آرمی چیف کو ایمرجنسی لگانے کا اختیار نہیںسپریم کورٹ مشرف کی نظرثانی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری
3نومبر کا اقدام غیرآئینی تھا، مشرف نے 12اکتوبرکوبھی آئین توڑا، پی سی او جاری کیا اور غیرقانونی صدر بنے، عدالت
اپیل1576روزکی تاخیر سے دائر کی،عدالت نے انکے ٹرائل کی ہدایت نہیں کی، فیصلہ چیف جسٹس نے تحریرکیا، تعصب کا الزام مشرف پر صادق آتا ہے،جسٹس جواد کا اضافی نوٹ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے پی سی او کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کیخلاف پرویز مشرف کی نظرثانی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
جس میں قرار دیا گیا ہے کہ کہ آئین میں آرمی چیف کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی اختیار نہیں، فیصلہ چیف جسٹس تصدق جیلانی نے تحریر کیا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کیخلاف جانبداری اور تعصب کے الزامات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے سنگین غداری کا مقدمہ متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اس میں آرٹیکل6کے موثر بہ ماضی یا موثر بہ مستقبل ہونے کے متعلق کوئی آبزرویشن نہیں دی گئی بلکہ بار بار آئین کو معطل کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ ماضی سے نکل کر اب ہمیں مستقبل میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف جانا چاہیے۔ عدالت نے 31جولائی 2009کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ملک میں بار بار آئین توڑا گیا ،پرویز مشرف نے پہلے 12اکتوبر1999کو آئین توڑا، پی سی او جاری کیا اور غیر قانونی طور پر صدر کا عہدہ سنبھالا، 3نومبر 2007کو پھر آئین توڑا، ایمرجنسی نافذ کی، پی سی او جاری کیا جس کے نتیجے میں61ججز کو معزول ہونا پڑا۔ عدلیہ کوتباہی سے بچانے کے لیے آئینی چیف جسٹس کی سربراہی میں7 رکنی بینچ نے ایک حکم جاری کیا جس میں صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف کو کوئی غیر آئینی اقدام سے روکا گیا جبکہ ججوں کو کہا گیا کہ وہ کسی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھائیں۔
فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد کہیں پر بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے متعصب ہونے کا تاثر نہیں ابھرتا۔ زیر غور فیصلے پر ایک بار نظر ثانی ہوچکی ہے اور موجودہ درخواست گزار کی درخواست 1576دن زائد المیعاد ہے، فیصلہ درخواست گزار کے علم میں تھا اور دوران سماعت انھیں نوٹس بھی جاری کیا گیا، ان سارے حقائق کے باجود انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی درخواست پر سماعت کی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین میں آرمی چیف کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی اختیار نہیں ،پرویز مشرف کے وکیل کے اس اعتراف نے مقدمے کو مزید کمزور کردیا ہے کہ 3نومبر کا اقدام انھوں نے آرمی چیف کی حیثیت سے اپنی صوابدید پر کیا ، 31جولائی کے فیصلے سے ملک میں آئینی انحراف اور فوجی حکومت کے تصور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سابق چیف جسٹس پر تعصب کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ دیکھا جائے تو پرویز مشرف نے انھیں اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر ججوں کو دو مرتبہ غیر آئینی طور پر آئینی فرائض ادا کرنے سے روکا۔ انکے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرویز مشرف سابق چیف جسٹس کے خلاف تعصب رکھتے تھے نہ کہ سابق چیف جسٹس کی پرویز مشرف کے خلاف متعصبانہ سوچ تھی۔اے پی پی کے مطابق عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی نافذ کر کے غیر آئینی اقدام کیا۔
سپریم کورٹ کے7 رکنی بینچ نے ججز اور انتظامیہ کو غیر آئینی اقدامات ماننے سے بازرہنے کا حکم جاری کیاجس کے بعد رجسٹرار نے ججوں کو عدالتی حکم سے مطلع کیا، عدالت نے اپنے شارٹ آرڈر میں واضح کیاتھا کہ عدالتی فیصلے کاجائزہ لینے کے دوران اس میں کہیں بھی تعصب کی رمق تک نظر نہیں آئی۔ این این آئی کے مطابق تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کی یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ سابق چیف جسٹس کے متعصب ہونے کی وجہ سے بروقت نظر ثانی درخواست دائر نہیں کرسکے ، عدالت نے سابق فوجی سربراہ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی حکومتی یقین دہانی پر مقدمہ نمٹا دیا گیا تھا، اگر عدالت ان کے حوالے سے کوئی تعصب رکھتی تو اس حوالے سے کوئی ہدایت دے سکتی تھی اور جس بینچ نے یہ مقدمہ نمٹایا سابق چیف جسٹس اس کا حصہ ہی نہیں تھے، پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوکر یہ مؤقف اپنا سکتے تھے کہ افتخار محمد چوہدری ان کے مقدمے کی سماعت نہ کریں یا پھر 31 جولائی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردیتے۔ جسٹس جواد خواجہ نے الگ نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ تعصب اور جانبداری کا الزام سابق چیف جسٹس کے بجائے پرویز مشرف پر صادق آتا ہے۔
پرویز مشرف نے خود بطور سپہ سالار ایمرجنسی نافذ کی اور کسی سلطانی فرمان کی طرح اِس کا اعلان کیا ۔ اس''سلطانی فرمان '' کا متن ہی انکی آمرانہ سوچ کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ان کو شائد مسلح افواج میں اپنی طویل ملازمت کی بنا پر احکام کے خلاف مزاحمت سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، شاید انھیں اپنے ذہن میں ایسا لگا ہو کہ عدلیہ بشمول سابق چیف جسٹس انکے بعض غیر آئینی اقدامات کیخلاف مزاحمت کرکے اپنے تعصب کو ظاہر کر رہے ہیں، شائد انھیں خیال ہی نہ آیا ہو کہ عدالت اور جج صاحبان تو صرف اس آئین کے مطابق ہی فیصلے کر رہے تھے جس میں سپہ سالار کے لیے کوئی ایسے اختیارات تفویض نہیں کیے گئے جو سائل نے غصب کر لیے۔ جج تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں لیکن اپنی تربیت کی بناء پر وہ اپنے فیصلے کو اس سے متاثر نہیں ہونے دیتے اور انصاف پر مبنی فیصلے دیتے ہیں، موجودہ درخواست میں تو حقیقی تعصب کی بنیاد تک موجود نہیں، اس کے برعکس سابق چیف جسٹس کے روّیے میں ایک باوقار تحمل دیکھنے میںآتا ہے۔
جس میں قرار دیا گیا ہے کہ کہ آئین میں آرمی چیف کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی اختیار نہیں، فیصلہ چیف جسٹس تصدق جیلانی نے تحریر کیا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کیخلاف جانبداری اور تعصب کے الزامات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے سنگین غداری کا مقدمہ متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اس میں آرٹیکل6کے موثر بہ ماضی یا موثر بہ مستقبل ہونے کے متعلق کوئی آبزرویشن نہیں دی گئی بلکہ بار بار آئین کو معطل کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ ماضی سے نکل کر اب ہمیں مستقبل میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف جانا چاہیے۔ عدالت نے 31جولائی 2009کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ملک میں بار بار آئین توڑا گیا ،پرویز مشرف نے پہلے 12اکتوبر1999کو آئین توڑا، پی سی او جاری کیا اور غیر قانونی طور پر صدر کا عہدہ سنبھالا، 3نومبر 2007کو پھر آئین توڑا، ایمرجنسی نافذ کی، پی سی او جاری کیا جس کے نتیجے میں61ججز کو معزول ہونا پڑا۔ عدلیہ کوتباہی سے بچانے کے لیے آئینی چیف جسٹس کی سربراہی میں7 رکنی بینچ نے ایک حکم جاری کیا جس میں صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف کو کوئی غیر آئینی اقدام سے روکا گیا جبکہ ججوں کو کہا گیا کہ وہ کسی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھائیں۔
فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد کہیں پر بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے متعصب ہونے کا تاثر نہیں ابھرتا۔ زیر غور فیصلے پر ایک بار نظر ثانی ہوچکی ہے اور موجودہ درخواست گزار کی درخواست 1576دن زائد المیعاد ہے، فیصلہ درخواست گزار کے علم میں تھا اور دوران سماعت انھیں نوٹس بھی جاری کیا گیا، ان سارے حقائق کے باجود انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی درخواست پر سماعت کی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین میں آرمی چیف کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی اختیار نہیں ،پرویز مشرف کے وکیل کے اس اعتراف نے مقدمے کو مزید کمزور کردیا ہے کہ 3نومبر کا اقدام انھوں نے آرمی چیف کی حیثیت سے اپنی صوابدید پر کیا ، 31جولائی کے فیصلے سے ملک میں آئینی انحراف اور فوجی حکومت کے تصور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سابق چیف جسٹس پر تعصب کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ دیکھا جائے تو پرویز مشرف نے انھیں اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر ججوں کو دو مرتبہ غیر آئینی طور پر آئینی فرائض ادا کرنے سے روکا۔ انکے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرویز مشرف سابق چیف جسٹس کے خلاف تعصب رکھتے تھے نہ کہ سابق چیف جسٹس کی پرویز مشرف کے خلاف متعصبانہ سوچ تھی۔اے پی پی کے مطابق عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی نافذ کر کے غیر آئینی اقدام کیا۔
سپریم کورٹ کے7 رکنی بینچ نے ججز اور انتظامیہ کو غیر آئینی اقدامات ماننے سے بازرہنے کا حکم جاری کیاجس کے بعد رجسٹرار نے ججوں کو عدالتی حکم سے مطلع کیا، عدالت نے اپنے شارٹ آرڈر میں واضح کیاتھا کہ عدالتی فیصلے کاجائزہ لینے کے دوران اس میں کہیں بھی تعصب کی رمق تک نظر نہیں آئی۔ این این آئی کے مطابق تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کی یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ سابق چیف جسٹس کے متعصب ہونے کی وجہ سے بروقت نظر ثانی درخواست دائر نہیں کرسکے ، عدالت نے سابق فوجی سربراہ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی حکومتی یقین دہانی پر مقدمہ نمٹا دیا گیا تھا، اگر عدالت ان کے حوالے سے کوئی تعصب رکھتی تو اس حوالے سے کوئی ہدایت دے سکتی تھی اور جس بینچ نے یہ مقدمہ نمٹایا سابق چیف جسٹس اس کا حصہ ہی نہیں تھے، پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوکر یہ مؤقف اپنا سکتے تھے کہ افتخار محمد چوہدری ان کے مقدمے کی سماعت نہ کریں یا پھر 31 جولائی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردیتے۔ جسٹس جواد خواجہ نے الگ نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ تعصب اور جانبداری کا الزام سابق چیف جسٹس کے بجائے پرویز مشرف پر صادق آتا ہے۔
پرویز مشرف نے خود بطور سپہ سالار ایمرجنسی نافذ کی اور کسی سلطانی فرمان کی طرح اِس کا اعلان کیا ۔ اس''سلطانی فرمان '' کا متن ہی انکی آمرانہ سوچ کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ان کو شائد مسلح افواج میں اپنی طویل ملازمت کی بنا پر احکام کے خلاف مزاحمت سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، شاید انھیں اپنے ذہن میں ایسا لگا ہو کہ عدلیہ بشمول سابق چیف جسٹس انکے بعض غیر آئینی اقدامات کیخلاف مزاحمت کرکے اپنے تعصب کو ظاہر کر رہے ہیں، شائد انھیں خیال ہی نہ آیا ہو کہ عدالت اور جج صاحبان تو صرف اس آئین کے مطابق ہی فیصلے کر رہے تھے جس میں سپہ سالار کے لیے کوئی ایسے اختیارات تفویض نہیں کیے گئے جو سائل نے غصب کر لیے۔ جج تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں لیکن اپنی تربیت کی بناء پر وہ اپنے فیصلے کو اس سے متاثر نہیں ہونے دیتے اور انصاف پر مبنی فیصلے دیتے ہیں، موجودہ درخواست میں تو حقیقی تعصب کی بنیاد تک موجود نہیں، اس کے برعکس سابق چیف جسٹس کے روّیے میں ایک باوقار تحمل دیکھنے میںآتا ہے۔