خواتین میں فنی تربیت حاصل کر کے اہلخانہ کفالت کا رجحان بڑھ گیا
سلائی اورڈیزائننگ سیکھ کر خواتین اہلخانہ اور پڑوسیوں کے جدید کپڑے بنانے لگیں،بہبودمرکزخواتین کوکورسزاور ڈپلومہ کراتاہے
خواتین سے60روپے فیس لیتے ہیں،مرکزعطیات سے چل رہاہے،گھرمیں اشیاتیارکرنے کیلیے خام سامان دیتے ہیں،قیصری احتشام ۔ فوٹو: فائل
مہنگائی کے باعث خواتین کے فنی تربیتی اداروں میں سلائی،کڑھائی اور پینٹنگ کا ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے رقم کماکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
جس سے خواتین میں بتدریج خوداعتمادی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کا سہارا بھی بن رہی ہیں، تفصیلات کے مطابق کالا پل میں قائم بہبود سینٹر میں مختلف ہنر سیکھنے والی خواتین نے سروے کے دوران بتایا کہ مرکز میں خواتین درزیوں کی سلائی کی مزدوری بڑھنے پر کپڑوں کی خود سلائی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ لباس کو خوبصورت بنانے کے لیے اس پر کڑھائی یا پینٹنگ کی جاتی ہے جس سے لباس جدید اور خوبصورت ہوجاتا ہے اس کے علاوہ خواتین سلائی اور ڈیزائننگ کا ہنر سیکھ کر اپنے اہل خانہ کے تمام ملبوسات بھی خود سیتی اور ڈیزائن کرتی ہیں جس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر پڑوسی بھی ان سے سلائی وکڑھائی کراتے ہیں اس طرح خواتین کو گھر بیٹھے بہتر آمدن ہورہی ہے اب وہ بڑھتی مہنگائی میں اپنے اہل خانہ کی کفالت بھی کررہی ہیں بہبود مرکز میں 24 خواتین شارٹ کورسز اور 14خواتین ایک سال کا ڈپلومہ سر ٹیفکیٹ کا کورس کررہی ہیں جس کے بعد وہ کسی بھی ادارے میں سلائی اور کڑھائی سکھانے کے لیے استانی (انسٹرکٹر) کی نوکری کرسکتی ہیں یا اپنے گھر میں سلائی سینٹر کھول کر آمدن میں اضافہ کر سکتی ہیں مرکز پر کٹنگ اور سلائی میں بے بی فراک،کرتہ زنانہ و مردانہ، سادہ پاجامہ،عوامی سوٹ، بشرٹ، لیڈیز سوٹ، اسکوائر کٹ چوڑی دار پاجامہ، برقع ،یونیفارم نیکر، الاسٹک جانگیہ اور رونمپر بنانے سکھائے جاتے ہیں مشینی اور دستی کڑھائی میں ڈیجی سیٹ، چار سوتی کے دو تکیے،ٹرالی سیٹ،دو کشن، سینری، فائل (کڑھائی کے ٹانکوں کی)، ستارے موتیوں کی قمیصیں ، دلی واک دوپٹہ وغیرہ سکھانے کے علاوہ مہندی، فیبرک پینٹنگ اور گلاس پینٹنگ وغیرہ بھی سکھائی جاتی ہے خواتین سینٹر میں داخلے کیلیے 100 روپے اور ہر ماہ 60 روپے کی انتہائی کم فیس ادا کرتی ہیں ۔
بہبود مرکز کی بااختیار خواتین منصوبے (وومین ایمپاورمنٹ پروجیکٹ) کی چیئر پرسن قیصری احتشام کا کہنا تھا کہ بہبود مرکز ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو عطیات سے چلائی جارہی ہے، منصوبے کا مقصد خواتین کو مہنگائی کا مقابلہ کرنے اور بااختیار بنانے کے لیے جدید دور کی مشکلات کا مقابلہ کرنا سکھانا ہے، خواتین گھر سے باہر شوق سے نہیں نکلتیں یہاں محنت کے ذریعے رقم کمانے کی کوشش کرتی ہیںہنر سیکھنے کے اس عمل سے خواتین خود اعتمادی اور حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے ہم ادارے میں خواتین کو سلائی،کڑھائی، پینٹنگ اور دیگر ہنر سکھاتے ہیں انھیں گھر میں تیار کرنے کے لیے خام سامان بھی دیتے ہیں اور آرڈر کے مطابق ملبوسات تیار کرنے والی خواتین کو ان کی جائز مزدوری دی جاتی ہے، خواتین کے تیار کردہ ملبوسات اور اشیا ہم زمزمہ میں قائم بہبود کرئیشن کے نام سے ایک دوکان میں فروخت کرتے ہیں مرکز میں کئی برس سے سلائی کڑھائی سکھانے والی خواتین ٹیچرز نے تنخواہوں میں کمیکا شکوہ کیا اور بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے کرایوں میں اخراجات پورے نہ ہونے کا بتایا ہے، خواتین اساتذہ کا کہنا تھا کہ بہبود مرکز کی انتظامیہ ہماری تنخواہیں موجودہ دور کی مہنگائی کی مناسبت سے بڑھادے تو ہماری زندگی کے مسائل حل ہونے میں کافی مدد ملے گی۔
جس سے خواتین میں بتدریج خوداعتمادی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کا سہارا بھی بن رہی ہیں، تفصیلات کے مطابق کالا پل میں قائم بہبود سینٹر میں مختلف ہنر سیکھنے والی خواتین نے سروے کے دوران بتایا کہ مرکز میں خواتین درزیوں کی سلائی کی مزدوری بڑھنے پر کپڑوں کی خود سلائی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ لباس کو خوبصورت بنانے کے لیے اس پر کڑھائی یا پینٹنگ کی جاتی ہے جس سے لباس جدید اور خوبصورت ہوجاتا ہے اس کے علاوہ خواتین سلائی اور ڈیزائننگ کا ہنر سیکھ کر اپنے اہل خانہ کے تمام ملبوسات بھی خود سیتی اور ڈیزائن کرتی ہیں جس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر پڑوسی بھی ان سے سلائی وکڑھائی کراتے ہیں اس طرح خواتین کو گھر بیٹھے بہتر آمدن ہورہی ہے اب وہ بڑھتی مہنگائی میں اپنے اہل خانہ کی کفالت بھی کررہی ہیں بہبود مرکز میں 24 خواتین شارٹ کورسز اور 14خواتین ایک سال کا ڈپلومہ سر ٹیفکیٹ کا کورس کررہی ہیں جس کے بعد وہ کسی بھی ادارے میں سلائی اور کڑھائی سکھانے کے لیے استانی (انسٹرکٹر) کی نوکری کرسکتی ہیں یا اپنے گھر میں سلائی سینٹر کھول کر آمدن میں اضافہ کر سکتی ہیں مرکز پر کٹنگ اور سلائی میں بے بی فراک،کرتہ زنانہ و مردانہ، سادہ پاجامہ،عوامی سوٹ، بشرٹ، لیڈیز سوٹ، اسکوائر کٹ چوڑی دار پاجامہ، برقع ،یونیفارم نیکر، الاسٹک جانگیہ اور رونمپر بنانے سکھائے جاتے ہیں مشینی اور دستی کڑھائی میں ڈیجی سیٹ، چار سوتی کے دو تکیے،ٹرالی سیٹ،دو کشن، سینری، فائل (کڑھائی کے ٹانکوں کی)، ستارے موتیوں کی قمیصیں ، دلی واک دوپٹہ وغیرہ سکھانے کے علاوہ مہندی، فیبرک پینٹنگ اور گلاس پینٹنگ وغیرہ بھی سکھائی جاتی ہے خواتین سینٹر میں داخلے کیلیے 100 روپے اور ہر ماہ 60 روپے کی انتہائی کم فیس ادا کرتی ہیں ۔
بہبود مرکز کی بااختیار خواتین منصوبے (وومین ایمپاورمنٹ پروجیکٹ) کی چیئر پرسن قیصری احتشام کا کہنا تھا کہ بہبود مرکز ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو عطیات سے چلائی جارہی ہے، منصوبے کا مقصد خواتین کو مہنگائی کا مقابلہ کرنے اور بااختیار بنانے کے لیے جدید دور کی مشکلات کا مقابلہ کرنا سکھانا ہے، خواتین گھر سے باہر شوق سے نہیں نکلتیں یہاں محنت کے ذریعے رقم کمانے کی کوشش کرتی ہیںہنر سیکھنے کے اس عمل سے خواتین خود اعتمادی اور حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے ہم ادارے میں خواتین کو سلائی،کڑھائی، پینٹنگ اور دیگر ہنر سکھاتے ہیں انھیں گھر میں تیار کرنے کے لیے خام سامان بھی دیتے ہیں اور آرڈر کے مطابق ملبوسات تیار کرنے والی خواتین کو ان کی جائز مزدوری دی جاتی ہے، خواتین کے تیار کردہ ملبوسات اور اشیا ہم زمزمہ میں قائم بہبود کرئیشن کے نام سے ایک دوکان میں فروخت کرتے ہیں مرکز میں کئی برس سے سلائی کڑھائی سکھانے والی خواتین ٹیچرز نے تنخواہوں میں کمیکا شکوہ کیا اور بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے کرایوں میں اخراجات پورے نہ ہونے کا بتایا ہے، خواتین اساتذہ کا کہنا تھا کہ بہبود مرکز کی انتظامیہ ہماری تنخواہیں موجودہ دور کی مہنگائی کی مناسبت سے بڑھادے تو ہماری زندگی کے مسائل حل ہونے میں کافی مدد ملے گی۔