حفیظ سے استعفیٰ لے کرجلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا الیاس
حکام کمیٹی میں من پسند افراد رکھنا چاہتے تھے اسی لیے راشد نے عہدہ قبول نہ کیا، محمد الیاس
حکام کمیٹی میں من پسند افراد رکھنا چاہتے تھے اسی لیے راشد نے عہدہ قبول نہ کیا، محمد الیاس
سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس کا کہنا ہے کہ پی سی بی میں بیٹھے چند مفاد پرست عہدیدار ٹیسٹ کرکٹرز کے بعد مختلف محکموں میں کام کرنے والے کھلاڑیوں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کرنا چاہتے ہیں۔
ورلڈ ٹی 20 کے بعد محمد حفیظ سے استعفیٰ لے کرجلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا، اس سے بہتری کے بجائے ٹیم کا مزید نقصان ہی ہوگا۔راشد لطیف سچے اور کھرے انسان ہیں، بورڈ چیئرمین سلیکشن کمیٹی میں اپنے من پسند افراد رکھنا چاہتے تھے،اسی لیے راشد نے عہدہ قبول نہ کیا۔ گذشتہ روز نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے محمد الیاس نے کہا کہ چند پی سی بی عہدیدار اب ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو مختلف محکموں میں کام کرنے والے کرکٹرز بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی20 کے دوران چیئرمین نجم سیٹھی نے بنگلہ دیش جا کرکھلاڑیوں کا مورال ڈاؤن کیا،ان کے بعض قبل از وقت بیانات کی وجہ سے کھلاڑی دباؤ کا شکار ہوگئے جس کا خمیازہ ناقص کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا۔
محمد الیاس نے کہا کہ کپتان حفیظ سے استعفیٰ لے کر جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا، اس سے بہتری کے بجائے ٹیم کا مزید نقصان ہی ہوگا، میگا ایونٹ میں جوہونا تھا ہوگیا، بہتر ہوتا کہ ایک،2ماہ تک حالات کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کے حوالے سے فیصلے کیے جاتے۔ انھوں نے کہا کہ محمد حفیظ کو کپتانی سے ہٹا کر عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی،میرا پی سی بی سے سوال ہے کیا اس فیصلے سے قومی ٹیم کی پرفارمنس بہتر ہو جائے گی؟۔ ایک سوال پر محمد الیاس نے کہا کہ راشد لطیف سچے اور کھرے انسان ہیں، انھوں نے چیف سلیکٹر بننے سے اس لیے انکارکیا کیونکہ چیئرمین بورڈ سلیکشن کمیٹی میں اپنے من پسند افراد چاہتے تھے۔
ورلڈ ٹی 20 کے بعد محمد حفیظ سے استعفیٰ لے کرجلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا، اس سے بہتری کے بجائے ٹیم کا مزید نقصان ہی ہوگا۔راشد لطیف سچے اور کھرے انسان ہیں، بورڈ چیئرمین سلیکشن کمیٹی میں اپنے من پسند افراد رکھنا چاہتے تھے،اسی لیے راشد نے عہدہ قبول نہ کیا۔ گذشتہ روز نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے محمد الیاس نے کہا کہ چند پی سی بی عہدیدار اب ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو مختلف محکموں میں کام کرنے والے کرکٹرز بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی20 کے دوران چیئرمین نجم سیٹھی نے بنگلہ دیش جا کرکھلاڑیوں کا مورال ڈاؤن کیا،ان کے بعض قبل از وقت بیانات کی وجہ سے کھلاڑی دباؤ کا شکار ہوگئے جس کا خمیازہ ناقص کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا۔
محمد الیاس نے کہا کہ کپتان حفیظ سے استعفیٰ لے کر جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا، اس سے بہتری کے بجائے ٹیم کا مزید نقصان ہی ہوگا، میگا ایونٹ میں جوہونا تھا ہوگیا، بہتر ہوتا کہ ایک،2ماہ تک حالات کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کے حوالے سے فیصلے کیے جاتے۔ انھوں نے کہا کہ محمد حفیظ کو کپتانی سے ہٹا کر عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی،میرا پی سی بی سے سوال ہے کیا اس فیصلے سے قومی ٹیم کی پرفارمنس بہتر ہو جائے گی؟۔ ایک سوال پر محمد الیاس نے کہا کہ راشد لطیف سچے اور کھرے انسان ہیں، انھوں نے چیف سلیکٹر بننے سے اس لیے انکارکیا کیونکہ چیئرمین بورڈ سلیکشن کمیٹی میں اپنے من پسند افراد چاہتے تھے۔