غداری کی دو قسمیں
کالم نگاری کے حوالے سے کالم نگاروں کی اپروچ مختلف ہوتی ہے جس کی تفصیل میں گئے بغیر ہم اس اپروچ کا ذکر کرینگے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
کالم نگاری کے حوالے سے کالم نگاروں کی اپروچ مختلف ہوتی ہے جس کی تفصیل میں گئے بغیر ہم اس اپروچ کا ذکر کرینگے جو عوامی مفادات سے شروع ہوتی ہے اور عوامی مفادات پر ختم ہوتی ہے، ہمارے ادبی نقاد افسانوں وغیرہ حیثیت کے تعین میں ابلاغ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں یعنی افسانہ نگار جو کچھ اپنے افسانے میں کہہ رہا ہے کیا قاری اسے سمجھ رہا ہے؟ افسانہ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اگر اس کے ابلاغ کی سطح کم تر ہے تو ایسے افسانے کو نقاد بڑا افسانہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، کالم کے ابلاغ کا مسئلہ بھی افسانے ہی سے ملتا جلتا ہے۔ کیا کالم کا قاری کالم نگار کی بات سمجھ رہا ہے؟ جو کالم نگار عوام سے کمیٹڈ ہوتے ہیں وہ ہر مسئلے کا جائزہ عوامی مفادات کے تناظر میں لیتے ہیں۔ اس تمہید کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم جس مسئلے پر قلم اٹھا رہے ہیں وہ مسئلہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے یا بنادیا گیا ہے، یہ مسئلہ ہے ''غداری کیس'' اس مسئلے پر اگرچہ بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جا رہا ہے، بہت ساری بحث ہوچکی ہے اور ہو رہی ہے لیکن اس میں عموماً حمایت اور صرف مخالفت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے، عوام کی سوچ، عوام کے مفادات کا پہلو بہت کمزور ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک دو بار نہیں چار بار غداری کے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے لیکن تین غدار تو غداری کے مکھن سے بال کی طرح نکل گئے صرف ایک ''غدار'' قانون کے شکنجے میں پھنس گیا ہے۔ جس غداری اور غداروں کا مسئلہ زیر بحث ہے اسے ہمیشہ دانا اور بینا لوگ بھی اشرافیائی جمہوریت کی عینک لگا کر دیکھتے رہے ہیں، یہ حضرات اشرافیائی جمہوریت کی خامیوں اور گندگیوں کو تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کی دلیل یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خامیاں خوبیوں میں بدل جائیں گی لیکن مشکل یہ ہے کہ کوئی جمہوریت پسند وقت کے تعین کے لیے تیار نہیں ہوتا مثلاً بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب جمہوریت کہہ کر اس کی آرتی اتاری جاتی ہے لیکن اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ اس 66 سالہ جمہوریت نے عوام کو کیا دیا۔ اس سوال کے جواب کی تفصیل میں گئے بغیر ہم صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ نہ اس کا اشرافیائی چہرہ بدلا نہ عوام کو اس جمہوریت نے کچھ دیا دیگر پسماندہ ملکوں کے عوام جن اقتصادی سماجی اور سیاسی عذابوں سے گزر رہے ہیں بھارت کے عوام اس سے زیادہ عذابوں سے گزر رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بھارت میں اب سے پہلے 40 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے اب 56 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس تناسب سے بھارتی عوام کے دکھوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بھارت کی 66 سالہ جمہوریت کا کارنامہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ پاکستان کے دانشور پاکستانی جمہوریت کی خامیاں دور ہونے کے لیے کتنا عرصہ انتظار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہماری مقبول عام جمہوریت خواہ اس کا تعلق ترقی یافتہ ملکوں سے ہو یا پسماندہ ملکوں سے بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی طرفدار ہوتی ہے اور اس جمہوریت میں پائی جانے والی گندگی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے۔
اس جمہوریت میں ''کچھ بہتری'' اس وقت ممکن ہے جب ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے'' کے معیار پر پوری اترے گی، اور اس تبدیلی کا امکان دور دور تک اس لیے نظر نہیں آتا کہ ہماری خاندانی جمہوریت میں شہزادوں، شہزادیوں اور ولی عہدوں کو اس طرح آگے لایا اور پروموٹ کیا جا رہا ہے کہ آنے والی کئی نسلوں تک تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان حقائق کے تناظر میں جب ہم اپنی جمہوریت کا چہرہ دیکھتے ہیں تو یہ جمہوریت کسی قلوپطرہ کی طرح نظر آتی ہے اور عوام کو چھوڑیے کہ عوام اب تک جمہوریت کے معنی ہی سے واقف نہیں، البتہ خواص اس جمہوریت کے خوبصورت چہرے پر فدا نظر آتے ہیں۔ ہم اس جمہوریت کی کسی نہ کسی حد تک حمایت کرتے جب وہ چند خاندانوں کی یرغمالیت سے آزاد ہوتی اور ہمارے سیاسی نمک خوار کم ازکم انتخابی نظام میں تبدیلی اور فوری بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہوتے۔
غداری کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک غداری حکومت سے کی جاتی ہے جس سے چند گنے چنے معززین متاثر ہوتے ہیں، یہ غداری ہمارے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آتی ہے، آئین کے اس آرٹیکل میں واضح طور پر یہ وضاحت موجود ہے کہ اس غداری کا مجرم فرد واحد نہیں ہوتا بلکہ اس غداری میں ساتھ دینے والے اور اس کی حمایت کرنیوالے سب مجرم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس آئینی دفعہ سے ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیا الحق بچے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ غداری کی آئینی سزا سے کیوں بچے رہے؟ چلیے چونکہ یہ تینوں اب دنیا میں نہیں رہے لیکن کیا ان کی حمایت کرنے والے، ان کا ساتھ دینے والے دنیا میں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو پھر کیا ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے؟ اگر ہونا چاہیے تو پھر کیوں نہیں ہو رہا؟ اس قسم کے سوال عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں اور ایسے لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ زندہ گنہگاروں پر اس آرٹیکل کے اطلاق سے پہلو تہی کا مطلب قانون اور آئین کی توہین اور بے حرمتی نہیں کہا جاتا ہے، قانون اور انصاف اندھے اور بہرے ہوتے ہیں، وہ کسی قسم کی کسی کے ساتھ جانبداری اور امتیاز نہیں برتتے۔ کیا ایسا ہو رہا ہے؟دوسری قسم کی غداری، عوام سے غداری ہے۔ جمہوریت خواہ کسی قسم کی ہو جمہوریت عوام کے ووٹ سے عبارت ہے اور عوام کا ووٹ سیاسی جماعتوں کے منشور اور انتخابی وعدوں سے مشروط ہوتا ہے، اگر عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آنیوالی حکومت اپنے منشور اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق عوام کے مسائل حل نہیں کرتی تو یہ غداری آئینی غداری سے بہت بڑی غداری ہوتی ہے جس سے کروڑوں عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ 1976 سے 2013 تک جتنی منتخب حکومتیں برسراقتدار آئیں کیا انھوں نے اپنے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے مطابق عوام کے مسائل حل کیے؟ اگر نہیں کیے تو یہ غداری آئینی غداری سے زیادہ سنگین غداری نہیں؟ اگر ہے تو عوام کے ان غداروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
اس غداری کو آئین کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا اور کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے؟ ہزاروں سال سے غریب عوام کو طرح طرح سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ جدید دنیا میں عوام خصوصاً پسماندہ ملکوں کے عوام کو خاندانی حکمرانیوں کے نظام کو جمہوریت کا نام دیکر بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اس جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ بیچارے عوام کا کام جبراً یا مجبوراً ووٹ کی پرچی ڈبے میں ڈالنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے پھر اسے اگلے الیکشن تک حکمرانوں کے بہانوں، دھوکوں کی چھاؤں میں زندگی کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ ہمارے جمہوری حکمران اور ان کے حمایتی اور خیر خواہ دھڑلے سے حکومت اس دعوے کے ساتھ کر رہے ہیں کہ انھیں عوام نے منتخب کیا ہے، وہ عوامی مینڈیٹ کی سیڑھی پر کھڑے ہوکر حکومت کر رہے ہیں لہٰذا کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا لیکن ماضی اور ماضی قریب میں عوام نے مفرور حکمرانوں، عوام کے غدار حکمرانوں، جھوٹے اور وعدہ فروش حکمرانوں کے اٹھے ہوئے سروں کو عوام کی بارگاہ میں ندامت اور خوف سے جھکتے ہوئے اور تصویر عبرت بنتے دیکھا ہے۔ ہمارے عوام ناخواندہ سیاسی شعور سے محروم ضرور ہیں لیکن اصلی اور نقلی غداروں کو پہچانتے ہیں، اگر قانون اور انصاف ان غداروں کو سزا نہیں دیتے تو فرانس سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ ان کے سامنے رکھی ہوئی ہے، عوام اس مقدس جمہوریت کی آرتی کب تک اتارتے رہیں گے جس نے انھیں بھوک، بیماری، بیکاری، غربت، دہشتگردی کے علاوہ کچھ نہیں دیا اس لیے اب حکمرانوں کو پرکھنے کا ان کے پاس ایک ہی پیمانہ رہ گیا ہے کہ ان کے مسائل حل ہوئے یا نہیں ان کے مسائل کون حل کر رہا ہے، کون ان کی زندگی کو سہل بنا رہا ہے۔ وہ جمہوری ہے یا غیر جمہوری ان کی بلا جانے۔
اس جمہوریت میں ''کچھ بہتری'' اس وقت ممکن ہے جب ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے'' کے معیار پر پوری اترے گی، اور اس تبدیلی کا امکان دور دور تک اس لیے نظر نہیں آتا کہ ہماری خاندانی جمہوریت میں شہزادوں، شہزادیوں اور ولی عہدوں کو اس طرح آگے لایا اور پروموٹ کیا جا رہا ہے کہ آنے والی کئی نسلوں تک تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان حقائق کے تناظر میں جب ہم اپنی جمہوریت کا چہرہ دیکھتے ہیں تو یہ جمہوریت کسی قلوپطرہ کی طرح نظر آتی ہے اور عوام کو چھوڑیے کہ عوام اب تک جمہوریت کے معنی ہی سے واقف نہیں، البتہ خواص اس جمہوریت کے خوبصورت چہرے پر فدا نظر آتے ہیں۔ ہم اس جمہوریت کی کسی نہ کسی حد تک حمایت کرتے جب وہ چند خاندانوں کی یرغمالیت سے آزاد ہوتی اور ہمارے سیاسی نمک خوار کم ازکم انتخابی نظام میں تبدیلی اور فوری بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہوتے۔
غداری کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک غداری حکومت سے کی جاتی ہے جس سے چند گنے چنے معززین متاثر ہوتے ہیں، یہ غداری ہمارے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آتی ہے، آئین کے اس آرٹیکل میں واضح طور پر یہ وضاحت موجود ہے کہ اس غداری کا مجرم فرد واحد نہیں ہوتا بلکہ اس غداری میں ساتھ دینے والے اور اس کی حمایت کرنیوالے سب مجرم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس آئینی دفعہ سے ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیا الحق بچے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ غداری کی آئینی سزا سے کیوں بچے رہے؟ چلیے چونکہ یہ تینوں اب دنیا میں نہیں رہے لیکن کیا ان کی حمایت کرنے والے، ان کا ساتھ دینے والے دنیا میں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو پھر کیا ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے؟ اگر ہونا چاہیے تو پھر کیوں نہیں ہو رہا؟ اس قسم کے سوال عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں اور ایسے لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ زندہ گنہگاروں پر اس آرٹیکل کے اطلاق سے پہلو تہی کا مطلب قانون اور آئین کی توہین اور بے حرمتی نہیں کہا جاتا ہے، قانون اور انصاف اندھے اور بہرے ہوتے ہیں، وہ کسی قسم کی کسی کے ساتھ جانبداری اور امتیاز نہیں برتتے۔ کیا ایسا ہو رہا ہے؟دوسری قسم کی غداری، عوام سے غداری ہے۔ جمہوریت خواہ کسی قسم کی ہو جمہوریت عوام کے ووٹ سے عبارت ہے اور عوام کا ووٹ سیاسی جماعتوں کے منشور اور انتخابی وعدوں سے مشروط ہوتا ہے، اگر عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آنیوالی حکومت اپنے منشور اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق عوام کے مسائل حل نہیں کرتی تو یہ غداری آئینی غداری سے بہت بڑی غداری ہوتی ہے جس سے کروڑوں عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ 1976 سے 2013 تک جتنی منتخب حکومتیں برسراقتدار آئیں کیا انھوں نے اپنے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے مطابق عوام کے مسائل حل کیے؟ اگر نہیں کیے تو یہ غداری آئینی غداری سے زیادہ سنگین غداری نہیں؟ اگر ہے تو عوام کے ان غداروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
اس غداری کو آئین کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا اور کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے؟ ہزاروں سال سے غریب عوام کو طرح طرح سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ جدید دنیا میں عوام خصوصاً پسماندہ ملکوں کے عوام کو خاندانی حکمرانیوں کے نظام کو جمہوریت کا نام دیکر بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اس جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ بیچارے عوام کا کام جبراً یا مجبوراً ووٹ کی پرچی ڈبے میں ڈالنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے پھر اسے اگلے الیکشن تک حکمرانوں کے بہانوں، دھوکوں کی چھاؤں میں زندگی کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ ہمارے جمہوری حکمران اور ان کے حمایتی اور خیر خواہ دھڑلے سے حکومت اس دعوے کے ساتھ کر رہے ہیں کہ انھیں عوام نے منتخب کیا ہے، وہ عوامی مینڈیٹ کی سیڑھی پر کھڑے ہوکر حکومت کر رہے ہیں لہٰذا کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا لیکن ماضی اور ماضی قریب میں عوام نے مفرور حکمرانوں، عوام کے غدار حکمرانوں، جھوٹے اور وعدہ فروش حکمرانوں کے اٹھے ہوئے سروں کو عوام کی بارگاہ میں ندامت اور خوف سے جھکتے ہوئے اور تصویر عبرت بنتے دیکھا ہے۔ ہمارے عوام ناخواندہ سیاسی شعور سے محروم ضرور ہیں لیکن اصلی اور نقلی غداروں کو پہچانتے ہیں، اگر قانون اور انصاف ان غداروں کو سزا نہیں دیتے تو فرانس سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ ان کے سامنے رکھی ہوئی ہے، عوام اس مقدس جمہوریت کی آرتی کب تک اتارتے رہیں گے جس نے انھیں بھوک، بیماری، بیکاری، غربت، دہشتگردی کے علاوہ کچھ نہیں دیا اس لیے اب حکمرانوں کو پرکھنے کا ان کے پاس ایک ہی پیمانہ رہ گیا ہے کہ ان کے مسائل حل ہوئے یا نہیں ان کے مسائل کون حل کر رہا ہے، کون ان کی زندگی کو سہل بنا رہا ہے۔ وہ جمہوری ہے یا غیر جمہوری ان کی بلا جانے۔