آدھی دنیا مچھروں کے کاٹنے سے ہونیوالی بیماریوں کی لپیٹ میں ہےطبی ماہرین

بیماریوں سے سالانہ10لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں،100ممالک کے ڈھائی ارب افرادڈنگی وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں

ایف سی ایریا لیاقت آباد میں کچرے کا ڈھیر لگا ہے جس سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

LOWER TOPA (MURREE):
دنیا کی آدھی آبادی مچھروں کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہے۔


ان بیماریوں سے سالانہ 10 لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، 100ممالک کے ڈھائی ارب افراد صرف ڈنگی وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں،گزشتہ چند سال سے پاکستان میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں میں اضافہ ہواہے،اس صورتحال سے نمٹنے کیلیے تکنیکی مدد اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، ماہرین طب نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزمیں عالمی یوم صحت کے موقع پر آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی یوم صحت کا موضوع مچھروں کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام اورکنٹرول کرنا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاؤ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر الٰہی بخش سومرو ،پرو وائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق، پروفیسر شاہین شرافت، پروفیسر رفیق خانانی اور ڈاکٹر اختر علی بلوچ نے کہاکہ گزشتہ چند سال کے دوران دنیاکے بیشترممالک میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے ، ان بیماریوں سے بچاؤ اور تدارک کیلیے حکومت،ماہرین صحت، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے عام افراد اپنا بھرپور کردار ادا کریں، لوگوں کو اس بیماریوں سے بچاؤ اور روک تھام کیلیے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں ،ماہرین نے کہا کہ کراچی میں صفائی نہ ہونے سے مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے ،شہریوں کے بیمار پڑنے کا انتظارنہ کیاجائے،حکومت اقدام کرے۔
Load Next Story