میڈیا ورکرز کے مسائل کے حل کی جانب صحافتی تنظیموں کےبڑھتے قدم
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کو تربیت یافتہ اور فعال کرے تاکہ وہ صحافیوں پر حملوں کی بہتر تحقیق کرسکیں۔
اس وقت پاکستان میں صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ترین علاقہ صوبہ بلوچستان کو اس لیے قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے اندر صحافتی اداروں نے خوب ترقی کی ہے لیکن اس ترقی کے باوجود صحافیوں کے معاشی حالات میں کوئی خاص مثبت تبدیلی نہیں آئی اور صحافی آج بھی عدم تحفظ و معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ الیکٹرونک ،پرنٹ و صوتی میڈیا کا رائے عامہ ہموار کرانے میں اہم کردار ہوتا ہے اسی وجہ سے سیاسی جماعتوںنے گزشتہ سال عام انتخابات پر اربوں روپے کے اشتہارات ریڈیو،ٹی وی اور اخبارات کو دیئے ۔لیکن اربوں روپے کی اس آمدن کے باوجود پاکستان میں میڈیا کارکنوں کے مسائل اور مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آج طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی گروہوں کے علاوہ مذہبی جماعتیںاور ریاستی ادارے بھی میڈیا کو موم کی ناک کی طرح اپنی مرضی کے مطابق موڑنے میں مصروف ہیں ۔
گزشتہ 12 سالوں میںپاکستان میں سو سے زائد صحا فی قتل کیے جا چکے ہیں۔2013 ء میں عمران شیخ ، سیف الرحمان اور مرزا اقبال حسین کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا ان کے علاوہ محمود احمد آفریدی، اسلم درانی اور ایوب خٹک سمیت ایک اور صحا فی کو 2013 ء کے دوران قتل کیا گیا یوں ان کی تعداد 7 رہی ۔جبکہ امسال 2014 ء کو پہلا سورج طلوع ہوا تو شان ڈاہر کو قتل کر دیا گیا ۔اس قتل کے بعد بھی صحافیوں کو ڈارنے دھمکانے اور نہ ماننے کی صورت میں ان پر قاتلانہ حملے کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے ، اس سلسلے میں چار ماہ قبل پوری دنیا میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس میں ایسے تین ملکوں کے خلاف مہم چلائی گئی جہاں صحافیوں پر تشدد میں ملوث افراد کونہ گرفتار کیا جا تا ہے اور نہ ہی اْن کے خلاف کوئی کارروائی کی جا تی ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے لیکن بد قسمتی کے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے باوجود وفاقی و صوبائی حکومتوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی جس کے باعث اب صحافی و میڈیا ورکرز آسان ترین ٹارگٹ بن چکے ہیں ۔
اس وقت پاکستان میں صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ترین علاقہ صوبہ بلوچستان کو اس لیے قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں جاری علیحدگی کی تحریکوں ، باغیوں کی سرکوبی کیلئے جاری سرکاری فورسز کی کاروائیوں اورباغیوں کی جوابی کارائیوں کی رپورٹنگ کو عوا م تک اصل حالت میں پہنچانے کو نہ فورسز پسند کرتی ہیں اور نہ ہی باغی گروپ، اسی وجہ سے وہاں کے مقامی صحافی شدید مشکلات سے دوچار ہیں گزشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ تعداد میں صحا فی بلوچستان میں ہی قتل کیے گئے ہیں اس کے علاوہ دوسرے نمبر پر پاکستانی قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ علاقوں میں پیشہ وارانہ ذمہ داریا ں انجام دینے والے ایک ہزارسے زائد صحافیوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں جن کے پاس ان علاقوں میں جاری مسلح لڑائیوں اور تصادم کی رپورٹنگ کرنے کی نہ مناسب تربیت ہے اور نہ ہی انہیں ان کے اداروں کی جانب سے ان خدمات کا مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے جو وہ اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے انجام دیتے ہیں۔ لڑائی میں مصروف فریقین کی جانب سے علاقے میں موجود صحافیوں کو ہراساں کرنے کے کئی واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومتی اداروں کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں ہزاروں چھوٹے بڑے میڈیا گروپس میں کام کرنے والے ورکرز خاموش ظلم سہہ رہے ہیں۔اکثریتی کارکنان سے بیگارلیا جا رہا ہے۔انہی بے شمار مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایف یو جے صد ر افضل بٹ کی کال پر 20 مارچ 2014ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سامنے یوم مطالبات کے حوالے سے احتجاجی ریلیاں اور دھرنے دیئے گئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا 6 گھنٹے جاری رہا جس کے بعد حکومت کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ صحافیوں کے تمام مطالبات کو منظور کر لئے گئے ہیں۔انشورنس پالیسی سے لے کر شہید ہونے والے صحافی کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے کو تین لاکھ روپے معاوضہ ، میڈیا ہائوسز اور پریس کلبز کی سیکورٹی ، قتل ہو نے والے صحافیوں اوراْن پر تشدد کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلایا جا نا اور آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے لئے آئی ٹی این ای کے چیئرمین کے ناموں کی سمری پر کام کے جاری ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ 20مارچ کی ملک گیر ہڑتال اور حکومت کی طرف سے مطالبات کی منظوری کے اعلانات کو اب دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران صورتحال پہلے سے بہتر ہونے کی بجائے مزید بدتر ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ہے کیونکہ اس مختصر عرصے کے دوران پاکستان کے ایک معروف انیکر رضا رومی جو ایکسپریس میڈیا گروپ سے منسلک ہیں ان پر قاتلانہ حملہ دیدہ دلیری سے کیا گیا جس میں انکے ڈرائیور غلام مصطفی جاں بحق ہوئے۔
اس واقعے کے بعدمیڈیا پر چند بیانات داغے گئے اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی جبکہ پولیس و تحقیقاتی اداروں کی طرف کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
صحافی حضرات اور عوام دونوں ہی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں ۔صحافیوں کو قلم ، کیمرے اور مائیک سے دور رکھ کریہ شر پسند عناصر آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کو مزید تربیت یافتہ کرنے سے ساتھ فعال کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں ۔ اگر خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو اس پر فوری تحقیقات کرتے ہوئے مجرموں تک پہنچیں اور انہیں عدالت کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچائیں ، انتظامیہ جتنی فعال ہو گی جرم اتنے کم ہونگے ۔حکمرانوں اور اداروں کواب تو یہ مان لیناچاہیے کہ غیر جانبدار رہتے ہوئے ملکی مفادکیلئے کام کرنے والے یہ صحافی اپنی معیاری رپورٹنگ کے ذریعے شرپسند عناصرکی نشاندہی کر کے ان ہی حکومتی اداروں کی ہی معاونت کر رہے ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ میڈیا ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ان کی معاونت سے ملک کے مسائل کو حل کریں نا کہ ان کو ملنے والی دھمکیوں اور قتل پر خاموشی اختیار کر تے ہوئے ملک دشمن عناصر کی حو صلہ افزائی کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
گزشتہ 12 سالوں میںپاکستان میں سو سے زائد صحا فی قتل کیے جا چکے ہیں۔2013 ء میں عمران شیخ ، سیف الرحمان اور مرزا اقبال حسین کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا ان کے علاوہ محمود احمد آفریدی، اسلم درانی اور ایوب خٹک سمیت ایک اور صحا فی کو 2013 ء کے دوران قتل کیا گیا یوں ان کی تعداد 7 رہی ۔جبکہ امسال 2014 ء کو پہلا سورج طلوع ہوا تو شان ڈاہر کو قتل کر دیا گیا ۔اس قتل کے بعد بھی صحافیوں کو ڈارنے دھمکانے اور نہ ماننے کی صورت میں ان پر قاتلانہ حملے کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے ، اس سلسلے میں چار ماہ قبل پوری دنیا میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس میں ایسے تین ملکوں کے خلاف مہم چلائی گئی جہاں صحافیوں پر تشدد میں ملوث افراد کونہ گرفتار کیا جا تا ہے اور نہ ہی اْن کے خلاف کوئی کارروائی کی جا تی ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے لیکن بد قسمتی کے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے باوجود وفاقی و صوبائی حکومتوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی جس کے باعث اب صحافی و میڈیا ورکرز آسان ترین ٹارگٹ بن چکے ہیں ۔
اس وقت پاکستان میں صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ترین علاقہ صوبہ بلوچستان کو اس لیے قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں جاری علیحدگی کی تحریکوں ، باغیوں کی سرکوبی کیلئے جاری سرکاری فورسز کی کاروائیوں اورباغیوں کی جوابی کارائیوں کی رپورٹنگ کو عوا م تک اصل حالت میں پہنچانے کو نہ فورسز پسند کرتی ہیں اور نہ ہی باغی گروپ، اسی وجہ سے وہاں کے مقامی صحافی شدید مشکلات سے دوچار ہیں گزشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ تعداد میں صحا فی بلوچستان میں ہی قتل کیے گئے ہیں اس کے علاوہ دوسرے نمبر پر پاکستانی قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ علاقوں میں پیشہ وارانہ ذمہ داریا ں انجام دینے والے ایک ہزارسے زائد صحافیوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں جن کے پاس ان علاقوں میں جاری مسلح لڑائیوں اور تصادم کی رپورٹنگ کرنے کی نہ مناسب تربیت ہے اور نہ ہی انہیں ان کے اداروں کی جانب سے ان خدمات کا مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے جو وہ اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے انجام دیتے ہیں۔ لڑائی میں مصروف فریقین کی جانب سے علاقے میں موجود صحافیوں کو ہراساں کرنے کے کئی واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومتی اداروں کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں ہزاروں چھوٹے بڑے میڈیا گروپس میں کام کرنے والے ورکرز خاموش ظلم سہہ رہے ہیں۔اکثریتی کارکنان سے بیگارلیا جا رہا ہے۔انہی بے شمار مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایف یو جے صد ر افضل بٹ کی کال پر 20 مارچ 2014ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سامنے یوم مطالبات کے حوالے سے احتجاجی ریلیاں اور دھرنے دیئے گئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا 6 گھنٹے جاری رہا جس کے بعد حکومت کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ صحافیوں کے تمام مطالبات کو منظور کر لئے گئے ہیں۔انشورنس پالیسی سے لے کر شہید ہونے والے صحافی کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے کو تین لاکھ روپے معاوضہ ، میڈیا ہائوسز اور پریس کلبز کی سیکورٹی ، قتل ہو نے والے صحافیوں اوراْن پر تشدد کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلایا جا نا اور آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے لئے آئی ٹی این ای کے چیئرمین کے ناموں کی سمری پر کام کے جاری ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ 20مارچ کی ملک گیر ہڑتال اور حکومت کی طرف سے مطالبات کی منظوری کے اعلانات کو اب دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران صورتحال پہلے سے بہتر ہونے کی بجائے مزید بدتر ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ہے کیونکہ اس مختصر عرصے کے دوران پاکستان کے ایک معروف انیکر رضا رومی جو ایکسپریس میڈیا گروپ سے منسلک ہیں ان پر قاتلانہ حملہ دیدہ دلیری سے کیا گیا جس میں انکے ڈرائیور غلام مصطفی جاں بحق ہوئے۔
اس واقعے کے بعدمیڈیا پر چند بیانات داغے گئے اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی جبکہ پولیس و تحقیقاتی اداروں کی طرف کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
صحافی حضرات اور عوام دونوں ہی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں ۔صحافیوں کو قلم ، کیمرے اور مائیک سے دور رکھ کریہ شر پسند عناصر آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کو مزید تربیت یافتہ کرنے سے ساتھ فعال کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں ۔ اگر خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو اس پر فوری تحقیقات کرتے ہوئے مجرموں تک پہنچیں اور انہیں عدالت کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچائیں ، انتظامیہ جتنی فعال ہو گی جرم اتنے کم ہونگے ۔حکمرانوں اور اداروں کواب تو یہ مان لیناچاہیے کہ غیر جانبدار رہتے ہوئے ملکی مفادکیلئے کام کرنے والے یہ صحافی اپنی معیاری رپورٹنگ کے ذریعے شرپسند عناصرکی نشاندہی کر کے ان ہی حکومتی اداروں کی ہی معاونت کر رہے ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ میڈیا ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ان کی معاونت سے ملک کے مسائل کو حل کریں نا کہ ان کو ملنے والی دھمکیوں اور قتل پر خاموشی اختیار کر تے ہوئے ملک دشمن عناصر کی حو صلہ افزائی کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔