طالبان سے مذاکرات پر رپورٹ قومی اسمبلی میں پیشمہنگائی کے تناسب سے تنخواہیں بڑھائیں گے حکومت
آئی ایم ایف سے امداد بجٹ کیلیے لی جاتی ہے، اس کے کہنے پربجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں
براہ راست بات چیت میں پیش رفت، 4 سال میں دہشت گردی کے 5573 واقعات، 8484 افراد جاں بحق ہوئے، وزارت داخلہ کا تحریری بیان فوٹو: اے پی پی/فائل
قومی اسمبلی میں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مہنگائی اورملازمین کی سالانہ ترقیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔
جمعے کو پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلیے تنخواہ کے یکساں اسکیلز اور سہولتیں متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، آئی ایم ایف سے امداد بجٹ کیلیے لی جاتی ہے، اس کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں، جب ہم قرضہ لیتے ہیں تو وہ ہماری کوتاہیوں کی نشاندہی کرتا ہے، اس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم سے پیسے لینے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے حالات درست کریں، جان بچانے والی دواؤں پر کوئی ٹیکس نہیں، نیشنل سیونگز سینٹرز کے صارفین کیلیے اے ٹی ایم کا سلسلہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، گزشتہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ملکی تاریخ میں ریکارڈ ریکوری کی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت داخلہ نے طالبان سے مذاکرات اور دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتوں کے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔
مذاکرات آئین کے دائرے میں رہ کرکیے جارہے ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وزیرداخلہ کی جانب سے تحریری طور پر ایوان کو بتایا گیاکہ گزشتہ 4 سال میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 5573 واقعات میں 8484 افراد جاں بحق ہوئے، بلوچستان میں سب سے زیادہ3098، خیبرپختونخوا میں1499، فاٹا میں 648، سندھ میں157، پنجاب میں 100، گلگت بلتستان میں 53، اسلام آباد میں 12 اور آزاد کشمیر میں6 واقعات ہوئے۔ فاٹا میں3240، خیبرپختونخوا میں2311، بلوچستان میں1985، پنجاب میں543، سندھ میں 313، اسلام آباد میں 16، آزاد کشمیر میں 10 اور گلگت بلتستان میںنانگا پربت میں 10 کوہ پیماؤں سمیت66 افراد جاں بحق ہوئے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 420 جاں بحق افراد کے لواحقین اور 589 زخمیوں کو معاوضہ ادا کیا گیا جبکہ فاٹا میں تمام جاں بحق اور زخمی افراد کو معاوضہ دیا گیا، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ گلگت بلتستان میں 56 افراد کو معاوضہ ادا کیا گیا تاہم نانگا پربت میں قتل ہونیوالے 10 غیر ملکیوں کے لواحقین کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ ایوان کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران فاٹا میں 185بچے جاں بحق اور538 زخمی ہوئے۔
جمعے کو پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلیے تنخواہ کے یکساں اسکیلز اور سہولتیں متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، آئی ایم ایف سے امداد بجٹ کیلیے لی جاتی ہے، اس کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں، جب ہم قرضہ لیتے ہیں تو وہ ہماری کوتاہیوں کی نشاندہی کرتا ہے، اس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم سے پیسے لینے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے حالات درست کریں، جان بچانے والی دواؤں پر کوئی ٹیکس نہیں، نیشنل سیونگز سینٹرز کے صارفین کیلیے اے ٹی ایم کا سلسلہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، گزشتہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ملکی تاریخ میں ریکارڈ ریکوری کی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت داخلہ نے طالبان سے مذاکرات اور دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتوں کے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔
مذاکرات آئین کے دائرے میں رہ کرکیے جارہے ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وزیرداخلہ کی جانب سے تحریری طور پر ایوان کو بتایا گیاکہ گزشتہ 4 سال میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 5573 واقعات میں 8484 افراد جاں بحق ہوئے، بلوچستان میں سب سے زیادہ3098، خیبرپختونخوا میں1499، فاٹا میں 648، سندھ میں157، پنجاب میں 100، گلگت بلتستان میں 53، اسلام آباد میں 12 اور آزاد کشمیر میں6 واقعات ہوئے۔ فاٹا میں3240، خیبرپختونخوا میں2311، بلوچستان میں1985، پنجاب میں543، سندھ میں 313، اسلام آباد میں 16، آزاد کشمیر میں 10 اور گلگت بلتستان میںنانگا پربت میں 10 کوہ پیماؤں سمیت66 افراد جاں بحق ہوئے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 420 جاں بحق افراد کے لواحقین اور 589 زخمیوں کو معاوضہ ادا کیا گیا جبکہ فاٹا میں تمام جاں بحق اور زخمی افراد کو معاوضہ دیا گیا، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ گلگت بلتستان میں 56 افراد کو معاوضہ ادا کیا گیا تاہم نانگا پربت میں قتل ہونیوالے 10 غیر ملکیوں کے لواحقین کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ ایوان کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران فاٹا میں 185بچے جاں بحق اور538 زخمی ہوئے۔