طالبان مذاکرات پرسیاسی قیادت کواعتمادمیں نہیں لیاجارہافاروق ستار

مشرف کیس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جارہے ،اختیارات عوام تک منتقل کیے جائیں

متحدہ کو سندھ حکومت شامل ہونااہم نہیں بلکہ پی پی متحدہ ورکنگ ریلیشن بہترہونااہم ہے فوٹو: فائل

KARACHI:
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ طالبان سے مذاکرات میں تمام سیاسی جماعتوں کواعتمادمیں نہیں لیاجارہا،مذاکرات پر تمام سیاسی جماعتوں میں تشویش کی لہرپیداہوگئی۔


پرویزمشرف کے حوالے سے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کاموقف واضح ہے،پرویزمشرف کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پرویزمشرف کیس میں انصاف کے تقاضوں کوپورا کیا جائے۔ مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ معلوم نہیں کہ طالبان سے مذاکرات آئین کے دائرۂ کارمیں ہورہے ہیں یا ماورائے آئین ہورہے ہیں،حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

عوام کو اگر بااختیار بنادیا جائے تونہ صرف دہشت گردی ختم ہوگی بلکہ ان کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم میں اچھی ورکنگ ریلیشن شپ چل رہی ہے، ایم کیو ایم کا سندھ حکومت میں شامل ہونا اتنا اہم نہیں جتنا ورکنگ ریلیشن شپ کو مضبوط بناناضروری ہے،اسلامی نظریاتی کونسل عوامی مسائل میں مداخلت کرے گی توپارلیمانی ادارے حرکت میں آئیں گے، کراچی میں دہشت گردی کے باعث معیشت تباہ ہوگئی ہے۔
Load Next Story