بلاول کا پر جوش خطاب

بلاول نے اپنے خطاب میں وفاقی حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلاول نے اپنے خطاب میں وفاقی حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ فوٹو؛فائل

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا اور پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی پرگڑھی خدا بخش میں جلسے سے پرجوش خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے وفاقی حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انھوں نے حکومت کی مشرق وسطیٰ پالیسی پر بھی تنقید کی اور پنجاب حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو سیاست کے نام پر صوبے میں پناہ دی جا رہی ہے، وہ پہلے دہشت گردوں کو پالتے، پیسے اور تحفظ دیتے ہیں، پھر اپنی حکومت کو بچانے کے لیے ان ہی سے سمجھوتے بھی کرتے ہیں، انھوں نے نعرہ لگایا کہ ''جاگ میرے پنجاب، پاکستان جل رہا ہے۔'' حکومتی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ نجکاری کے نام پر ہمارے گھر بیچے جا رہے ہیں لیکن پاکستان کے ادارے مزدوروں کے اثاثے ہیں۔ انھوں نے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومت کو مشورہ دیا کہ صوبے اداروں کی نجکاری کی اجازت نہ دیں کیونکہ اداروں میں 50 فیصد حصہ صوبوں کا ہے وہ اپنا حصہ لیں۔ انھوں نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق پریشر برداشت نہ کر سکا اور ایران پاکستان پائپ لائن منصوبہ ختم کر دیا۔ سعودی عرب کے تناظر میں انھوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم کیوں ملی؟ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں سندھ حکومت پر بھی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تھر کے لیے دکھی ہیں لیکن اب کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس جلسے سے سابق صدر آصف زرداری نے بھی مختصر خطاب کیا۔


انھوں نے کہا کہ ملک کو فرقہ واریت سے بچانے کی ضرورت ہے، سب کو پاکستان کو بچانے کی سوچ رکھنی ہو گی، ملک بچانے کے لیے تمام دوستوں سے بات کریں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے جو خطاب کیا، اس میں یقینی طور پر وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید سامنے آئی ہے۔ ان کی اس تقریر پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے جوابی بیانات بھی آئے لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے پارٹی کے لیڈروں کو بیان بازی سے منع کر دیا۔ اس طرح سابق صدر آصف زرداری نے بھی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو مخالفانہ بیان بازی سے روک دیا۔ یہ ایک مدبرانہ فیصلہ ہے۔ بلاوجہ کی بیان بازی غلط فہمیوں اور اشتعال انگیزیوں کا باعث بنتی ہے۔ سیاسی تدبر اور دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ سوچ سمجھ کر بولا جائے۔ روایتی انداز میں بیان بازی کے کلچر نے ملکی سیاست کو بے توقیر کیا ہے۔ جہاں تک بلاول بھٹو زرداری کے خطاب اور اس میں اٹھائے گئے سوالات کی بات ہے تو انھوں نے کوئی انہونی بات نہیں کی، طالبان کے ساتھ وفاقی حکومت کے جو مذاکرات ہو رہے ہیں' بلاول بھٹو زرداری کا اس حوالے سے مؤقف واضح اور دوٹوک ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔ لیڈرشپ کا تقاضا بھی یہی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف میں واضح ہو۔ ویسے بھی جمہوریت میں سوال اٹھانا سیاسی صحت مندی کی علامت ہے۔ نجکاری بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔
Load Next Story