کیا’گل گئی مُک اے‘

جماعت ہمیشہ اپوزیشن میں رہی اور نہایت موثر اندازمیں اپوزیشن کرتی رہی لیکن یہ قومی سیاست میں اپناجائزمقام حاصل نہ کرسکی

Abdulqhasan@hotmail.com

جماعت اسلامی پاکستان کے نئے امیر محترم سراج الحق امارت کا حلف اٹھا رہے ہیں اپنے منفرد نوعیت کے انتخاب کے بعد وہ اپنی جماعت کے ایک سو ایک فی صد جائز سربراہ ہیں جس کا انتخاب یوں تو جمہوری دنیا کے معروف طریقے سے ہوا ہے اور اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے لیکن جمہوریت کے نام پر اور جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ جمہوری انتخاب اب نہیں ہوا کرتا، اس لیے سراج الحق صاحب کا انتخاب ایک معمول ہونے کے باوجود غیر معمولی ہے۔ سید مودودی کے دور میں تو کسی منصب کا امیدوار ہونا اس منصب کی نااہلی کے لیے کافی تھا لیکن بعد میں بظاہر تو ایسا ہی ہوتا رہا لیکن نہ صرف امیدوار پیدا ہوتے رہے بلکہ الیکشن بذریعہ کلاشنکوف کا سلسلہ بھی چل نکلا لیکن الحمد للہ یہ بدی عارضی ثابت ہوئی اور جماعت کے اجتماعی ضمیر پر بوجھ نہ بن سکی اور ختم ہو گئی چنانچہ آج جماعت کے انتخابات انتخابی برائیوں سے پاک ہیں۔

میرا اگر کسی جماعت سے کوئی تعلق ہے اور اس کی نوعیت کیسی بھی ہے وہ صرف یہی جماعت اسلامی ہے کیونکہ ایک پاکستانی مسلمان کی اور کوئی جماعت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس جماعت میں اسلامی دینی نظریات پر عمل کی دیانت دارانہ کوشش جاری رہتی ہے اور جماعت کا نظم و نسق جدید سیاسی جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہے ایسا امتزاج کہیں دوسری جگہ مشکل سے ملے گا۔ اس زمانے میں شرح صدر سے اگر کسی جماعت میں شمولیت کی جا سکتی ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی چونکہ ان سیاسی خرابیوں کی دشمن ہے جو دوسری جماعتوں میں عام پائی جاتی ہیں بلکہ یہ جماعتیں چلتی بھی انھی خرابیوں کی مدد سے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی کوئی جماعت بھی جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس سے خوفزدہ ہے۔ یوں تو ایوب خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک مولانا کے نیاز مند رہے مگر ان کی یہ نیاز مندی وقتی اور سیاسی مفاد کے تحت تھی۔

جماعت ہمیشہ اپوزیشن میں رہی اور نہایت موثر انداز میں اپوزیشن کرتی رہی لیکن یہ قومی سیاست میں اپنا جائز مقام حاصل نہ کر سکی صرف اپنا وہ منفرد وجود ہی برقرار رکھ سکی۔ جماعت اسلامی لیڈروں کی نہیں سیاسی کارکنوں کی جماعت رہی اور اس میں وہی لوگ شامل ہوئے جو دینی ذہن رکھتے تھے اور ایسے لوگ زیادہ سے زیادہ متوسط طبقہ کے لوگ تھے اور ان کے ساتھی ملک کے غریب لوگ تھے جو محنت مزدوری کرنے والے تھے یا ملازمت پیشہ۔ اپنی اس جماعتی ساخت کی وجہ سے جماعت غریب لوگوں کی جماعت رہی اور بڑے لوگوں کی بڑی جماعتوں میں شامل نہ ہو سکی۔ جماعت کے لیڈر بھی عام لوگوں میں سے تھے لیکن اخلاص کی طاقت اور نظریاتی استحکام کی وجہ سے ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکا مگر ان سے تعلق کا خطرہ بھی مول نہیں لیا جا سکتا تھا۔


مولانا کے بعد طویل عرصہ تک جناب قاضی حسین احمد صاحب جماعت کے امیر رہے۔ وہ جدید مروجہ سیاست کے نمایندے تھے لیکن خالص دینی چھاپ کی وجہ سے اس کا اقرار نہیں کر سکتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جماعت کو کسی نئی دنیا سے آشنا نہ کر سکے اور اسے سید منور حسن صاحب کے سپرد کر گئے۔ جن کی نیکی اور نادانی دونوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ وہ غیر ضروری فتوے دینے لگے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہوں کی طرح دنیا و مافیہا سے الگ تھلگ کسی نئی دنیا کو تلاش کرتے رہے۔ وہ غالباً یہ بھول گئے کہ دین میں سیاست بھی شامل ہے۔ خلفائے راشدین کی بے مثال نیکی و پرہیز گاری اپنی جگہ مگر ان کی زندگی ایک حکمران کی زندگی تھی جو خالص سیاست تھی۔ ان کی سیاست مفادات سے یکسر پاک اور صاف تھی لیکن وہ مکمل دین کے پیروکار تھے جس میں عبادت و سیاست سب کچھ شامل تھا۔

سید مودودی کے بعد ظاہر ہے کہ جماعت میں وہ آب و تاب باقی نہیں رہی جو ان کی ذات گرامی کی وجہ سے تھی لیکن یہ کیوں نہ رہی کیا سید مودودی ایسے لوگ تیار نہ کر سکے۔ بہر حال جو بھی تھا اتنے بڑے قائد کے بعد کسی نہ کسی حد تک زوال تو آنا ہی تھا۔ ایک بزرگ تھے جیلانی صاحب سر تا پا مولانا کے مرید اور ہمہ وقتی پیروکار۔ جب مولانا فوت ہوئے تو وہ شدت غم میں یہ کہتے رہے کہ ''گل مک گئی اے'۔ یعنی بات اب ختم ہو گئی ہے اور ختم بھی ایسی ہوئی کہ ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی غیر سیاسی جمہوری بلکہ غیر اسلامی حکومت میں جماعت کے وزیر شامل ہو گئے کیونکہ اب گل مک گئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق میرے بہت مہربان تھے لیکن میں ایک صحافی تھا جو حکمرانوں سے تعلق کو صحافت کے لیے مناسب اور مفید سمجھتا ہے لیکن وہ بہر حال ایک فوجی آمر تھے صوم و صلوٰۃ کے پابند اور نیکی کی طرف مائل مگر اپنے سیاسی مفادات کے نگہبان۔

ایک فوجی آمر کی حکومت میں وزیر بن کر شامل ہونا جماعت کی سیاست اور اس کے کردار کی نفی تھی۔ جماعت نے اپنے لیے جو مقام و مرتبہ پسند کیا تھا وہ آسمان سیاست کے آفتاب کا تھا، کسی چراغ کی لرزتی ہوئی لو کا نہ تھا۔ جماعت کو یہ وزارتیں بدنامی کے سوا کچھ نہ دے کر گئیں۔ آج کے وزیروں کی طرح جماعت کے وزیروں نے مال نہیں بنایا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا ناجائز کام کیا تھا لیکن کسی فوجی آمر کی وزارت میں شمولیت بذات خود ایک سیاسی بدعنوانی تھی۔ جماعت کی قیادت میں برادری ازم بھی جھلکنے لگا تھا جو ایک سخت خطرناک علت تھی۔

آج جماعت کی امارت اور قیادت جس ہاتھ میں آ گئی ہے اس کی خوبیاں بے شمار ہیں سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ ایک پسماندہ مگر سیاسی طور پر بہت بیدار صوبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اب تک ایک سیاسی جماعت زندہ ہے۔ وہ خود بہت پڑھے لکھے ہیں اور ان کی زندگی جو کرائے کے گھر میں گزر رہی ہے قابل رشک ہے جب کہ وہ صوبے کے سینئر وزیر ہیں۔ ان کی ذات گرامی میں بہت کچھ ہے لیکن ان کے صوبے میں مشکلات کے دشوار گزار پہاڑ ہیں، اپوزیشن میں ایک مستحکم سیاسی پارٹی ہے ،طالبان کا مسئلہ ہے اور بھی بہت کچھ ہے مگر سراج الحق صاحب خدا کر ے اکیلے نہ ہوں اور ان کی آمد پر گل چل نکلے۔ افسوس کہ ان کے حلف امارت میں کسی تقریب میں کسی وجہ سے میں نہ جا سکا صرف ایک کالمانہ شرکت کر رہا ہوں۔
Load Next Story