تھربھوک و افلاس سے مزید 2 پھول مرجھا گئے
ہزاروں خاندان بدستور امدادی گندم کے منتظر، مویشیوں کے چارے کی فراہمی
گرمی کی شدت میں اضافے نے متاثرین قحط کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ فوٹو: فائل
تھرپارکر میں گرمی کی شدت میں اضافے نے متاثرین قحط کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جبکہ بھوک و افلاس سے مزید2 پھول مرجھا گئے۔
چھاچھرو کے نواحی گائوں قبول نوڑھیو میں3 ماہ کا بیمار بچہ گل محمد نوڑھیو جبکہ مہاراج محلے میں چھ ماہ کی بیمار بچی دیپا انتقال کر گئیں جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 212 ہوگئی، مختلف علاقوں سے مٹھی سول اسپتال میں بیمار بچوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعے کو مزید 18بچے اسپتال میں داخل کیے گئے،اسپتال میں 95 بچے زیر علاج ہیں۔
دوسری طرف شدید گرمی کی وجہ سے تھر کے باسیوں کیلیے خوراک اور پانی کی تلاش کے لیے نکلنا بھی محال ہو گیا، حکومت سندھ نے اپنے ریکارڈ میں تو تھر کے تمام متاثرین تک گندم پہنچانے کا کام تقریباً مکمل کر لیا لیکن صحرائے تھر کے گرم ریگستانمیں قیام پذیر ہزاروں خاندان اب بھی امدادی گندم کے منتظر ہیں، دیہی علاقوں میں ٹرکوں کے ذریعے مویشیوں کے چارے کے بیگ تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، سیاسی سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ تھرپارکر میں قحط کے مستقل حل کیلیے یہاں نہری پانی پائپ لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا جائے۔
چھاچھرو کے نواحی گائوں قبول نوڑھیو میں3 ماہ کا بیمار بچہ گل محمد نوڑھیو جبکہ مہاراج محلے میں چھ ماہ کی بیمار بچی دیپا انتقال کر گئیں جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 212 ہوگئی، مختلف علاقوں سے مٹھی سول اسپتال میں بیمار بچوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعے کو مزید 18بچے اسپتال میں داخل کیے گئے،اسپتال میں 95 بچے زیر علاج ہیں۔
دوسری طرف شدید گرمی کی وجہ سے تھر کے باسیوں کیلیے خوراک اور پانی کی تلاش کے لیے نکلنا بھی محال ہو گیا، حکومت سندھ نے اپنے ریکارڈ میں تو تھر کے تمام متاثرین تک گندم پہنچانے کا کام تقریباً مکمل کر لیا لیکن صحرائے تھر کے گرم ریگستانمیں قیام پذیر ہزاروں خاندان اب بھی امدادی گندم کے منتظر ہیں، دیہی علاقوں میں ٹرکوں کے ذریعے مویشیوں کے چارے کے بیگ تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، سیاسی سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ تھرپارکر میں قحط کے مستقل حل کیلیے یہاں نہری پانی پائپ لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا جائے۔