بینک کی انشورنس پالیسی کے تحت ہی ازالہ ممکن ہے ماہرین
لاکرز کی مکمل حفاظت کی ذمے داری متعلقہ بینک پر عائد ہوتی ہے، ماہرین
بینک لاکرز کی 3 مختلف کیٹیگریز کے حساب سے انشورنس کرواتا ہے فوٹو : ایکسپریس
بینک لاکرزمتاثرین کے نقصانات کا ازالہ صرف بینک کی انشورنس پالیسی کے تحت ہی ممکن ہے۔
شعبہ بینکاری کے ماہرین اور بینکاروں نے بتایا کہ بینک لاکرز کی کیٹیگری کے لحاظ سے مقررہ مالیت سے زائد کے زیورات یا قیمتی اشیا رکھوانے والوں کو نقصان کا سامنا ہوگا کیونکہ بینکوں کے لاکرز کے 3 مختلف کیٹیگریز ہیں جن میں چھوٹے درجے کے لاکر میں3 لاکھ روپے، درمیانے درجے کے لاکرمیں5 لاکھ روپے اوربڑے لاکر میں12 لاکھ روپے مالیت کی اشیا رکھی جاتی ہیں اور متعلقہ بینک لاکرز کی کیٹیگریز کے حساب سے انشورنس کرواتا ہے، ایک سینئربینکار نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ لاکرز کی مکمل حفاظت کی ذمے داری متعلقہ بینک پر عائد ہوتی ہے کیونکہ لاکرز کی ایک چابی صارف اور ایک چابی متعلقہ برانچ منیجر کے پاس ہوتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لاکرز لوٹنے کے تازہ ترین واقعے کے بعد دیگر بینکوں کے لاکرز صارفین میں کھلبلی مچ گئی ہے کیونکہ پاکستان میں صارفین کی جانب سے عموما کم مالیت کے لاکرز میں دوگنی سے زائد مالیت کی قیمتی اشیا رکھی جارہی ہیں لیکن ان اشیا کی انشورنس کوریج نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ نقب زنی یا لوٹ مارکی صورت پورا ازالہ ممکن نہیں، بینکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعے میںصرف تین مقررہ کیٹیگریز کے تحت انشورنس کوریج کے حامل متاثرہ صارفین کی دادرسی ممکن ہے تاہم اگر کسی صارف نے انفرادی سطح پر اپنے لاکرز کی زائد مالیت کی انشورنس کروائی ہے وہ متعلقہ انشورنس کمپنی سے اتنی ہی مالیت کا کلیم حاصل کرسکے گا۔
شعبہ بینکاری کے ماہرین اور بینکاروں نے بتایا کہ بینک لاکرز کی کیٹیگری کے لحاظ سے مقررہ مالیت سے زائد کے زیورات یا قیمتی اشیا رکھوانے والوں کو نقصان کا سامنا ہوگا کیونکہ بینکوں کے لاکرز کے 3 مختلف کیٹیگریز ہیں جن میں چھوٹے درجے کے لاکر میں3 لاکھ روپے، درمیانے درجے کے لاکرمیں5 لاکھ روپے اوربڑے لاکر میں12 لاکھ روپے مالیت کی اشیا رکھی جاتی ہیں اور متعلقہ بینک لاکرز کی کیٹیگریز کے حساب سے انشورنس کرواتا ہے، ایک سینئربینکار نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ لاکرز کی مکمل حفاظت کی ذمے داری متعلقہ بینک پر عائد ہوتی ہے کیونکہ لاکرز کی ایک چابی صارف اور ایک چابی متعلقہ برانچ منیجر کے پاس ہوتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لاکرز لوٹنے کے تازہ ترین واقعے کے بعد دیگر بینکوں کے لاکرز صارفین میں کھلبلی مچ گئی ہے کیونکہ پاکستان میں صارفین کی جانب سے عموما کم مالیت کے لاکرز میں دوگنی سے زائد مالیت کی قیمتی اشیا رکھی جارہی ہیں لیکن ان اشیا کی انشورنس کوریج نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ نقب زنی یا لوٹ مارکی صورت پورا ازالہ ممکن نہیں، بینکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعے میںصرف تین مقررہ کیٹیگریز کے تحت انشورنس کوریج کے حامل متاثرہ صارفین کی دادرسی ممکن ہے تاہم اگر کسی صارف نے انفرادی سطح پر اپنے لاکرز کی زائد مالیت کی انشورنس کروائی ہے وہ متعلقہ انشورنس کمپنی سے اتنی ہی مالیت کا کلیم حاصل کرسکے گا۔