شٹل سروس کی ناکامی جامعہ کراچی میں رکشا اور چنگ چی چلانے کی اجازت
منظوری یونیورسٹی سینڈیکیٹ سے لی گئی، رکشا اسٹینڈ کیلیے جگہ مختص،انتظامیہ کو شٹل سروس چلانے میں دشواریوں کا سامنا ہے
جامعہ کی اپنی شٹل سروس یونیورسٹی میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی،مادرعلمی کی سڑکیں مصروف تجارتی علاقے کا منظرپیش کرنے لگیں۔ فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کی انتظامیہ طالبعلموں کے لیے یونیورسٹی کیمپس کے اندر بین الاقوامی معیارکی شٹل سروس تودوبارہ شروع نہیں کرسکی تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے حیرت انگیز طور پر جامعہ کراچی کیمپس کے اندر شہرکی معروف سواری''رکشا اور چنگ چی'' چلانے کی اجازت دے دی ہے۔
رکشا ڈرائیوروں کو یونیورسٹی کے اندر باقاعدہ رکشا لانے، مختلف مقامات پر اسے چلانے اور اسے اسٹینڈ پر کھڑا کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے جس کی باقاعدہ منظوری یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں ''رپورٹڈآئٹم'' کے طور پر لی گئی ہے، اس بات کا انکشاف جامعہ کراچی کی حالیہ سینڈیکیٹ کے ایجنڈے میں کیا گیا ہے، اب رکشا ڈرائیور قوائد و ضوابط کے تحت ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی سڑکوں پر رکشا چلانے کے مجاز ہوگئے ہیں، سینڈیکیٹ کی روداد میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرکی جانب سے کہا گیا تھا کہ چونکہ جامعہ کی انتظامیہ کو فی الوقت یونیورسٹی میں معیاری شٹل سروس شروع کروانے میں کچھ دشواریوں کا سامنا ہے لہذا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت یونیورسٹی میں رکشا چلانے کی عارضی اجازت دی گئی ہے تاہم رکشا ڈرائیوروں کوان کی سواری کھڑی کرنے کے لیے باقاعدہ اسٹینڈ بنا کر جگہ بھی مختص کی جارہی ہے۔
شیخ الجامعہ کی جانب سے اراکین سینڈیکیٹ کودیے گے اس بیان کو سینڈیکیٹ کی روداد میں شامل کرکے اس کی منظوری بھی دے دی گئی، واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں تقریباً ڈیڑھ برس قبل ایک نجی کمپنی سے معاہدے کے تحت شٹل سروس کا آغاز کیا گیا تھا تاہم اس وقت بھی یونیورسٹی میں رکشے چلائے جارہے تھے جس کی کئی بار شکایت متعلقہ نجی کمپنی کی جانب سے بھی کی گئی تھی، بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ نجی کمپنی نے مستقل خسارے میں ہونے کے سبب اپنی شٹل سروس بند کردی جس کے بعد سے تاحال یونیورسٹی میں شٹل سروس نہیں چل سکی جبکہ جامعہ کراچی کی اپنی شٹل سروس تو یونیورسٹی کیمپس میں ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتی، ایسی صورتحال میں رکشا ڈرائیوروں کو بہترین موقع مل گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جامعہ کراچی کی سڑکیں مادرعلمی سے زیادہ کراچی کی کسی مصروف تجارتی علاقے کا منظرپیش کرتی ہیں جہاں جابجارکشے چلتے نظرآتے ہیں، محتاط اندازے کے مطابق جامعہ کراچی کے اندربیک وقت30 سے40 رکشے موجود ہوتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ جو رکشے چلائے جارہے ہیں ان کے رکشا ڈرائیوروں کے کسی بھی قسم کے کوائف جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے پاس نہیں ہیں، رکشا ڈرائیوروں کے کوائف یا ان کا کسی قسم کا ریکارڈ یونیورسٹی کے پاس نہ ہونے کے سبب مستقل میں یہ معاملہ کسی بڑے واقعے کا سبب بھی بن سکتا ہے، ایسی صورتحال میں جب شہر میں ''شارٹ ٹرم کڈنیپنگ'' کارجحان بڑھتا جا رہا ہے اور کراچی پولیس گزشتہ ہفتے اس سلسلے میں باقاعدہ اعداد و شماربھی جاری کر چکی ہے تاہم انتظامیہ اس جانب توجہ دینے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔
رکشا ڈرائیوروں کو یونیورسٹی کے اندر باقاعدہ رکشا لانے، مختلف مقامات پر اسے چلانے اور اسے اسٹینڈ پر کھڑا کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے جس کی باقاعدہ منظوری یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں ''رپورٹڈآئٹم'' کے طور پر لی گئی ہے، اس بات کا انکشاف جامعہ کراچی کی حالیہ سینڈیکیٹ کے ایجنڈے میں کیا گیا ہے، اب رکشا ڈرائیور قوائد و ضوابط کے تحت ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی سڑکوں پر رکشا چلانے کے مجاز ہوگئے ہیں، سینڈیکیٹ کی روداد میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرکی جانب سے کہا گیا تھا کہ چونکہ جامعہ کی انتظامیہ کو فی الوقت یونیورسٹی میں معیاری شٹل سروس شروع کروانے میں کچھ دشواریوں کا سامنا ہے لہذا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت یونیورسٹی میں رکشا چلانے کی عارضی اجازت دی گئی ہے تاہم رکشا ڈرائیوروں کوان کی سواری کھڑی کرنے کے لیے باقاعدہ اسٹینڈ بنا کر جگہ بھی مختص کی جارہی ہے۔
شیخ الجامعہ کی جانب سے اراکین سینڈیکیٹ کودیے گے اس بیان کو سینڈیکیٹ کی روداد میں شامل کرکے اس کی منظوری بھی دے دی گئی، واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں تقریباً ڈیڑھ برس قبل ایک نجی کمپنی سے معاہدے کے تحت شٹل سروس کا آغاز کیا گیا تھا تاہم اس وقت بھی یونیورسٹی میں رکشے چلائے جارہے تھے جس کی کئی بار شکایت متعلقہ نجی کمپنی کی جانب سے بھی کی گئی تھی، بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ نجی کمپنی نے مستقل خسارے میں ہونے کے سبب اپنی شٹل سروس بند کردی جس کے بعد سے تاحال یونیورسٹی میں شٹل سروس نہیں چل سکی جبکہ جامعہ کراچی کی اپنی شٹل سروس تو یونیورسٹی کیمپس میں ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتی، ایسی صورتحال میں رکشا ڈرائیوروں کو بہترین موقع مل گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جامعہ کراچی کی سڑکیں مادرعلمی سے زیادہ کراچی کی کسی مصروف تجارتی علاقے کا منظرپیش کرتی ہیں جہاں جابجارکشے چلتے نظرآتے ہیں، محتاط اندازے کے مطابق جامعہ کراچی کے اندربیک وقت30 سے40 رکشے موجود ہوتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ جو رکشے چلائے جارہے ہیں ان کے رکشا ڈرائیوروں کے کسی بھی قسم کے کوائف جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے پاس نہیں ہیں، رکشا ڈرائیوروں کے کوائف یا ان کا کسی قسم کا ریکارڈ یونیورسٹی کے پاس نہ ہونے کے سبب مستقل میں یہ معاملہ کسی بڑے واقعے کا سبب بھی بن سکتا ہے، ایسی صورتحال میں جب شہر میں ''شارٹ ٹرم کڈنیپنگ'' کارجحان بڑھتا جا رہا ہے اور کراچی پولیس گزشتہ ہفتے اس سلسلے میں باقاعدہ اعداد و شماربھی جاری کر چکی ہے تاہم انتظامیہ اس جانب توجہ دینے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔