نئی حج پالیسی کا اعلان
وزارت مذہبی امور کی طرف سے حج پالیسی 2014ء کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
رواں سال ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی فریضہ حج ادا کرینگے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
وزارت مذہبی امور کی طرف سے حج پالیسی 2014ء کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ رواں سال ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی فریضہ حج ادا کرینگے، ان میں سے چھپن ہزار سرکاری اسکیم جب کہ چھیاسی ہزار پرائیویٹ اسکیم کے تحت حجاز مقدس جائیں گے۔ رواں سال سرکاری حج اسکیم کے لیے ایک ہی کٹیگری رکھی گئی ہے۔ کوئٹہ، کراچی اور سکھر سے دو لاکھ باسٹھ ہزار روپے جب کہ دیگر شہروں سے دو لاکھ بہتر ہزار روپے کا پیکیج مختص کیا گیا ہے۔ اس رقم میں آنے جانے کا فضائی کرایہ اور وہاں قیام کے اخراجات شامل ہوں گے البتہ قربانی حجاج کرام کو اپنے خرچے سے کرنی پڑے گی۔ گزشتہ سال بھارت نے مسلمانوں کے حج پر جانے کے لیے انھیں ہوائی کرایہ میں پچاس فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا تھا جب کہ ہمارے یہاں حج کے موقع پر کرایہ میں الٹا اضافہ ہو جاتا ہے۔
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے حج پالیسی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستیں رواں ماہ21 اپریل سے بینکوں کے ذریعے وصول کی جائیں گی جن کی منظوری پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد پر دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ قربانی حجاج خود کر سکیں گے جس کے لیے انھیں اسلامی بینک میں ساڑھے چودہ ہزار روپے جمع کرانے ہونگے۔ واضح رہے رواں سال کسی نئے ٹور آپریٹر کو حج کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا تاہم پانچ ہزار کا کوٹہ ہارڈ شپ کیسز کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ سردار یوسف نے بتایا کہ تمام عازمین حج مخصوص فضائی کمپنیوں کے ذریعے حجاز مقدس جا سکیں گے۔ شمالی زون سے حج کرایہ ایک لاکھ سات ہزار سات سو جب کہ جنوبی زون سے حج کرایہ ستانوے ہزار سات سو روپے مقرر کیا گیا ہے۔
سرکاری اسکیم کے تحت حجاج کی نصف تعداد براہ راست مدینہ منورہ جا سکے گی۔ جو حاجی دوران حج انتقال کر جائیں گے ان کے لواحقین کو رواں سال وزارت کی طرف سے 5 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ گزشتہ 5 سال کے دوران حج ادا کرنیوالے شخص کو رواں سال حج پر نہیں بھجوایا جائے گا تاہم محرم اور حج بدل کرنیوالے اس شرط سے مستثنیٰ ہونگے۔ سردار یوسف نے مزید بتایا کہ رواں سال کسی شخص کو بھی مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔ یہ اچھا فیصلہ ہے' دینی فرض کی ادائیگی دین کے تقاضوں اور اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کو حجاج کرام کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ ہر سال حج کے موقع پر بدانتظامی کی خبریں آتی ہیں' اس بار ان کا تدارک ہونا چاہیے۔
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے حج پالیسی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستیں رواں ماہ21 اپریل سے بینکوں کے ذریعے وصول کی جائیں گی جن کی منظوری پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد پر دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ قربانی حجاج خود کر سکیں گے جس کے لیے انھیں اسلامی بینک میں ساڑھے چودہ ہزار روپے جمع کرانے ہونگے۔ واضح رہے رواں سال کسی نئے ٹور آپریٹر کو حج کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا تاہم پانچ ہزار کا کوٹہ ہارڈ شپ کیسز کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ سردار یوسف نے بتایا کہ تمام عازمین حج مخصوص فضائی کمپنیوں کے ذریعے حجاز مقدس جا سکیں گے۔ شمالی زون سے حج کرایہ ایک لاکھ سات ہزار سات سو جب کہ جنوبی زون سے حج کرایہ ستانوے ہزار سات سو روپے مقرر کیا گیا ہے۔
سرکاری اسکیم کے تحت حجاج کی نصف تعداد براہ راست مدینہ منورہ جا سکے گی۔ جو حاجی دوران حج انتقال کر جائیں گے ان کے لواحقین کو رواں سال وزارت کی طرف سے 5 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ گزشتہ 5 سال کے دوران حج ادا کرنیوالے شخص کو رواں سال حج پر نہیں بھجوایا جائے گا تاہم محرم اور حج بدل کرنیوالے اس شرط سے مستثنیٰ ہونگے۔ سردار یوسف نے مزید بتایا کہ رواں سال کسی شخص کو بھی مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔ یہ اچھا فیصلہ ہے' دینی فرض کی ادائیگی دین کے تقاضوں اور اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کو حجاج کرام کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ ہر سال حج کے موقع پر بدانتظامی کی خبریں آتی ہیں' اس بار ان کا تدارک ہونا چاہیے۔