغان انتخاب میں کسی قسم کی مداخلت کا قائل نہیں تاہم اس کی خواہش ہے کہ انتخابات کے نتیجے میںایسی شخصیت برسراقتدار آئے جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہو۔ بہر حال فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کا صدر کون ہو گا لیکن پاکستان کے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس کے نتیجے میں کوئی بھی افغانستان کا صدر بنے'وہ پاکستان کے ساتھ پرامن بقا ئے باہمی کے اصول پر معاملات طے کرے۔