اردو کے لیے ’بین الاقوامی تعلقات‘ کے دَر کھلنے چاہئیں

ہم عالمی سطح پر اپنی زبان کو بڑھاوا نہیں دے رہے، تو رکاوٹیں بھی نہ ڈالیں

فوٹو : فائل

اردو ایک ایسی زبان ہے، جس کی تاریخ قدیم اور دل چسپ ہے۔ اردو زبان کو 'خط نستعلیق' میں لکھا جاتا ہے۔

اس زبان میں فارسی اور عربی وغیرہ کے الفاظ بھی نظر آتے ہیں۔ ماضی میں کئی جگہوں پر اس زبان کو 'ریختہ' بھی کہا جاتا تھا، اردو ہندوستان کے گلی کوچوں کی زبان تھی، مگر پھر فورٹ ولیم کالج کے وسیلے یہ بلند پایہ ادب کی زبان بھی بن گئی۔

تاریخ تو اس بات کی بھی گواہ ہے کہ برطانوی افسران نے اپنے دور حکومت میں برصغیر میں آ کر اس زبان کو بولنا سیکھا۔ وہ قوم جو بین الاقوامی سطح پر طاقت ور سمجھی جاتی تھی، برصغیر میں آ کر یہ زبان سیکھنے لگی۔ آج بھی مختلف ممالک میں لوگ اردو بولتے ہیں۔

چند برس پیش تر جب میرا دبئی جانا ہوا۔ وہاں یہ امید تو نہیں تھی کہ میں وہاں اپنی قومی زبان بول پاؤں گی، لیکن معلوم ہوا کہ برصغیر سے دبئی گئے ہوئے لوگ وہاں بھی ہماری اِس زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر سکون کا احساس ہوا اور میں نے بھی وہاں اردو زبان میں بات کی، جو بے شک میرے لیے رابطے کا آسان ذریعہ بھی تھی۔

یادداشت صحیح ساتھ دے تو یاد آتا ہے کہ جماعت دہم میں ہم لوگوں نے ابن انشا کا ایک سفرنامہ پڑھا تھا، جس میں ابن انشا نے چین کے دورے کے بارے میں لکھا۔ اس سفرنامے میں عمدہ اور دل چسپ بات یہ تھی کہ ابن انشا نے اس یونیورسٹی کے بارے میں لکھا، جو چین کے طلبا و طالبات کو اردو زبان سکھاتی تھی۔

ابن انشا بتاتے ہیں کہ وہاں لوگ اردو زبان بھلے ٹوٹی پھوٹی بولا کرتے تھے، لیکن خالص بولا کرتے تھے۔ ان کی زبان میں جو خلوص تھا، وہ شاید ہماری قوم میں بھی نہ ہو۔ ان تمام باتوں سے ایک امید سی دل میں اٹھتی ہے کہ اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینا کوئی ناممکن تو نہیں ہے۔ اردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے۔

عموماً تو ہمیں اس زبان کو بڑے فخر کے ساتھ بولنا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کو اردو زبان میں مضامین کا انتخاب کرنے پر سراہنا چاہیے، مگر افسوس کہ پاکستان کا ماحول اس کا بالکل الٹ نظارہ دکھاتا ہے۔

آج کے نوجوانوں کو اردو زبان نہ تو صحیح سے بولنے آتی ہے نہ ہی لکھنے۔ لوگ اپنی قومی زبان کی جگہ باہر کی زبان انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر خود کو ایک عظیم ہستی تصور کرتے ہیں۔

جسے انگریزی زبان سمجھ میں نہ آتی ہو تو اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور نہ جانے کیا کیا بے وقوفانہ یا غلامی کی سوچ ہمارے سامنے آتی ہے۔ جو اس جملے کو مکمل طور پر حقیقت بنا دیتی ہیںکہ ''انگریز تو چلے گئے، مگر اپنا اثر یہاں چھوڑ گئے!''

میں 'بین الاقوامی تعلقات' کی ایک طالبہ ہوں اور بات جب بین الاقوامی تعلقات پر آتی ہے، تو آپ بین الاقوامی سطح کو تو بھول ہی جائیے۔ ہمیں تو اس شعبے میں آگے پڑھنے ہی اس شرط پر دیا جاتا ہے کہ ہم انگریزی زبان میں مہارت حاصل کریں اور اردو زبان کی الف، ب کو یک سر فراموش کردیں۔

جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آخر اردو کیوں استعمال نہ کریں؟ تو جواب میں ایک ہی نقطہ زیربحث رکھ دیا جاتا ہے کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس سطح پر کوئی اردو نہیں بولتا۔ یہ نکتہ تو وزن رکھتا ہے جناب، لیکن اگر آپ قوم کی بنیاد میں ہی اپنی قومی زبان کا استعمال ختم کرنے اور غیروں کی زبان استعمال کرنے پر زور دیں گے، تو کہاں ہماری قومیت اور زبان کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا؟ جب قوم ہی اپنی زبان کو بھلا بیٹھے گی، تو باہر کے ممالک کس طرح اس کو قبول کریں گے؟

قوم کی مضبوطی اس کی زبان میں جھلکتی ہے اور زبان ہی ایک قوم میں اتحاد پیدا کرتی ہے۔ کئی ممالک اپنی زبان دوستی کی وجہ ہی سے شہرت اور ترقی حاصل کر جاتے ہیں۔ میرے نانا جان نے ایک بار اپنی زندگی کا ایک قصہ سنایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب کسی کام کی وجہ سے وہ جاپان گئے اور وہاں کچھ وقت کے لیے رہائش اختیار کی، تو معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ اس قدر زبان پرست ہیں کہ اگر ان سے جاپانی میں بات نا کرو تو سیدھے منہ جواب بھی نہ دیں۔

یہاں تک کہ جس ہوٹل میں ان کی رہائش تھی، وہاں کام کرنے والے ان کے کمرے کی چابی اس شرط پر دیتے کہ کچھ نمبروں کو انھیں جاپانی زبان میں بتانا پڑتا تھا۔ یعنی اگر ہمیں ان کی زبان نہ آتی ہو تو وہاں زندگی بہت مشکل ہے۔ قومیں تو اور بہت سی ایسی ہیں، جو زبان پرستی کی وجہ سے اپنی قومی زبان کو 'اقوام متحدہ' میں لاسکیں۔

غرض یہ کہوں گی کہ ہار مان کر آخر آپ انگریزی زبان کا جام پی لینے کے بہ جائے اگر قوم کے بیج ہی اپنی زبان سے محبت کی کھاد میں بوئیں، تو اردو زبان کو بین الاقوامی زبان بننے میں دیر نہیں لگے گی، لیکن زبان پرستی کی بھی حدود ہونی چاہیں کہ انسان کسی دوسری زبان بولنے والے کو حقیر نہ سمجھے۔ بات جب حقارت پر آتی ہے، تو میری نظر میں وہ تمام قومیں بین الاقوامی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں جو اپنی قومی زبان کو فخر سے استعمال کرتی ہیں۔

جب کہ ان ممالک کا کچھ خاص مقام نہیں، جو غیر کی زبان کو اتنی آسانی سے اپنا لیتے ہیں، بلکہ یہ تو ایک غلامی سی محسوس ہوتی ہے کہ اپنی زبان ہوتے ہوئے بھی اس قوم کی زبان بولی جائے جس کی غلامی سے ہمارے بزرگوں نے اتنی قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی۔


جب اردو اور ہندی کی تفرق پڑی اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں اس حوالے سے تنازعات بڑھ گئے، تو خدا جانے کتنے مسلمانوں کو اس رنجش کا سامنا کرنا پڑا کہ ہندو ان کی زبان کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں اور ان کی زبان کو اہمیت نہیں دی جا رہی، مگر آج تو ماجرا کچھ اور ہی ہے۔ اسی اردو زبان کو سرکاری زبان کا عہدہ بھی نصیب نہ ہوا اور ادب کی یہ زبان اب مستقبل میں دوبارہ پس منظر میں جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ تو بالکل نہیں کہا جا سکتا کہ تمام لوگ ہی اس زبان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کئی طلبا و طالبات نے اپنی تعلیم میں اردو زبان کا انتخاب کیا اور اب تک کرتے آ رہے ہیں۔

اب آپ سوچیں گے کہ ان طلبا وطالبات کے انتخاب نے ملک پر کیا اثر چھوڑا ہے؟ کہاں غائب ہو جاتے ہیں پھر یہ قومی زبان بولنے والے؟ زبان کے حوالے سے عام سوچ میں کوئی تبدیلی کیوں نہیں لاتے؟ تو چلیے جی! ان کی کہانی بھی آپ کو سنائے دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات جیسے مضمون میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ یہ غائب ہی ہو جاتے ہیں۔

وہ طالب علم جو اپنی تعلیم کو اردو میں جاری رکھتے ہیں، عموماً طعنے اور اعتراضات کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ 'بی اے' تک اردو میڈیم میں پڑھ کر پہنچ جائیں اور بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم کو منتخب کریں، تو سارا مسئلہ ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے۔

انھیں اپنی قومی زبان میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس بنا پر مکمل طور پر ان کی وجوہات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اردو زبان کسی طرح سے ان کی مدد نہیں کرے گی۔ اب شاگرد انگریزی میں پڑھنے کی کوشش تو لگاتار کرتا ہے، مگر اردو میڈیم میں پڑھنے کے باعث ان طالب علموں کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر جب استاد پورا لیکچر انگریزی میں دیتا ہے، تو کم ہی ان طالب علموں کی سمجھ میں آتا ہے۔

اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں ہے کہ یہ طالب علم نالائق ہیں یا پڑھائی میں کمزور ہیں، کیوں کہ کچھ ایسے طالب علم بھی ہوتے ہیں، جن کے پاس بلا کی عقل مندی اور علم ہوتا ہے، مگر اردو زبان میں پڑھنے کی وجہ سے یہ انگریزی زبان میں اپنا سو فی صد نہیں دے پاتے۔ جب ان سے سوال پوچھا جائے تو یہ مکمل طور پر جواب نہیں دے پاتے کیوں کہ ان کے لیے رابطے کا ذریعہ دشوار کر دیا جاتا ہے۔

ذرا سوچیے کہ اگر یہی طالب علم اردو میں اس مضمون کو پڑھیں، تو ان کا ذہن براق سا تیز دوڑے گا۔ پھر یہی طالب علم استاد کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے نہ صرف ہاتھ کھڑا کریں گے، بلکہ ایسے جوابات دیں گے کہ استاد بھی خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوگا۔

یہ حقیقت ہے کہ ہماری قوم میں ایسے ہیروں کی پیدائش ہوتی ہے، جو نہایت عقل مند ہوتے ہیں اور سیاست کو بہت اچھے سے سمجھتے ہیں پر افسوس کا مقام ہے کہ صرف اردو زبان اختیار کرنے کی وجہ سے ان ہیروں کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔

گرتے پڑتے یہ عمدہ کارکردگی سے تعلیم حاصل کر بھی جائیں، تو پھر نوکری کے لیے در بہ در بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اچھے عہدے پر نوکری ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے اور ہر اچھی تنخواہ والی نوکری انگریزی زبان کی آرتی اتارتی دکھائی دیتی یے۔ ہماری قوم نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں اپنی ہی قومی زبان بولنے والوں کے لیے ترقی کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ یہاں دماغ اور قابلیت سے انگریزی زبان جیت جاتی ہے۔

اب اگر ہم یہ سارا ماجرا الٹ کر کے دیکھیں تو دیکھیے کہ ہماری قوم کتنی ترقی کرے گی۔ مثال کے طور پر اگر ان اردو زبان بولنے والے ہیروں کو بین الاقوامی تعلقات میں وہ تمام سہولتیں مل جائیں، جو انگریزی زبان بولنے والے طالب علموں کو ملتی ہیں، نہ جانے یہ کیا کیا نہ کر بیٹھیں۔ یہی طالب علم جب اپنا عہدہ بین الاقوامی سطح پر سنبھالیں گے، تو کس قدر اپنی زبان کو فروغ دیں گے اور یہی طالب علم اپنی مکمل تعلیم کی بدولت قوم کے مختلف عہدے سنبھال کر قوم کو بلندیوں تک لے کر جائیں گے اور اگر انھی ریختہ زبان کے ہیروں میں سے کوئی ایک ملک کا حکمران بن جائے، تو قومی زبان کو نئی بلندی حاصل ہو سکتی ہے۔

جب ان طالب علموں کے لیے ہر نوکری کے دروازے کھول دیے جائیں گے، تو نہ صرف ان طالب علموں کو فائدہ ہوگا، بلکہ ان کی قابلیت سے پوری قوم کو فائدہ ہوگا، قومی زبان ایک قوم کے لیے رابطہ آسان کرتی ہے۔ انسان اپنی قومی زبان میں وہ باتیں بھی سمجھا سکتا ہے، جو شاید دوسری زبان میں سمجھ نہ آئیں۔ اگر اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر استعمال کیا جائے، تو پاکستان شاید اپنی بولنے اور سیاست کو سمجھنے کی قابلیت سے سب کو حیران کر جائے۔

جب اردو میڈیم میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کو اپنی قومی زبان کے استعمال کرنے کی آزادی حاصل ہو گی، تو وہ اپنی ہر بات کو زیادہ اچھی طرح سے واضح کر پائیں گے۔ اگر اردو میڈیم میں 'بین الاقوامی تعلقات' پڑھنے والے آگے جا کر اپنی زبان کا استعمال کریں گے، تو نہ صرف اس سے زبان کو بلکہ قومیت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

ذرایع اِبلاغ میں اردو تقاریر کی جائیں گی، جو کہ پوری قوم پر اثرانداز ہوں گی اور آہستہ آہستہ نوجوان بھی اردو کے صحیح تلفظ سیکھنے اور بولنے لگیں گے۔ اگر پوری قوم اردو زبان کو فروغ دینے لگ جائے، تو پاکستان کی اتحادی قوت اور مضبوطی کا شاید ہی کوئی اندازہ لگا سکتا ہے۔ زبان نہ صرف ایک رابطے کا ذریعہ ہوتی ہے، بلکہ قوم کی شناخت ہوتی ہے، ان کی پہچان ہوتی ہے، ان کی شان وآبرو ہوتی ہے۔

پوری دنیا میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں، سب اپنی زبان سے پہچانی جاتی ہیں۔ ہاں! صورت بھی قوم کی کچھ حد تک شناخت کرتی ہے، مگر زیادہ تر زبان سیے کسی شخص کو پہچانا جاتا ہے کہ وہ روسی ہے یا جاپانی، بنگالی ہے یا انگلستانی، عرب کا رہنے والا ہے یا چین کا۔ تمام قومیں اپنی زبان اور اپنے بولنے کے انداز ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔

اگر ہم بین الااقوامی سطح پر اپنی زبان کو مقبول نہ کروائیں، تو ہماری پہچان کیا ہو گی؟ کیا ہم فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک زندہ و پائندہ قوم ہیں؟ جی نہیں! قوم صرف ایک عقیدہ رکھنے والوں کا نام نہیں، بلکہ ایک زبان کا علم رکھنا بھی ایک قوم کی نشانی ہے، کیوں کہ زبان ہی قوم میں اتحاد پیدا کرتی ہے۔

جب ہم زبان ہی غیر کی استعمال کریں گے، تو کس بنیاد پر ہم خود کو ایک آزاد قوم کہہ سکیں گے؟ مختصراً یہ کہوں گی کہ اگر ہم خود اپنی قومی زبان کو بھو ل بیٹھے ہیں تو کم از کم ان پر تو پابندیاں نہ لگائی جائیں، جو ہماری قومی زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آزادی کی شمع ساتھ لیے ہوئے ہیں کیوں کہ انھوں نے غلامی جیسی سوچ کو اپنا کر انگریزی زبان کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور یہی لوگ ہی قومی اعتبار سے تبدیلی لا سکتے ہیں۔
Load Next Story