حکومت سستا آٹا نہیں دے سکتی تو چوہے مار گولیاں ہی دیدے سپریم کورٹ
شہریوں کوزندہ رہنے کے لیے روٹی نہیں دے سکتے تو حکومت کرنے کابھی جوازنہیں،جسٹس جوادایس خواجہ
شہریوں کوزندہ رہنے کے لیے روٹی نہیں دے سکتے تو حکومت کرنے کابھی جوازنہیں،جسٹس جوادایس خواجہ۔ فوٹو: فائل
BADIN:
سپریم کورٹ نے وفاق اورصوبائی حکومتوں سے آٹے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کارکے بارے میں مفصل جواب طلب کرلیااورآبزرویشن دی ہے کہ اگر حکومت اپنے شہریوں کو زندہ رہنے کے لیے روٹی بھی فراہم نہیں کرسکتی تو اس کے پاس حکو مت کرنے کاجواز باقی نہیں رہتا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے سے متعلق سماعت کی۔
جماعت اسلامی کے رہنمالیاقت بلوچ نے چیف جسٹس کوخط لکھا تھا جس کو درخواست میں تبدیل کرکے سماعت کی جارہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ اور چاروں صوبوں کے لا افسران عدالت پیش ہوئے۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے حکمرانوں کے کتے مربے کھا رہے ہیں لیکن غریب آدمی کوکھانے کے لیے سستا آٹا تک دستیاب نہیں،حکومت سستا آٹا نہیں دے سکتی توچوہے مار دوائی ہی دے دے۔فاضل جج نے کہا کہ کروڑوں روپے کے میلے ٹھیلے سجائے جارہے ہیں اربوںروپے کی زمینیں اونے پونے داموں فروخت کی جارہی ہیں لیکن لوگ غربت کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے اور بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔جسٹس جواد نے کہا کہ عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اگر حکومتیں اپنی ذمے داریاں پوری نہیںکرسکتیں تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی۔
ایک طرف لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو دوسری طرف کروڑوں روپے تزئین و آرائش پر خرچ کیے جارہے ہیں،ایک میلے پر 5 کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ عدالتی احکام کی روشنی میں متعلقہ محکموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ پیر تک جمع کرائیں،اس کے علاوہ گندم اور آٹے کی موجودہ قیمتوں کا مکمل ڈیٹا فراہم کیاجائے۔ عتیق شاہ نے بتایا کہ عدالتی احکام کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت12سو روپے من مقررکی ہے۔
سپریم کورٹ نے وفاق اورصوبائی حکومتوں سے آٹے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کارکے بارے میں مفصل جواب طلب کرلیااورآبزرویشن دی ہے کہ اگر حکومت اپنے شہریوں کو زندہ رہنے کے لیے روٹی بھی فراہم نہیں کرسکتی تو اس کے پاس حکو مت کرنے کاجواز باقی نہیں رہتا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے سے متعلق سماعت کی۔
جماعت اسلامی کے رہنمالیاقت بلوچ نے چیف جسٹس کوخط لکھا تھا جس کو درخواست میں تبدیل کرکے سماعت کی جارہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ اور چاروں صوبوں کے لا افسران عدالت پیش ہوئے۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے حکمرانوں کے کتے مربے کھا رہے ہیں لیکن غریب آدمی کوکھانے کے لیے سستا آٹا تک دستیاب نہیں،حکومت سستا آٹا نہیں دے سکتی توچوہے مار دوائی ہی دے دے۔فاضل جج نے کہا کہ کروڑوں روپے کے میلے ٹھیلے سجائے جارہے ہیں اربوںروپے کی زمینیں اونے پونے داموں فروخت کی جارہی ہیں لیکن لوگ غربت کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے اور بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔جسٹس جواد نے کہا کہ عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اگر حکومتیں اپنی ذمے داریاں پوری نہیںکرسکتیں تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی۔
ایک طرف لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو دوسری طرف کروڑوں روپے تزئین و آرائش پر خرچ کیے جارہے ہیں،ایک میلے پر 5 کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ عدالتی احکام کی روشنی میں متعلقہ محکموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ پیر تک جمع کرائیں،اس کے علاوہ گندم اور آٹے کی موجودہ قیمتوں کا مکمل ڈیٹا فراہم کیاجائے۔ عتیق شاہ نے بتایا کہ عدالتی احکام کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت12سو روپے من مقررکی ہے۔