ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے
مہنگائی اور ملازمین کی سالانہ ترقیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔
آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے یکساں تنخواہ کے اسکیل اور سہولیات متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، رانا افضل فوٹو: اے پی پی/فائل
ISLAMABAD:
قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف یہ کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور ملازمین کی سالانہ ترقیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خوش آئند ہے اور اس سے تنخواہ دار طبقے میں اطمینان کی لہر دوڑ جائے گی ۔ جمعہ کو پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے یکساں تنخواہ کے اسکیل اور سہولیات متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں،انھوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف سے امداد بجٹ کے لیے لی جاتی ہے، اس کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں۔حکومت کے اس دعوے میں کس قدر سچائی ہے اس کا فیصلہ تو آئی ایم ایف کے قرضے کی شرائط کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے تاہم درون خانہ کی خبر رکھنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ بجلی اور دیگر سروسز کے نرخوں میں بتدریج اضافے کا وعدہ پہلے ہی لے لیا جاتا ہے ۔
جہاں تک حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی مناسبت سے اضافہ کرنے کا سوال ہے تو اس حوالے سے مزدور تنظیموں کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہر ملازم کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونی چاہیے یعنی پچاس سے ساٹھ ہزار روپے ماہوار۔ اگر مہنگائی کو دیکھا جائے تو ایسا ہی ہونا چاہیے تاہم ایسا کرنا شاید حکومت کے بس میں نہ ہو۔ بہرحال حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ ضرور کرے کہ ان پر مہنگائی کے اثرات کم ہو سکیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بس چند سو روپوں کا اضافہ کر دیتی ہے، ادھر بازار میں اشیائے ضرورت کے نرخ اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ تنخواہ میں ہونے والا اضافہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ حکومت کی یہ بھی ذمے داری ہونی چاہیے کہ نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی سرکاری ملازمین کے برابر نہیں تو ان کے قریب قریب ضرور اضافہ ہونا چاہیے تا کہ ان کی محرومیوں کے شدید احساس میں قدرے کمی واقع ہو سکے۔
قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف یہ کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور ملازمین کی سالانہ ترقیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خوش آئند ہے اور اس سے تنخواہ دار طبقے میں اطمینان کی لہر دوڑ جائے گی ۔ جمعہ کو پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے یکساں تنخواہ کے اسکیل اور سہولیات متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں،انھوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف سے امداد بجٹ کے لیے لی جاتی ہے، اس کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں۔حکومت کے اس دعوے میں کس قدر سچائی ہے اس کا فیصلہ تو آئی ایم ایف کے قرضے کی شرائط کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے تاہم درون خانہ کی خبر رکھنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ بجلی اور دیگر سروسز کے نرخوں میں بتدریج اضافے کا وعدہ پہلے ہی لے لیا جاتا ہے ۔
جہاں تک حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی مناسبت سے اضافہ کرنے کا سوال ہے تو اس حوالے سے مزدور تنظیموں کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہر ملازم کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونی چاہیے یعنی پچاس سے ساٹھ ہزار روپے ماہوار۔ اگر مہنگائی کو دیکھا جائے تو ایسا ہی ہونا چاہیے تاہم ایسا کرنا شاید حکومت کے بس میں نہ ہو۔ بہرحال حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ ضرور کرے کہ ان پر مہنگائی کے اثرات کم ہو سکیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بس چند سو روپوں کا اضافہ کر دیتی ہے، ادھر بازار میں اشیائے ضرورت کے نرخ اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ تنخواہ میں ہونے والا اضافہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ حکومت کی یہ بھی ذمے داری ہونی چاہیے کہ نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی سرکاری ملازمین کے برابر نہیں تو ان کے قریب قریب ضرور اضافہ ہونا چاہیے تا کہ ان کی محرومیوں کے شدید احساس میں قدرے کمی واقع ہو سکے۔