بھارت گینگ ریپ کے تینوں مجرموں کو سزائے موت کا حکم
گزشتہ سال قانون کوسخت کرنے کے بعدسے گینگ ریپ کے کیس میں پہلی سزائے موت سنائی گئی ہے
گزشتہ سال قانون کوسخت کرنے کے بعدسے گینگ ریپ کے کیس میں پہلی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ فوٹو: فائل
بھارت کی ایک عدالت نے گینگ ریپ کے 2واقعات میں جرم ثابت ہونے پر 3 مجرموں کو سزائے موت کاحکم سنادیا۔
گزشتہ سال قانون کوسخت کرنے کے بعدسے گینگ ریپ کے کیس میں پہلی سزائے موت سنائی گئی ہے۔سزائے موت کااعلان ممبئی کی ایک عدالت نے سنائی،اسی دن ایک جج نے جنوبی ریاست کیرالہ میں 1996میں ایک اسکول طالبہ کو40 دن سے زیادہ تک جنسی ہوس کانشانہ بنانے 24 افراد کو جیل بھیج دیا۔سزائے موت پانے والے تینوں مجرموںکوگزشتہ سال جولائی اوراگست میں ممبئی کی ایک مل میں گینگ ریپ کے 2 واقعات میں قصوروار پایا گیا۔
گزشتہ سال قانون کوسخت کرنے کے بعدسے گینگ ریپ کے کیس میں پہلی سزائے موت سنائی گئی ہے۔سزائے موت کااعلان ممبئی کی ایک عدالت نے سنائی،اسی دن ایک جج نے جنوبی ریاست کیرالہ میں 1996میں ایک اسکول طالبہ کو40 دن سے زیادہ تک جنسی ہوس کانشانہ بنانے 24 افراد کو جیل بھیج دیا۔سزائے موت پانے والے تینوں مجرموںکوگزشتہ سال جولائی اوراگست میں ممبئی کی ایک مل میں گینگ ریپ کے 2 واقعات میں قصوروار پایا گیا۔