عراق فورسز سے جھڑپوں میں19 شدت پسند ہلاک2 ملزمان کو پھانسی

جھڑپیں بغداد، رمادی، فلوجہ میں ہوئیں،ملزمان کو دہشتگردی کے الزامات ثابت ہونے پر پھانسی دی گئی۔

جھڑپیں بغداد، رمادی، فلوجہ میں ہوئیں،ملزمان کو دہشتگردی کے الزامات ثابت ہونے پر پھانسی دی گئی۔ فوٹو؛ فائل

عراقی سیکیورٹی فورسز نے جھڑپوں کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا جبکہ دیگر پرتشدد واقعات کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت 3 شہری مارے گئے۔


ذرائع ابلاغ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں دارالحکومت بغداد کے جنوب، رمادی اور فلوجہ میں جھڑپیں ہوئیں جس میں فورسز نے 19 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعد مان نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی لیکن انھوں نے جھڑپوں کے دوران اہلکاروں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔ دریں اثنا بغداد کے نواحی علاقوں سے 2 شہریوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ۔

جبکہ دارالحکومت کے شمال میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا۔ اے ایف پی کے مطابق عالمی تنظیموں اور دنیا کی شدید مذمت کے باوجود عراقی حکام نے دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر گزشتہ روز 2 ملزمان ساجد حامد ابراہیم اور علی ماجد علاوی کو پھانسی دیدی۔ ساجد حامد ابراہیم کو القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام جبکہ علی ماجد علاوی کو 3 افراد کو اغوا کرکے قتل کرنے پر پھانسی دی گئی۔ رواں سال عراق میں 46 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
Load Next Story